ڈاکٹر فیلن کی ڈکشنری

محب علوی نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 29, 2006

  1. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ڈاکٹر فیلن کی ڈکشنری

    دیگر زبانوں کی طرح اُردو کی قواعد اور لغت نویسی کا کام بھی غیر ملکیوں نے شروع کیا تھا کیونکہ اہلِ ہند کی زبانوں کو اچھی طرح سمجھنا اُن کی سیاسی اور تجارتی ضروریات میں شامل تھا۔
    یوں تو اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں اردو یا ہندوستانی کی بہت سی لغات مرتب ہوئیں لیکن دو افراد کا کام شاید صدیوں تک نہ بھلایا جاسکے گا۔

    J.T. Platts
    S.W. Fallon

    آج کی نشست میں ہم فیلن اور اس کی ایک معروف لغت کا ذکر کریں گے۔ ڈاکٹر ایس۔ ڈبلیو۔ فیلن (1880 - 1817 ) اگرچہ ہندوستان میں انگریز افسر شاہی کا حصّہ تھے لیکن انہوں نے’صاحب بہادر‘ بننے کی بجائے یہاں کے عوام میں گُھل مِل کے زندگی گزاری اور اپنی حکومت سے مسلسل اصرار کرتے رہے کہ ہندوستانی عوام کی زبان سیکھنے کے لیے مولوی یا پنڈت کی خدمات حاصِل نہ کی جائیں بلکہ کسی دِین محمد یا رام پرشاد کو دوست بنایا جائے۔

    فیلن کی ہندوستانی۔انگلش ڈ کشنری اُن کی موت سے ایک برس پہلے 1879 میں شائع ہوئی اور یوں انھوں نےعمر بھر کی محنت کو اپنی زندگی ہی میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوتے بھی دیکھ لیا۔

    لغت کا دیباچہ اِن الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔

    The chief features of the present work are the prominence given to the spoken and rustic mother tongue of the Hindi speaking people of India; the exhibition, for the first time, of the pure, unadulterated language of women; and the illustrations given of the use of words by means of examples selected from the every day speech of the people, and for their poetry, songs and proverbs and other folklore

    گویا اس لغت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اہلِ ہند کی بولی ٹھولی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے اور پہلی مرتبہ اُس محاورے اور روزمّرے کو تحریری گرفت میں لیا گیا ہے جو محض عورتوں سے مخصوص ہے۔ لفظوں کے استعمال کی مثالیں بھی عوام کی گفتگو، اُن کی کہا وتوں اور ان کے گیتوں سے لی گئی ہیں۔ دیباچے میں آ گے چل کر وہ لکھتے ہیں:

    The living utterances of the people are almost absent from our Dictionaries. Their place is filled instead by a great many Arabic, Persian and Sanskrit words which are seldom or never used in written of spoken Hindustani

    گویا فیلن کو لغت نویسوں سے شکایت تھی کہ وہ لوگوں کی روزمّرہ گفتگو میں استعمال ہونے والے الفاظ کا ذکر ہی نہیں کرتے اور عربی، فارسی یا سنسکرت کے ایسے نامانوس الفاظ کے طومار لگا دیتے ہیں جو عام آدمی کی گفتگو یا تحریر میں کبھی استعمال نہیں ہوتے۔ فیلن کی شکایت کا خصوصی نشانہ اسکے ہم عصر انگریز لغت نویس تھے اور وہ سرکاری افسران بھی، جو ایسے ماہرینِ لسانیات کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔


    ہندوستانی عورت ایک مختلف زبان بولتی ہے (ڈاکٹر فیلن)

    فیلن لکھتے ہیں کہ دنیا کے اکثر معاشروں کی طرح ہندوستان میں بھی بول چال کی ہندوستانی اور تحریر کی ہندوستانی – دو الگ الگ بولیاں ہیں لیکن یہاں ایک تیسری بولی بھی ہے جو ان دونوں سے مختلف ہے اور وہ ہے زنانی بولی۔

    اس بولی کا انوکھا پن دیکھنا ہو تو کسی شہری مسلمان مرد کی بولی کا مقابلہ کسی دیہاتی ہندو عورت سے کیجئے – آپ کو زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا۔

    عورتوں کی بولی پر عمومی تبصرہ کرتے ہوئے فیلن نے لکھا ہے کہ عمر بھر دُکھ سہنے والی اس مخلوق کے لبوں سے فی البدیہہ جو جلی کٹی باتیں نکلتی ہیں اُن میں تجربے کی چاشنی، خیال کی کاٹ، لفظوں کا انتخاب اور لہجے کا بانک پن اس کمال کا ہوتا ہے کہ ہزار مرد مِل کر بھی اُسطرح کا ایک جملہ تخلیق نہیں کر سکتے۔

    The seclusion of native females in India has been the asylum of the true vernacular, as pure and simple as it is unaffected by the pedantries of word-makers. It is also the soil in which the mother-tongue has its most natural development. Many of the most caustic and terse epigrams of the language have their birth in these isolated women's apartments whose inmates are jealously barred from any communication with strange men; and even the idioms which spring up out of the social and public lives of the male sex, conveyed to these retreats by their male relatives who have access to the zananah, are sometimes moulded by female wit into the forms of their own peculiar thoughts and speech.

