ڈاکٹر سرفراز خان نیازی ؛ دنیائے طب میں انقلاب لانے والا پاکستانی سائنس دان

299713-Doctorsarfarazkhanniazi-1414855238-586-640x480.JPG

ڈاکٹر سرفراز خان نیازی مشہور اردو ادیب و مدیر، علامہ نیاز فتح پوری کے صاحب زادے ہیں۔ فوٹو : فائل
جب وہ والدین کے ہمراہ لکھنؤ سے کراچی پہنچے، تو متوسط طبقے کے ایک علاقے میں سر چھپانے کو جگہ ملی۔ اس محلے میں بعض غریب خاندان بھی آباد تھے۔ 13 سالہ سرفراز خان نیازی نے وہیں پہلی بار غربت کی تباہ کاریاں دیکھیں۔ان غریب گھرانوں میں سبھی لوگ بہ مشکل دو وقت کی روٹی کھا کر جسم و جاں کا ناتا برقرار رکھتے۔ لیکن جب کوئی فرد بیمار پڑتا تو، پورا گھرانا عجیب آفت میں مبتلا ہوجاتا۔ آمدن محدود تھی لہٰذا باپ اس مخمصے میں گرفتار رہتا کہ چندا کی دوا لائے یا روز کا کھانا جس سے سب پیٹ بھرتے تھے؟
سرفراز نے بچشم خود دیکھا کہ غریبوں کو مہنگی دوا نہ ملتی، تو وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے۔ ان واقعات نے حساس سرفراز پر گہرا اثر کیا۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ ادویہ سازی کا ماہر بنے گا تاکہ غربا کے لیے سستی دوائیں ایجاد کرسکے۔
نصف صدی قبل ایک پاکستانی لڑکے نے جو خواب دیکھا تھا، آج وہ امریکا میں اسے عملی جامہ پہنانے کی بھر پور کوشش کررہا ہے اور یہ کوئی عام سعی نہیں۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی ادویہ سازی میں انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ وجہ یہ کہ سرفراز انتہائی مہنگی مگر بہت مفید ادویہ کی سستی نقول بنانے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔
یہ 1995ء کی بات ہے جب ڈاکٹر سرفراز نیازی ماہر ادویہ سازی بن چکے تھے۔ انہیں احساس ہوا کہ مستقبل میں ’’حیاتی ادویہ‘‘ (biologics) انسانوں کے زیادہ کام آئیں گی۔ وجہ یہ ہے کہ جراثیم جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے خود کو طاقتور بنانے لگے تھے اور کئی اینٹی بائیوٹک ادویہ انہیں مارنے میں ناکام رہی تھیں۔

آج ڈاکٹر سرفراز نیازی کی زیر قیادت کمپنی کے سائنس داں ’’نو‘‘ حیاتی مماثل ادویہ پر کام کررہے ہیں۔ اسی حقیقت نے غیر معروف پاکستانی ماہر ادویہ سازی کو اچانک امریکا کی دنیائے طب میں مشہور ہستی بنادیا۔ وجہ یہی کہ ڈاکٹر سرفراز نیازی قیمتی انسانی زندگیاں بچانے والی ایسی ادویہ ایجاد کررہے ہیں جو بہترین ہونے کے ساتھ ساتھ سستی بھی ہوں گی۔
ڈاکٹر سرفراز نیازی کی شخصیت اس امر کا ثبوت ہے کہ ایک پاکستانی کو مواقع میسر آئیں، تو وہ اپنی ذہانت، محنت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایسے محیر العقول کارنامے انجام دے سکتا ہے کہ دنیا والے دنگ رہ جائیں۔ اگلے ڈیڑھ برس میں ڈاکٹر سرفراز نیازی اپنی کمپنی میں تیار کردہ ’’چار حیاتی مماثل ادویہ‘‘ مارکیٹ میں لانا چاہتے ہیں۔ یہ حقیقی حیاتی ادویہ کے مقابلے میں ’’50 تا 75 فیصد‘‘ سستی ہوں گی جبکہ بیماری دور کرنے کی صلاحیت میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔

