ڈاکو گھر کے سامان کی بجائے دعائیں لے کر واپس چلے گئے

جاسم محمد

محفلین
ڈاکو گھر کے سامان کی بجائے دعائیں لے کر واپس چلے گئے
22 نومبر ، 2019
توصیف رضی ملک -اردو نیوز، کراچی
628231-322739316.jpg


کراچی میں گذشتہ چند ماہ سے راہزنی، ڈکیتی اور قتل کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کراچی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق کرائم ریٹ، جس میں پاکستان فوج کے آپریشن کے بعد خاطر خواہ کمی آئی تھی، اب اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈکیتی کا ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ روز کراچی کے علاقے کورنگی نمبر 5 میں پیش آیا جہاں ڈاکو ایک گھر میں ڈکیتی کی نیت سے گھس گئے مگر اچانک نہ جانے ان کے دل میں کیا خیال آیا کہ وہ کچھ بھی سامان لیے بغیر گھر سے چلے گئے۔
اطلاعات کے مطابق چار ڈاکو دن کے وقت ایک گھر میں ڈکیتی کی غرض سے گئے جہاں اس وقت صرف تین عورتیں موجود تھیں، جنہیں یرغمال بنا کر ڈاکوؤں نے لوٹ مار شروع کردی۔
علاقہ مکینوں کے مطابق دوران ڈکیتی جب ڈاکو ایک کمرے سے لوٹ مار کر کے دوسرے کمرے میں جانے لگے تو وہاں موجود ایک خاتون نے ان سے کہا کہ وہ جو سامان لے جانا چاہتے ہیں لے کر جائیں مگر ان کے سامنے آنے سے گریز کریں کیوں کہ ان کے شوہر کا دو ہفتے قبل انتقال ہوا ہے اور وہ عدت میں ہیں۔
یہ سن کر ڈاکوؤں نے لوٹا ہوا مال وہیں چھوڑ دیا اور گھر سے بنا کچھ لیے چلے گئے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ڈاکو جاتے جاتے گھر والوں سے ان کے حق میں دعا کرنے کا بھی کہہ گئے۔
ڈاکوؤں کے جانے کے بعد گھر والوں نے اہل محلہ کو اکھٹا کر کے انہیں واقعے کی روداد سنائی جس پر سب کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
واقعے کے بعد کی وڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں گھر والے یہ دکھا رہے ہیں کہ گھر کی الماری اور الماریوں سے سامان کھینچ کر زمین پر پڑا ہے تاہم نقدی، زیورات، موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیا ٹیبل پر موجود ہیں اور انہیں ڈاکوؤں نے واپس کردیا ہے۔
پولیس سے جب اس واقعے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ ان کے پاس رپورٹ نہیں ہوا، اگر کوئی رپورٹ دائر ہوتی ہے تو وہ اس کی روشنی میں کارروائی کا آغاز کریں گے۔
 

فرقان احمد

محفلین
بالکل۔ مجھے بھی کلاسیکی قسم کے ڈاکو لگتے ہیں۔ یقینی طور پر دعا اپنے "کاروبار" میں برکت کی لی ہوگی۔ :)
اب زمانہ بدلتا جاتا ہے۔ بھلے وقت میں، ڈاکو اور چور بڑے اہتمام سے لٹے پٹے فرد کا کم از کم شناختی کارڈ تو حوالہ ڈاک ضرور کرتے تھے یا کم از کم منہ پر مار کر چلے جاتے تھے۔ آج کل کے ڈاکوؤں میں تو شرم و حیا بالکل ہی اٹھتی جاتی ہے۔ یہ جو کلاسیکی ڈاکو ہوتے تھے، یہ واقعی اب ناپید ہو گئے۔ آہ!
 