    ہندوستانی معاشرے کے گہرے مطالعے کے بعد فیلن نے محسوس کیا کہ جو مردانہ بول چال اندرونِ خانہ رسائی حاصل کر لیتی ہے وہ بھی اصل صورت میں باقی نہیں رہتی بلکہ عورتوں کے طنز اور تبصرے کا نشانہ بن کر نئی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔

    ڈاکٹر فیلن کا حیات نامہ


    ڈاکٹر فیلن کا حیات نامہ
    1817 کلکتہ میں پیدا ہوئے۔
    1837 بنگال کے محکمہء تعلیم میں ملازم ہوئے۔
    1848 ’طبقات شعرائے ہند‘ شائع کی۔
    1858 Law & Commercial Dictionary شائع کی۔
    1864 انسپکٹر آف سکولز ، جرمنی سے ڈاکٹریٹ ۔
    1875 محکمہء تعلیم سے ریٹائرمنٹ، دہلی میں سکونت۔
    1877 ’ہندوستانی محاورے اور کہاوتیں‘ مرتّب کی۔
    1879 ’ہندوستانی۔ انگریزی ڈ کشنری‘ شائع ہوئی۔
    1880 آبائی وطن انگلستان کو روانگی۔
    1880 (تین اکتوبر) انگلستان میں وفات پائی۔

    فیلن نے اپنی لغت کے پیش لفظ میں تسلیم کیا ہے کہ جن لفظوں کو اس نے اس ڈ کشنری میں جانچا ہے اُن میں سے ا کثر ابھی کتابوں میں جگہ نہیں پا سکے اور مُرتّب نے ان کا عملی استعمال محض لوگوں کی بات چیت میں دیکھا ہے۔

    یہاں یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ کتابی زبان کے مقابلے میں گفتگو کی زبان اور مطبوعہ لفظ کے مقابل’ کہے ہوئے‘ الفاظ کی جو اہمیت امریکی اور برطانوی ماہرینِ لسانیات نے بیسویں صدی کے نِصف میں جا کر محسوس کی، ڈاکٹر فیلن نے ہندوستان میں بیٹھ کر اُس اہمیت کو برسوں پہلے محسوس کر لیا تھا اور یہ دلچسپ پیش گوئی بھی کی تھی کہ مقامی لکھاری جو محض کتابوں میں چھَپے لفظوں سے استفادہ کرتے ہیں ایک نہ ایک دِن جَنتا کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کی اہمیت کو بھی جان جائیں گے۔

    The yet unrecognised verdict of the people will one day be preferred to the approbation of a few book-learned critics, by whose proclivities. The pen of native writers is now solely guided.

    فیلن کی یہ دلچسپ اور مفصّل لغت بیک وقت عوامی بھی ہے اور عالمانہ بھی۔ اِس کے عوامی پہلو پر تو آج کچھ گفتگو ہوگئی ہے، آئندہ نشست میں اسکے عالمانہ تبّحر اور تجزیاتی نکتہ آفرینی پر روشنی ڈالی جائے گی۔

    بحوالہ بی بی سی اردو۔
     
  2. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,402
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ’یہ گمان درست نہیں کہ انگریز لغت نگار صرف سیاسی اور انتظامی مصلحت و ضرورت کی بناء پر لُغت نویسی میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اُن کے علمی شغف اور زبان سے سچّی دلچسپی کا اعتراف کرنا چاہیئے۔ اُن کے بعض خیالات یا ذوقی ترجیحات سے اِختلاف ہو سکتا ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اُن پر دانستہ تعصّب یا مسلمانوں سے بغُض و بیَر کا الزام لگانا قرینِ انصاف ہوگا‘۔
    متذکرہ بالا اقتباس ڈاکٹر فیلن کی لغت پر مرحوم شان الحق حقّی کے تبصرے سے لیا گیا ہے۔

    گزشتہ دو مضامین میں ہم نے ڈاکٹر فیلن کی اُردو ۔ انگریزی لغت کے مختلف پہلوؤں پر بات کی ہے۔ آج کی نشست میں ہم اس کی چند خامیوں اور کوتاہیوں پر بھی نگاہ ڈالیں گےاور اس افسوس ناک حقیقت پر بھی غور کریں گے کہ پہلی اشاعت کے ایک سو پچیس برس بعد تک بھی اس لغت میں موجود غلطیاں جوں کی توں موجود ہیں اور کسی علمی و ادبی ادارے کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اِس لغت پر نظر ثانی کر کے اس کا ایک نیا ترمیمی ایڈیشن شائع کر دے۔