مکمل تحریر کے لیے لنک
http://www.express.pk/story/299713/
 

فاتح

لائبریرین
خان نیازی؟ کہیں عمران خان نیازی کے خاندان سے انکا تعلق تو نہیں؟
اگر ایسا ہو گیا تو عمران احمد خان نیازی کے لیے بہت بڑے فخر کا باعث ہو گا کہ جو پیسے کے زور پر آکسفورڈ یونیورسٹی تو ضرور چلا گیا لیکن بے چارا آرٹس کے مضامین کے ساتھ بھی ماسٹر تک نہ کر سکا، اس کا تعلق ایک پی ایچ ڈی سائنس دان کے ساتھ مفت میں جڑ گیا۔ :)
 

arifkarim

معطل
اگر ایسا ہو گیا تو عمران احمد خان نیازی کے لیے بہت بڑے فخر کا باعث ہو گا کہ جو پیسے کے زور پر آکسفورڈ یونیورسٹی تو ضرور چلا گیا لیکن بے چارا آرٹس کے مضامین کے ساتھ بھی ماسٹر تک نہ کر سکا، اس کا تعلق ایک پی ایچ ڈی سائنس دان کے ساتھ مفت میں جڑ گیا۔ :)
آپکی معلومات کا ماخذ اگر نون لیگ ہے تو یہ میرے لئے کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ زیادہ تر مستند حوالہ جات کے مطابق عمران خان نے فلاسفی، سیاسیات اور معیشت جیسے مضامین میں ماسٹرز بیچلر آنرز کیا تھا:
In 1972, he enrolled to study Philosophy, Politics and Economics at Keble College, Oxford (England) where he graduated with a second-class degree in Politics and a third in Economics.
http://sporteology.com/achievements-of-imran-khan-as-cricketer-politician/
آپ تو ماشاءاللہ سے ملک بھر میں مانے جانے والوں ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں۔ ذرا اس بات پر بھی غور کر لیا ہوتا کہ اسی کالج میں مرحومہ بینظیر بھٹو صاحبہ بھی پڑھتی تھیں اور جسکی نواز شریف کُوگُو صاحب نے شکل تک نہیں دیکھی۔ بیچارا آج تک پرچیاں پڑھ پڑھ کر گزارا کر رہا ہے۔ لیکن وہ پھر بھی ٹھیک ہے پر عمران خان سے برا، جاہل اور نااہل انسان پاکستان میں تو کیا، دنیا میں موجود نہیں! :)
 
آخری تدوین:

فاتح

لائبریرین
آپکی معلومات کا ماخذ اگر نون لیگ ہے تو یہ میرے لئے کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ زیادہ تر مستند حوالہ جات کے مطابق عمران خان نے فلاسفی، سیاسیات اور معیشت جیسے مضامین میں ماسٹرز کیا تھا:
آپ تو ماشاءاللہ سے ملک بھر میں مانے جانے والوں ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں۔ ذرا اس بات پر بھی غور کر لیا ہوتا کہ اسی کالج میں مرحومہ بینظیر بھٹو صاحبہ بھی پڑھتی تھیں اور جسکی نواز شریف کُوگُو صاحب نے شکل تک نہیں دیکھی۔ بیچارا آج تک پرچیاں پڑھ پڑھ کر گزارا کر رہا ہے۔ لیکن وہ پھر بھی ٹھیک ہے پر عمران خان سے برا، جاہل اور نااہل انسان پاکستان میں تو کیا، دنیا میں موجود نہیں! :)
مجھے نواز شریف کی پرلے درجے کی جہالت (اگرچہ اس نے بھی ایل ایل بی کر رکھا ہے) میں اس قدر بھی شبہ نہیں جتنا عمران خان کے "نان ماسٹر" ہونے پر ہے۔ یہاں میں نے عمران خان کا تقابل نہ تو نواز شریف کے ساتھ کیا ہے اور نہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ جنہیں آپ نجانے کہاں سے بیچ میں لے آئے۔
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا :)
بہرحال موضوع پر واپس آتے ہیں۔۔۔ عمران خان نے کسی مضمون میں کبھی ماسٹر نہیں کیا بلکہ سیکنڈ کلاس پولیٹکس اور تھرڈ کلاس اکنامکس کے ساتھ بیچلر آنرز کیا ہوا ہے جو آکسفرڈ یونیورسٹی میں تین سال کا پروگرام ہوتا ہے۔
اقتباس ۔ 1:
In 1972 he enrolled in Keble College, Oxford where he read philosophy, politics and economics, graduating with honours in 1975.
ترجمہ: اس (عمران خان) نے سن 1972 میں کیبل کالج آکسفرڈ میں داخلہ لیا، جہاں سے وہ فلسفہ، سیاست اور اکنامکس کے مضامین میں سن 1975 میں فارغ التحصیل (گریجویٹ) ہوا۔
1972 تا 1975: 3 سال

