حسن رضا کب دن پھریں گے دل کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تسنیم کوثر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 26, 2013

  1. ابو المیزاب اویس

    ابو المیزاب اویس محفلین

    مراسلے:
    365
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    محترم منیب احمد فاتح صاحب ،، آپ کی رائے|تبصرہ|تجزیہ سر آنکھوں پر، ، میں خود تو کچھ بھی نہیں حتیٰ کہ طفلِ مکتب بھی نہیں،، اپنی فہم اور سوچ کے مطابق کچھ اشعار پیش کئے ہیں، پورا دیوان آپ ملاحظہ فرمائیں :) ایک کلام پیشِ خدمت ہے،،
    حضور کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
    بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوری پر ہے

    نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ قابل منہ دکھانے کے
    مگر ان کا کرم ذرہ نواز و بندہ پرور ہے

    خبر کیا ہے بھکاری کیا کیا نعمتیں پائیں
    یہ اونچا گھر ہے اس کی بھیک اندازہ سے باہر ہے

    تصدق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گرد پھر پھر کر
    طواف خانہء کعبہ عجب دلچسپ منظر ہے

    خدا کی شان یہ لب اور بوسہ سنگ اسود کا
    ہمارا منہ اور اس قابل عطائے رب اکبر ہے

    جو ہیبت سے رکے مجرم تو رحمت نے کہا بڑھ کر
    چلے آؤ چلے آؤ یہ گھر رحمٰن کا گھر ہے

    مقام حضرت خلت پدرساں مہرباں پایا
    کلیجہ سے لگانے کو حطیم آغوش مادر ہے

    لگاتا ہے کوئی غلاف پاک چشم پرنم سے
    لپٹ کر ملتزم سے کوئی محو وصل دلبر ہے

    وطن اور اس کا تڑکہ صدقے اس شام غریبی پر
    کہ نور رکن شامی روکش صبح منور ہے

    ہوئے ایمانی تازہ بوسہء رکن ایمانی سے
    فدا ہو جاؤں یمن و ایمنی کا پاک منظر ہے

    یہ زمزم اس لئے ہے جس لئے اس کو پئے کوئی
    اسی زمزم میں جنت ہے اسی زمزم میں کوثر ہے

    شفا کیوں کر نہ پائیں نیم جاں زہر معاصی سے
    کہ نظارہ عراقی رکن کا تریاق اکبر ہے

    صفائے قلب کے جلوے عیاں ہیں سعی مسعٰی سے
    یہاں کی بے قراری بھی سکون جان مضطر ہے

    ہوا ہے پیر کا حج پیر نے جن سے شرف پایا
    انھیں کے فضل سے دن ہر جمعہ کا ہر دن سے بہتر ہے

    نہیں کچھ جمعہ پر موقوف افضال و کرم ان کا
    جو وہ مقبول فرما لیں تو ہر حج حج اکبر ہے

    حسن حج کر لیا کعبہ سے آنکھوں نے ضیاء پائی
    چلو دیکھیں وہ بستی جس کا رستہ دل کے اندر ہے

    سحر چمکی جمال فصل گل آرائشوں پر ہے
    نسیم روح پرور سے مشام جاں معطر ہے

    قریب طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا
    مرا دل ہے مدینہ میں مدینہ دل کے اندر ہے

    ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیں
    قدم ان کے گنہگاروں کا ایسی سر زمیں پر ہے

    ارے او سونے والے دل ارے سونے والے دل
    سحر ہے جاگ غافل دیکھ تو عالم منور ہے

    سہانی طرز کی طلعت نرالی رنگ کی نکہت
    نسیم صبح سے مہکا ہوا پرنور منظر ہے

    تعالٰی اللہ یہ شادابی یہ رنگینی تعالٰی اللہ
    بہار ہشت جنت دشت طیبہ پر نچھاور ہے

    ہوائیں آ رہی ہیں کوچہء پرنور جاناں کی
    کھلی جاتی ہیں کلیاں تازگی دل کو میسر ہے

