کاش ، برائے اصلاح

عمران سرگانی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 20, 2019

  1. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    371
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    سر الف عین
    عظیم
    دو اشعار
    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
    آج یہ کہتے ہوئے مجھ سے ملے ہمدم کہیں
    یا
    کاش یہ کہتے ہوئے مجھ سے ملیں ہمدم کہیں
    کیوں ہمیں لگتا ہے پہلے مل چکے ہیں ہم کہیں

    یوں نہ ہو عمران نہ رونا اسکا، تیرا وہم ہو
    شعر سن کر ہو گئیں ہوں اس کی آنکھیں نم کہیں
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 21, 2019
  2. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    371
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    اضافہ

    سانس رک جائے مری یا سکتے میں آ جاؤں میں
    یا
    سانس رک جائے مری اور خشک ہو جائے زبان
    گر وہ جلوہ گر ہوں میرے سامنے یک دم کہیں

    کھیل کھیلا جا رہا ہے زندگی اور موت کا
    چل رہی ہیں گولیاں اور پھٹ رہے ہیں بم کہیں

    یار بس راضی رہو اللہ کی تقسیم پر
    بٹ رہی ہیں خوشیاں تو بٹ رہے ہیں غم کہیں

    کام اپنا چھوڑ کر تصویر تیری دیکھنا
    یہ گماں ہے ، ہو نہ جائے چاہ تیری کم کہیں

    عمر بھر بھرتا رہا پر زخم اب بھی ہے ہرا
    پیار کے اس زخم کا ملتا نہیں مرہم کہیں

    ہو گئے ہیں سرد یوں جذبات تیرے جان من
    برف بن کر گر رہی ہو خواب میں شبنم کہیں
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 21, 2019
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مطلع میں کاش والا بہتر ہے
    مقطع جو پہلے مراسلے میں پوسٹ کیا تھا، میں 'نہ' شاید غلط ٹائپ ہو گیا ہے، اس کی ضرورت بھی نہیں۔
    مزید یہ کہ اشعار کہہ کر پوسٹ کرنے کی جلدی نہ کریں، کچھ وقت ان اشعار کے ساتھ گزاریں، اس کے بعد جب خود ہی مطمئن ہوں تو پوسٹ کیا کریں۔ یہی میں سب مبتدیوں َسے کہتا ہوں
    بعد کے اشعار درست ہیں، (زبان والا متبادل بہتر ہے) بس ان دو اشعار
    کام اپنا چھوڑ کر تصویر تیری دیکھنا
    یہ گماں ہے ، ہو نہ جائے چاہ تیری کم کہیں
    ... پہلے مصرع میں بات مکمل نہیں لگ رہی
    'دیکھوں تری تصویر میں ' کءا جا سکتا ہے

    عمر بھر بھرتا رہا پر زخم اب بھی ہے ہرا
    پیار کے اس زخم کا ملتا نہیں مرہم کہیں
    .. 'پر' اور زخم لفظ دونوں مصرعوں میں دہرایا جانا اچھا نہیں
    عمر بھر بھرتا رہا لیکن ہرا اب تک ہے گھاؤ
    یا لیکن ہے زخم اب بھی ہرا
    دوسری صورت میں گھاؤ دوسرے مصرعے میں استعمال کر سکتے ہو
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    371
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ب
    ہت شکریہ سر۔۔۔ کیا اب بہتر ہے

    کام اپنا چھوڑ کر دیکھوں تری تصویر میں
    یہ گماں ہے ، ہو نہ جائے چاہ تیری کم کہیں

    عمر بھر بھرتا رہا پر زخم اب بھی ہے ہرا
    پیار کے اس گھاؤ کا ملتا نہیں مرہم کہیں

    یوں نہ ہو عمران رونا اسکا، تیرا وہم ہو
    شعر سن کر ہو گئیں ہوں اس کی آنکھیں نم کہیں
     
  5. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    371
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کاش یہ کہتے ہوئے مجھ سے ملیں ہمدم کہیں
    کیوں ہمیں لگتا ہے پہلے مل چکے ہیں ہم کہیں

    سانس رک جائے مری اور خشک ہو جائے زبان
    گر وہ جلوہ گر ہوں میرے سامنے یک دم کہیں

    کھیل کھیلا جا رہا ہے زندگی اور موت کا
    چل رہی ہیں گولیاں اور پھٹ رہے ہیں بم کہیں

    یار بس راضی رہو اللہ کی تقسیم پر
    بٹ رہی ہیں خوشیاں تو بٹ رہے ہیں غم کہیں

    کام اپنا چھوڑ کر دیکھوں تری تصویر میں
    یہ گماں ہے ، ہو نہ جائے چاہ تیری کم کہیں

    عمر بھر بھرتا رہا پر زخم اب بھی ہے ہرا
    پیار کے اس گھاؤ کا ملتا نہیں مرہم کہیں

    ہو گئے ہیں سرد یوں جذبات تیرے جان من
    برف بن کر گر رہی ہو خواب میں شبنم کہیں

    یوں نہ ہو عمران رونا اسکا، تیرا وہم ہو
    شعر سن کر ہو گئیں ہوں اس کی آنکھیں نم کہیں
     

اس صفحے کی تشہیر