اقتباس ۔2:
In England and Wales, a Bachelor's degree with Honours is awarded after three years of studies and often requires the completion of a dissertation in the third year.
ترجمہ: انگلستان اور ویلز (کی یونیورسٹیوں) میں 3 سال کی تعلیم مکمل کرنے پر آنرز کے ساتھ بیچلر کی ڈگری دی جاتی ہےجس کے لیے اکثر اوقات ایک مقالہ لکھنا لازمی ہوتا ہے۔

بھائی، بہتر ہے کہ ہم عمران خان کو وہی رہنے دیں جو وہ ہے۔۔۔ اس میں اس کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔۔۔
کچھ عرصہ قبل ایک فیس بکی دوست نے مجھے اس بات پر لعن طعن اور گالم گلوچ کے بعد (جو پی ٹی آئی کے "اکثر" احباب کا خاصہ ہونے کے سبب پارٹی کا امتیازی وصف بن چکا ہے) اَن فرینڈ کر دیا کہ جب اس نے اپنی وال پر ٹائم میگزین (یورپ) کے سر ورق پر چھپی عمران خان کی تصویر اس عنوان کے ساتھ ارسال کی کہ "قائد اعظم کے بعد پہلا پاکستانی جس کی تصویر ٹائم میگزین کے سرورق پر شائع ہوئی" تو میں نے اس پر ٹائم میگزین کے آرکائیو سے اس کے امریکا، یورپ اور ایشیا کے ایڈیشنوں پر چھپی ہوئی مختلف پاکستانی شخصیات کی تصاویر کے لنکس پوسٹ کر دیے جن میں پرویز مشرف، بے نظیر بھٹو، ایوب خان، ڈاکٹر عبد القدیر خان اور حتیٰ کہ یحیٰ خان اور آصف زرداری جیسے لوگ بھی شامل رہے ہیں۔

یہاں ایک اور بات بھی عرض کرتا چلوں کہ میں خود بھی پی ٹی آئی کا حامی تھا اور اس قدر اندھا حامی کہ گذشتہ الیکشن سے چند روز قبل محض اس لیے پاکستان آیا کہ عمران خان کی الیکشن کمپین کا حصہ بن سکوں (شاید مجھے گمان تھا کہ میرے بغیر کمپین مکمل نہیں ہو سکے گی ارو پارٹی کے ہارنے کا سارا الزام میرے سر جائے گا) اور الیکشن والے دن بھی میں عمران خان کے اپنے حلقے میں ہی موجود تھا۔ الیکشن کے بعد ہم بے وقوفوں نے (جن میں پی ٹی آئی کے کئی جیتے ہوئے اور ہارے ہوئے اسمبلیوں کے امیدواراران بھی شامل تھے) نیازی صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ الیکشن میں واضح دھاندلی کے ثبوت یہ رہے، آپ اس کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیں لیکن خان صاحب اپنی ضد پر اڑے رہے کہ نہیں پارٹی اس پر کوئی احتجاج نہیں کرے گی۔ آج ڈیڑھ سال بعد نیازی صاحب کو اچانک یہ یاد آیا کہ اوئی لالا! انتخابات میں تو دھاندلی ہوئی ہے لہٰذا چلو بھئی دوستو "اب" ہم نہیں مانتے اس الیکشن کو۔ میں قربان جاؤں ۔۔۔
 