    منور چشم زائر ہے جمال عرش اعظم سے
    نظر میں سبز قبہ کی تجلی جلوہ گستر ہے

    یہ رفعت درگہ عرش آستاں کے قرب سے پائی
    کہ ہر ہر سانس ہر ہر گام پر معراج دیگر ہے

    محرم کی نویں تاریخ بارہ منزلیں کر کے
    وہاں پہنچے وہ گھر دیکھا جو گھر اللہ کا گھر ہے

    نہ پوچھو ہم کہاں پہنچے اور ان آنکھوں نے کیا دیکھا
    جہاں پہنچے وہاں پہنچے جو دیکھا دل کے اندر ہے

    ہزاروں بے نواؤں کے ہیں جمگھٹ آستانہ پر
    طلب دل میں صدائے یارسول اللہ لب پر ہے

    لکھا ہے خامہء رحمت نے در پر خط قدرت سے
    جسے یہ آستانہ مل گیا سب کچھ میسر ہے

    خدا ہے اس کا مالک یہ خدائی بھر کا مالک ہے
    خدا ہے اس کا مولٰی یہ خدائی بھر کا سرور ہے

    زمانہ اس کے قابو میں زمانے والے قابو میں
    یہ ہر دفتر کا حاکم ہے یہ ہر حاکم کا افسر ہے

    عطا کے ساتھ ہے مختار رحمت کے خزانوں کا
    خدائی پر ہے قابو بس خدا ہی اس سے باہر ہے

    کرم کے جوش ہیں بزل و نعم کے دور دورے ہیں
    عطائے بانوا ہر بے نوا سے شیر وشکر ہے

    کوئی لپٹا ہے فرط شوق میں روضے کی جالی سے
    کوئی گردن جھکائے رعب سے بادیدہ تر ہے

    کوئی مشغول عرض حال ہے یوں شادماں ہو کر
    کہ یہ سب سے بڑی سرکار ہے تقدیر یاور ہے

    کمینہ بندہ ئدر عرض کرتا ہے حضور میں
    جو موروثی یہاں کا مدح گستر ہے ثناءگر ہے

    ترے رحمت کے صدقے یہ تری رحمت کا صدقہ تھا
    کہ ان ناپاک آنکھوں کو یہ نظارہ میسر ہے

    ذلیلوں کی تو میں گنتی سلاطین زمانہ کو
    تری سرکار عالٰی ہے ترا دربار برتر ہے

    تری دولت تری شوکت جلالت کا
    نہ ہے کوئی زمیں پر اور نہ کوئی آسماں پر ہے

    مطاف و کعبہ کا عالم دکھایا تو نے طیبہ میں
    ترا گھر بیچ میں چاروں طرف اللہ کا گھر ہے

    تجلی پر تری صدقے ہے مہر و ماہ کی تابش
    پسینے پر ترے قربان روح مشک و عنبر ہے

    غم و افسوس کا دافع اشارہ پیاری آنکھوں کا
    دل مایوس کی حامی نگاہ بندہ پرور ہے

    جو سب اچھوں میں اچھا جو ہر بہتر سے بہتر ہے
    ترے صدقے سے اچھا ہے ترے صدقے میں بہتر ہے

    رکھوں میں حاضری کی شرم ان اعمال پر کیونکر
    سرے امکاں سے باہر مری قدرت سے باہر ہے

    اگر شان کرم کو لاج ہو میرے بلانے کی
    تو میری حاضری دونوں جہاں میں میری یاور ہے

    مجھے کیا ہو گیا ہے کیوں میں ایسی باتیں کرتا ہوں
    یہاں بھی یاس و محرومی یہ کیونکر ہو یہ کیونکر ہے

    بلا کر اپنے کتے کو نہ دیں چمکار کر ٹکڑا
    پھر اس شان کرم پر فہم سے یہ بات باہر ہے

    تذبذب مغفرت میں کیوں رہے اس در کے زائر کو
    کہ یہ درگاہ والا رحمت خالص کا منظر ہے

    مبارک ہو حسن سب آرزوئیں ہو گئیں پوری
    اب ان کے صدقے میں عیش ابد تجھ کو میسر ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر