ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی کتاب "خودستائیاں" سے اقتباس

لالہ رخ

محفلین
مجھے ممتاز مفتی کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ دو مقامات سے دیکھو تو ٹھیک سے نظر نہیں آئے گا:​
دور سے​
بہت قریب سے​
چوں کہ ممتاز مفتی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اس لیے امکان غالب ہے کہ ٹھیک سے نہیں دیکھا ۔ چنانچہ یہ مضمون سند نہیں ہے۔​
ممتاز مفتی زندگی میں ربط سے محروم فرد ہے۔ میل اڈجسٹڈ، پیدائشی طور پر چھوٹا آدمی ہے۔ بڑے آدمی سے مل کر جھجک محسوس کرتا ہے، گھبراتا ہے، کتراتا ہے، اسے کسی بنے سجے گھر میں لے جائیے۔چلا جائے گا، لیکن دل دھک دھک کرے گا، سانس رکے گا، اندر ڈگمگ ڈگمگ ڈولے گا، یہ میں کہاں آگیا ہوں؟​
اسے کسی اونچے عہدے پر بٹھا دو۔ بیٹھ تو جائے گا، لیکن یوں جیسے کانٹوں پر بٹھا دیا گیا ہو۔افسروں کے ساتھ نہیں گھلے ملے گا۔ چھوٹے سٹاف کے درمیان ایٹ ہوم محسوس کرے گا۔ دفتر کے چپڑاسیوں کو سلام کرنا اس کی پرانی عادت ہے۔ افسر کے ساتھ اس کا برتاؤ یا تو جی حضوریا ہوتا ہے یا کھچا کھچا۔ میانہ روی سے محروم ہے۔​

 

عاطف

محفلین
مجھے ممتاز مفتی کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ دو مقامات سے دیکھو تو ٹھیک سے نظر نہیں آئے گا:​
دور سے​
بہت قریب سے​
چوں کہ ممتاز مفتی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اس لیے امکان غالب ہے کہ ٹھیک سے نہیں دیکھا ۔ چنانچہ یہ مضمون سند نہیں ہے۔​
ممتاز مفتی زندگی میں ربط سے محروم فرد ہے۔ میل اڈجسٹڈ، پیدائشی طور پر چھوٹا آدمی ہے۔ بڑے آدمی سے مل کر جھجک محسوس کرتا ہے، گھبراتا ہے، کتراتا ہے، اسے کسی بنے سجے گھر میں لے جائیے۔چلا جائے گا، لیکن دل دھک دھک کرے گا، سانس رکے گا، اندر ڈگمگ ڈگمگ ڈولے گا، یہ میں کہاں آگیا ہوں؟​
اسے کسی اونچے عہدے پر بٹھا دو۔ بیٹھ تو جائے گا، لیکن یوں جیسے کانٹوں پر بٹھا دیا گیا ہو۔افسروں کے ساتھ نہیں گھلے ملے گا۔ چھوٹے سٹاف کے درمیان ایٹ ہوم محسوس کرے گا۔ دفتر کے چپڑاسیوں کو سلام کرنا اس کی پرانی عادت ہے۔ افسر کے ساتھ اس کا برتاؤ یا تو جی حضوریا ہوتا ہے یا کھچا کھچا۔ میانہ روی سے محروم ہے۔​
 

لالہ رخ

محفلین
ادب:
مفتی کو اردو نہیں آتی۔ اس نے کبھی اردو ادب کا مطالعہ نہیں کیا۔ جب اس نے لکھنا شروع کیا تو اہل زبان بڑے ناراض ہوئے، انہوں نے شور مچا دیا۔ مفتی کو زبان نہیں آتی! بند کرو! لکھنا بند کرو۔ وہ سچ کہتے تھے واقعی مفتی کو زبان نہیں آتی تھی۔ وہ کہتے رہے، مفتی لکھتا رہا، اس نے لکھ لکھ کر اپنی زبان خود وضع کر لی۔ اب لوگ کہتے ہیں کہ مفتی کے لکھنے کا انداز منفرد ہےتو اسے یقین نہیں آتا، کیوں کہ اب بھی اسے زبان نہیں آتی۔
مفتی نے لکھ کر ادب پر کوئی احسان نہیں کیا، نہ ہی خدمت کی ہے۔ اْلٹا ادب نے مفتی پر احسان کیا ہےکہ اسے اہمیت عطا کردی۔ زندگی بے مصرف نہیں رہی۔ وہ سوچنے والے کو ادب نہیں مانتا۔ کہتا ہے ادب جذبہ ہے، سوچ نہیں۔ ادب کا مقصد انسان میں مثبت جذبات جگانا ہے، ہمدردیاں پیدا کرنا ہے۔ سوچ کو جذبے میں بھگو کر پیش کرنا ہے، اگر تحریر میں تاثر نہیں، اگر وہ قاری میں جذبے کی بھیگ پیدا نہیں کرتی تو بے کار ہے۔
(ڈاکٹر اشفاق احمد ورک، خود ستائیاں ،صفحہ 110)
 

لالہ رخ

محفلین
محبت :
ممتاز مفتی نے بڑی محبتیں کی ہیں، لیکن بڑی دیر کے بعد اسے حقیقت کا شعور ہواکہ دراصل اسے محبت کرنے کے عمل یا کیفیت سے محبت تھی، محبوب سے نہیں۔” بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے“ کی کیفیت سے محبت تھی۔ محبوب کی اہمیت تو تھی، لیکن ضمنی۔
(ڈاکٹر اشفاق احمد ورک، خود ستائیاں ،صفحہ 111)
 

فلک شیر

محفلین
استاذِ محترم، ڈاکٹر اشفاق ورک صاحب...........سبحان اللہ، کیا مزے کے آدمی ہیں .....ظاہری طور پہ کسی طرح بھی مزاح نویس نہیں لگتے......
شیخوپورہ میں انٹرمیڈیٹ میں ڈیڑھ برس ہم اُن سے اُردو سیکھا کیے..........تب ابھی ڈاکٹر نہ تھے.....انتہائی نفیس اور درویش صفت........آج کل ایف سی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں رونق افروز ہیں.....کتابوں پہ کتابیں لکھے جا رہے ہیں.....لگتا ہے ڈاکٹر یونس بٹ سے مقابلہ ہے.....:)
 

لالہ رخ

محفلین
استاذِ محترم، ڈاکٹر اشفاق ورک صاحب...........سبحان اللہ، کیا مزے کے آدمی ہیں .....ظاہری طور پہ کسی طرح بھی مزاح نویس نہیں لگتے......
شیخوپورہ میں انٹرمیڈیٹ میں ڈیڑھ برس ہم اُن سے اُردو سیکھا کیے..........تب ابھی ڈاکٹر نہ تھے.....انتہائی نفیس اور درویش صفت........آج کل ایف سی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں رونق افروز ہیں.....کتابوں پہ کتابیں لکھے جا رہے ہیں.....لگتا ہے ڈاکٹر یونس بٹ سے مقابلہ ہے.....:)
مقابلے کا تو نہیں پتا لیکن لکھ بہت کمال کا رہے ہیں ، میں ان کی ہی سٹوڈنٹ ہوں :p
 
Top