آخری تدوین:

arifkarim

معطل
بھائی، بہتر ہے کہ ہم عمران خان کو وہی رہنے دیں جو وہ ہے۔۔۔ اس میں اس کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔۔۔
میں نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ عمران خان نے ماسٹرز کیا تھا۔ وہ کالج کی کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا اور وہاں مصروفیت کی وجہ سے پڑھائی مکمل نہ کر سکا۔ اس بات کا اعتراف بینظیر اور دیگر اسکے ساتھی طالب علم بھی کر چکے ہیں۔ غالباً اسوقت عمران کا جوش و ولولہ ورلڈ کلاس کرکٹ تھی نہ کہ ماسٹرز وگرنہ اسکے لئے اکیڈیمیک کیریئر بنانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ بہرحال شکر ہے آپنے اتنا تو تسلیم کیا کہ اس نے کم از کم گریجویٹ لیول تک تعلیم حاصل کی ہے بغیر دھاندلی کے :)

کچھ عرصہ قبل ایک فیس بکی دوست نے مجھے اس بات پر لعن طعن اور گالم گلوچ کے بعد (جو پی ٹی آئی کے "اکثر" احباب کا خاصہ ہونے کے سبب پارٹی کا امتیازی وصف بن چکا ہے) اَن فرینڈ کر دیا
عموماً ناقدین عمران خان کی صحبت کو الزام دیتے ہیں کہ اسکی وجہ سے تحریک انصافینز میں قوت برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ بندہ ان سے پوچھے کہ پچھلے کئی دہائیوں سے جو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی کارکاردگی ہے، اسکے بعد بھی اگر بندے کی قوت برداشت ختم نہیں ہوگی تو اور کیا ہوگا؟ فرق صرف اتنا ہے کہ عمران خان نے ایڈز وائرس کی طرح اس قوت برداشت کے اختتام کی شروعات کر دی ہے وگرنہ یہ وائرس تو اس قوم میں کئی دہائیوں سے موجود تھا البتہ سویا ہوا تھا :)

آپ ہی بتائیں جب یہاں ظالم ظلم کرتا ہے تو قوم اسے کیوں برداشت کرے؟ جب الیکشن صاف اور شفاف نہیں ہوتے، تو ہم کیوں اسے برداشت کریں؟ جب یہاں وی آئی پی راج ہوتا ہے ٹیکس کے پیسے پر تو عوام کا خون کیوں نہ کھولے؟ قوت برداشت کا خاتمہ اختلاف رائے پہ نہیں بلکہ اس اسٹیٹس کو کے حق میں دربارانہ بیان بازی کرنے والوں کیلئے ہے جو بار بار نورا کشتی کرنے والوں کی حمایت کرتے ہیں اور پھر انہی جعلی حکمرانوں کو کوستے ہیں کہ اے فوج ہمیں آکر انسے بچا!
 

فاتح

لائبریرین
میں نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ عمران خان نے ماسٹرز کیا تھا۔
زیادہ تر مستند حوالہ جات کے مطابق عمران خان نے فلاسفی، سیاسیات اور معیشت جیسے مضامین میں ماسٹرز کیا تھا
برادر عزیز، یہ اوپر اسی لڑی میں آپ ہی کے دو مراسلوں سے دو اقتباسات ہیں جن کا درمیانی وقفہ شاید چند منٹس سے زیادہ نہیں اور ان کے بعد میرے کسی تبصرے کی ضرورت ہی نہیں بچتی۔ :)

بہرحال شکر ہے آپنے اتنا تو تسلیم کیا کہ اس نے کم از کم گریجویٹ لیول تک تعلیم حاصل کی ہے بغیر دھاندلی کے :)
میں نے عمران کے بیچلرز نہ ہونے کا تو کہیں ذکرتک نہیں کیا۔۔۔ میرے مراسلے کو دوبارہ ذرا غور سے پڑھیے، عارف بھائی۔ میں نے اس کے ماسٹر نہ ہونے کا ذکر کیا تھا:
۔۔۔عمران احمد خان نیازی ۔۔۔۔۔۔پیسے کے زور پر آکسفورڈ یونیورسٹی تو ضرور چلا گیا لیکن بے چارا آرٹس کے مضامین کے ساتھ بھی ماسٹر تک نہ کر سکا
اور اس مراسلے میں آپ نے بھی یہی لکھا ہے:
وہ کالج کی کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا اور وہاں مصروفیت کی وجہ سے پڑھائی مکمل نہ کر سکا۔