    ایک زندہ اور زیرِ استعمال زبان کی لغت کبھی حتمی شکل میں مرتب
    نہیں ہو سکتی کیونکہ زندہ زبان ہمہ وقت بین الاقوامی اورعلاقائی لسانی اثرات میں رہتی ہے اور اس کا ذخیرۂ الفاظ گوناں گوں کروٹیں لیتا رہتا ہے۔ فیشنی الفاظ کچھ عرصہ اپنا جلوہ دکھا کر لسانی منظر سے غائب ہو جاتے ہیں لیکن مستقل نوعیت کے الفاظ زبان میں جڑیں پکڑ لیتے ہیں اور تناور درخت بن کر خود نئی فرہنگ کو اپنی چھتر چھایا میں لے لیتے ہیں۔


    اُردو کی مختلف لغات کو جانچنے پرکھنے کا کام آج سے بیس برس پہلے اُردو ترقی بورڈ نے شروع کیا تھا (جو بعد میں اُردو سائنس بورڈ بن گیا)۔ اس جانچ پرکھ کے دوران جِن کلاسیکی لغات پر کام ہوا اُن میں پلیٹس کی معروف ڈکشنری اور فیلن کی زیرِ بحث لغت کے علاوہ مولوی سید احمد دہلوی کی فرہنگِ آصفیہ اور خواجہ عبدالمجید کی جامع اللغات شامل تھیں۔

    فیلن کی لغت کو جانچنے پرکھنے کا کام وارث سرہندی کے سپرد تھا جنہوں نے بڑی عرق ریزی سے ایک ایک لفظ کا مطالعہ کیا اور فیلن کے بیان کردہ مطالب پر مفصّل بحث کی۔

    وارث سرہندی نے کئی ایسے الفاظ کی جانب اشارہ کیا جو اُردو یا ہندی میں کبھی نہیں سنے گئے لیکن فیلن کی لغت میں موجود ہیں۔ ناقد کا کہنا ہے کہ فیلن چونکہ ہندوستان بھر کے دیہات میں گھومتے پھرتے تھے اور علاقائی بولی ٹھولی سے بھی استفادہ کرتے تھے چنانچہ انھوں نے ایسے الفاظ بھی ’ہندوستانی‘ زبان میں شامل کر لئے جن کا دائرہ کار شاید کسی مخصوص علاقے کی چند بستیوں تک محدود ہو۔ مثلاً ’اُب ڈُب کرنا‘ کا مطلب فیلن نے دیا ہے ’ابھرنا اور ڈوبنا‘ لیکن یہ محاورہ بقول وارث سرہندی نہ تو اُردو میں مستعمل ہے اور نہ ہندی میں
    فیلن نے البتہ اِس کی تشریح اِن لفظوں میں کی ہے:

    1: To swim and rise alternately in the water.
    2: To breathe one's last, to be at the last gasp.

    (لیکن کیا خوب محاورہ ہے! کیوں نہ اسے اُردو میں اپنا لیا جائے؟ -- عارف)

    اس کے برعکس کچھ الفاظ ایسے ہیں جو آج کل ہماری زبان میں عام ہیں اور پاکستان میں ہائی سکول کا درمیانی قابلیت کا بچّہ بھی اِن الفاظ سے واقف ہوگا، لیکن فیلن کی ڈ کشنری میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں، جس کی سیدھی سی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ایک صدی پہلے کی بول چال میں وہ الفاظ مستعمل نہیں تھے۔ مثلاً الف کی پٹی میں:
    آبشار، آبگینہ، آبرو ریزی، آب پاشی کرنا اور آب و دانہ جیسے (اب عام) الفاظ بھی فیلن نے درج نہیں کئے۔

    لیکن فیلن کی لا علمی سے زیادہ یہ اِس طرف اشارہ ہے کہ ہماری زبان نے گزشتہ ایک صدی کے دوران کتنی وسعت اختیار کر لی ہے اور اس کے ذخیرہ الفاظ میں کتنی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    فیلن کی لغت کو یقیناً نئے سرے سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ ایک ایسا بھاری پتھر ہے کہ بڑے بڑے جیّد علمی و ادبی ادارے بھی اِسے چوم کر ایک طرف ہٹ جاتے ہیں اور جب تک کوئی فرد یا ادارہ اِس لغت کا نیا ایڈیشن شائع نہیں کرتا تب تک اسے وارث سرہندی کی تنقید کے ساتھ مِلا کر پڑھنا مناسب ہوگا۔

    اُردو زبان سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی فرد کے لئے ڈاکٹر فیلن کی اُردو ۔ انگریزی لغت ایک ایسا موضوع ہے جس پر گفتگو کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔

    --------------------------
    بی‌بی‌سی اردو سے کاپی کیا ہوا۔
     

اس صفحے کی تشہیر