عموماً ناقدین عمران خان کی صحبت کو الزام دیتے ہیں کہ اسکی وجہ سے تحریک انصافینز میں قوت برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ بندہ ان سے پوچھے کہ پچھلے کئی دہائیوں سے جو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی کارکاردگی ہے، اسکے بعد بھی اگر بندے کی قوت برداشت ختم نہیں ہوگی تو اور کیا ہوگا؟ فرق صرف اتنا ہے کہ عمران خان نے ایڈز وائرس کی طرح اس قوت برداشت کے اختتام کی شروعات کر دی ہے وگرنہ یہ وائرس تو اس قوم میں کئی دہائیوں سے موجود تھا البتہ سویا ہوا تھا :)
آپ کی سیاسی تقریر اپنی جگہ لیکن یہ اس کا محل نہیں تھا۔۔۔ جس واقعے کا ذکر میں نے اوپر کیا تھا اس پر لعن طعن اور گالم گلوچ کرنا نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی کارکردگی نہیں اس (سابقہ :) ) فیس بکی دوست کی اپنی جہالت تھی۔ :)
 

عزیزامین

محفلین
مجھے نواز شریف کی پرلے درجے کی جہالت (اگرچہ اس نے بھی ایل ایل بی کر رکھا ہے) میں اس قدر بھی شبہ نہیں جتنا عمران خان کے "نان ماسٹر" ہونے پر ہے۔ یہاں میں نے عمران خان کا تقابل نہ تو نواز شریف کے ساتھ کیا ہے اور نہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ جنہیں آپ نجانے کہاں سے بیچ میں لے آئے۔
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا :)
بہرحال موضوع پر واپس آتے ہیں۔۔۔ عمران خان نے کسی مضمون میں کبھی ماسٹر نہیں کیا بلکہ سیکنڈ کلاس پولیٹکس اور تھرڈ کلاس اکنامکس کے ساتھ بیچلر آنرز کیا ہوا ہے جو آکسفرڈ یونیورسٹی میں تین سال کا پروگرام ہوتا ہے۔
اقتباس ۔ 1:
In 1972 he enrolled in Keble College, Oxford where he read philosophy, politics and economics, graduating with honours in 1975.
ترجمہ: اس (عمران خان) نے سن 1972 میں کیبل کالج آکسفرڈ میں داخلہ لیا، جہاں سے وہ فلسفہ، سیاست اور اکنامکس کے مضامین میں سن 1975 میں فارغ التحصیل (گریجویٹ) ہوا۔
1972 تا 1975: 3 سال

اقتباس ۔2:
In England and Wales, a Bachelor's degree with Honours is awarded after three years of studies and often requires the completion of a dissertation in the third year.
ترجمہ: انگلستان اور ویلز (کی یونیورسٹیوں) میں 3 سال کی تعلیم مکمل کرنے پر آنرز کے ساتھ بیچلر کی ڈگری دی جاتی ہےجس کے لیے اکثر اوقات ایک مقالہ لکھنا لازمی ہوتا ہے۔

بھائی، بہتر ہے کہ ہم عمران خان کو وہی رہنے دیں جو وہ ہے۔۔۔ اس میں اس کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔۔۔
کچھ عرصہ قبل ایک فیس بکی دوست نے مجھے اس بات پر لعن طعن اور گالم گلوچ کے بعد (جو پی ٹی آئی کے "اکثر" احباب کا خاصہ ہونے کے سبب پارٹی کا امتیازی وصف بن چکا ہے) اَن فرینڈ کر دیا کہ جب اس نے اپنی وال پر ٹائم میگزین (یورپ) کے سر ورق پر چھپی عمران خان کی تصویر اس عنوان کے ساتھ ارسال کی کہ "قائد اعظم کے بعد پہلا پاکستانی جس کی تصویر ٹائم میگزین کے سرورق پر شائع ہوئی" تو میں نے اس پر ٹائم میگزین کے آرکائیو سے اس کے امریکا، یورپ اور ایشیا کے ایڈیشنوں پر چھپی ہوئی مختلف پاکستانی شخصیات کی تصاویر کے لنکس پوسٹ کر دیے جن میں پرویز مشرف، بے نظیر بھٹو، ایوب خان، ڈاکٹر عبد القدیر خان اور حتیٰ کہ یحیٰ خان اور آصف زرداری جیسے لوگ بھی شامل رہے ہیں۔

یہاں ایک اور بات بھی عرض کرتا چلوں کہ میں خود بھی پی ٹی آئی کا حامی تھا اور اس قدر اندھا حامی کہ گذشتہ الیکشن سے چند روز قبل محض اس لیے پاکستان آیا کہ عمران خان کی الیکشن کمپین کا حصہ بن سکوں (شاید مجھے گمان تھا کہ میرے بغیر کمپین مکمل نہیں ہو سکے گی ارو پارٹی کے ہارنے کا سارا الزام میرے سر جائے گا) اور الیکشن والے دن بھی میں عمران خان کے اپنے حلقے میں ہی موجود تھا۔ الیکشن کے بعد ہم بے وقوفوں نے (جن میں پی ٹی آئی کے کئی جیتے ہوئے اور ہارے ہوئے اسمبلیوں کے امیدواراران بھی شامل تھے) نیازی صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ الیکشن میں واضح دھاندلی کے ثبوت یہ رہے، آپ اس کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیں لیکن خان صاحب اپنی ضد پر اڑے رہے کہ نہیں پارٹی اس پر کوئی احتجاج نہیں کرے گی۔ آج ڈیڑھ سال بعد نیازی صاحب کو اچانک یہ یاد آیا کہ اوئی لالا! انتخابات میں تو دھاندلی ہوئی ہے لہٰذا چلو بھئی دوستو "اب" ہم نہیں مانتے اس الیکشن کو۔ میں قربان جاؤں ۔۔۔
آپ عمران کے مخالف کس وجہ سے بنے ۔ اب نون جوائن کرلی کیا؟
 

arifkarim

معطل
برادر عزیز، یہ اوپر اسی لڑی میں آپ ہی کے دو مراسلوں سے دو اقتباسات ہیں جن کا درمیانی وقفہ شاید چند منٹس سے زیادہ نہیں اور ان کے بعد میرے کسی تبصرے کی ضرورت ہی نہیں بچتی۔ :)
درست۔ ماسٹرز سے میری مراد گریجوئیشن تھی جو عمران نے نہیں کی۔ صرف بیچلر آنرز تک تعلیم حاصل کی ہے۔ تصحیح کا شکریہ۔
میں نے عمران کے بیچلرز نہ ہونے کا تو کہیں ذکرتک نہیں کیا۔۔۔ میرے مراسلے کو دوبارہ ذرا غور سے پڑھیے، عارف بھائی۔ میں نے اس کے ماسٹر نہ ہونے کا ذکر کیا تھا:
متفق! اوپر تصحیح کر دی ہے۔ :)
آپ کی سیاسی تقریر اپنی جگہ لیکن یہ اس کا محل نہیں تھا۔۔۔ جس واقعے کا ذکر میں نے اوپر کیا تھا اس پر لعن طعن اور گالم گلوچ کرنا نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی کارکردگی نہیں اس (سابقہ :) ) فیس بکی دوست کی اپنی جہالت تھی۔ :)
چلو شکر ہے اسنے خود ہی آپ کو انفرینڈ کر دیا۔ آپکو یہ زحمت نہیں کرنی پڑی :)
 

فاتح

لائبریرین
درست۔ ماسٹرز سے میری مراد گریجوئیشن تھی جو عمران نے نہیں کی۔ صرف بیچلر آنرز تک تعلیم حاصل کی ہے۔ تصحیح کا شکریہ۔
دراصل یہ ساری کنفیوژن لفظ گریجویشن پر پیدا ہوئی ہے جس کے معنی آپ کے ملک میں یا آپ کے ہاں کچھ لیکن فی الحقیقت گریجویشن سے مراد بیچلر بھی ہو سکتا ہے اور ماسٹر بھی۔ :) یوں عمران خان بہرحال گریجویٹ ہے۔ اس نے ماسٹر نہیں کیا لیکن بیچلر آنرز کی ڈگری اسے گریجویٹ ضرور بناتی ہے۔
چلو شکر ہے اسنے خود ہی آپ کو انفرینڈ کر دیا۔ آپکو یہ زحمت نہیں کرنی پڑی :)
جتنی کتے والی اس نے کرو الی تھی اپنی ہی وال پر اس کے بعد یہ زحمت ثانوی بن گئی تھی وہ کرتی یا میں۔ :laughing:

اب آتے ہیں ان ڈاکٹر سرفراز خان نیازی صاحب کی جانب۔۔۔
ان پر پاکستانیوں سے بڑھ کر ہندوستانی اپنا حق جماتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب 1949 میں لکھنؤ، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1962 میں پاکستان ہجرت کی اور 1970 میں امریکا۔
یوں، یہ نہ صرف پیدائشی ہندوستانی تھے بلکہ ہندوستان میں ان کا قیام 13 سال رہا جب کہ پاکستان میں محض 8 سال۔
اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟ :)
 

arifkarim

معطل
دراصل یہ ساری کنفیوژن لفظ گریجویشن پر پیدا ہوئی ہے جس کے معنی آپ کے ملک میں یا آپ کے ہاں کچھ لیکن فی الحقیقت گریجویشن سے مراد بیچلر بھی ہو سکتا ہے اور ماسٹر بھی۔
یہاں ناروے میں تو بیچلر انڈر گریجوئیٹ، ماسٹر گریجوئیٹ، اور ڈاکٹریٹ پوسٹ گریجوئیٹ سمجھا جاتا ہے۔ باقی ممالک کا معلوم نہیں :)
یوں عمران خان بہرحال گریجویٹ ہے۔ اس نے ماسٹر نہیں کیا لیکن بیچلر آنرز کی ڈگری اسے گریجویٹ ضرور بناتی ہے۔
ناروے کے حساب سے انڈر گریجوئیوٹ :)
جتنی کتے والی اس نے کرو الی تھی اپنی ہی وال پر اس کے بعد یہ زحمت ثانوی بن گئی تھی وہ کرتی یا میں۔
ہاہاہا! :)

اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟ :)
یہی معاملہ ڈاکٹر عبدالسلام کیساتھ بھی ہے جن کی زندگی کا پیشتر حصہ مغربی ممالک میں گزرا لیکن فزکس کا نوبیل انعام پاکستانی زمرے میں آتا ہے کہ آپکی پیدائش جھنگ، ہندوستان کی تھی۔
 

فاتح

لائبریرین
یہی معاملہ ڈاکٹر عبدالسلام کیساتھ بھی ہے جن کی زندگی کا پیشتر حصہ مغربی ممالک میں گزرا لیکن فزکس کا نوبیل انعام پاکستانی زمرے میں آتا ہے کہ آپکی پیدائش جھنگ، ہندوستان کی تھی۔
معاملہ کافی مختلف ہے۔۔۔ ڈاکٹر عبد السلام کی نہ صرف پیدائش پاکستان کی تھی بلکہ مرتے دم تک انہوں نے کسی اور ملک کی شہریت اختیار نہیں کی۔۔۔
جب کہ ڈاکٹر سرفراز نیازی کی پیدائش ہندوستان کی ہے اور وہ 13 سال کی عمر تک وہاں کے شہری کے طور پر رہے۔ اس کے بعد پاکستان آئے اور یہاں صرف 8 سال بطور شہری رہے۔۔۔ اس کے بعد ساری عمر امریکی شہری۔یوں ان کا معاملہ گھمبیر ہے۔
 
Top