فاخر

محفلین
ڈاکو گھر کے سامان کی بجائے دعائیں لے کر واپس چلے گئے
22 نومبر ، 2019
توصیف رضی ملک -اردو نیوز، کراچی
628231-322739316.jpg


کراچی میں گذشتہ چند ماہ سے راہزنی، ڈکیتی اور قتل کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کراچی پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق کرائم ریٹ، جس میں پاکستان فوج کے آپریشن کے بعد خاطر خواہ کمی آئی تھی، اب اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈکیتی کا ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ روز کراچی کے علاقے کورنگی نمبر 5 میں پیش آیا جہاں ڈاکو ایک گھر میں ڈکیتی کی نیت سے گھس گئے مگر اچانک نہ جانے ان کے دل میں کیا خیال آیا کہ وہ کچھ بھی سامان لیے بغیر گھر سے چلے گئے۔
اطلاعات کے مطابق چار ڈاکو دن کے وقت ایک گھر میں ڈکیتی کی غرض سے گئے جہاں اس وقت صرف تین عورتیں موجود تھیں، جنہیں یرغمال بنا کر ڈاکوؤں نے لوٹ مار شروع کردی۔
علاقہ مکینوں کے مطابق دوران ڈکیتی جب ڈاکو ایک کمرے سے لوٹ مار کر کے دوسرے کمرے میں جانے لگے تو وہاں موجود ایک خاتون نے ان سے کہا کہ وہ جو سامان لے جانا چاہتے ہیں لے کر جائیں مگر ان کے سامنے آنے سے گریز کریں کیوں کہ ان کے شوہر کا دو ہفتے قبل انتقال ہوا ہے اور وہ عدت میں ہیں۔
یہ سن کر ڈاکوؤں نے لوٹا ہوا مال وہیں چھوڑ دیا اور گھر سے بنا کچھ لیے چلے گئے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ڈاکو جاتے جاتے گھر والوں سے ان کے حق میں دعا کرنے کا بھی کہہ گئے۔
ڈاکوؤں کے جانے کے بعد گھر والوں نے اہل محلہ کو اکھٹا کر کے انہیں واقعے کی روداد سنائی جس پر سب کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
واقعے کے بعد کی وڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں گھر والے یہ دکھا رہے ہیں کہ گھر کی الماری اور الماریوں سے سامان کھینچ کر زمین پر پڑا ہے تاہم نقدی، زیورات، موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیا ٹیبل پر موجود ہیں اور انہیں ڈاکوؤں نے واپس کردیا ہے۔
پولیس سے جب اس واقعے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ ان کے پاس رپورٹ نہیں ہوا، اگر کوئی رپورٹ دائر ہوتی ہے تو وہ اس کی روشنی میں کارروائی کا آغاز کریں گے۔
یہ خبر پڑھ کر مجھے پرل چانڈیو یاد آگیا ،لگتا ہے کہ یہ چور پرل چانڈیو کا شاگرد رہا ہوگا۔ :):LOL::LOL:
اب پرل چانڈیو کون تھا اس کا مجھے علم تو نہیں پاکستانی احباب بتائیں گے کہ یہ کون تھا۔ میں تو مولانامنظور مینگل کو جانتا ہوں جن کی تقریر میں’’پرل چانڈیو‘‘ کا ذکر سنا تھا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اب زمانہ بدلتا جاتا ہے۔ بھلے وقت میں، ڈاکو اور چور بڑے اہتمام سے لٹے پٹے فرد کا کم از کم شناختی کارڈ تو حوالہ ڈاک ضرور کرتے تھے یا کم از کم منہ پر مار کر چلے جاتے تھے۔ آج کل کے ڈاکوؤں میں تو شرم و حیا بالکل ہی اٹھتی جاتی ہے۔ یہ جو کلاسیکی ڈاکو ہوتے تھے، یہ واقعی اب ناپید ہو گئے۔ آہ!
درست فرمایا قبلہ، افراط اور انحطاط ہر شعبے میں یکساں ہے۔ :)
 

سین خے

محفلین
آجکل کراچی میں راستہ پوچھنے کے بہانے موبائل اور پرس بھی چھینے جا رہے ہیں۔ ہمیں کل راستے میں تین ایسے افراد ملے۔ ایک کو البتہ ہمیں اپنی چور ڈاکوؤں کی لسٹ سے خارج کرنا پڑا کیونکہ جب ہم نے اسے راستہ نہیں بتایا تو اسے ٹریفک پولیس کانسٹیبل سے راستہ پوچھنا پڑا :)
 
آجکل کراچی میں راستہ پوچھنے کے بہانے موبائل اور پرس بھی چھینے جا رہے ہیں۔ ہمیں کل راستے میں تین ایسے افراد ملے۔ ایک کو البتہ ہمیں اپنی چور ڈاکوؤں کی لسٹ سے خارج کرنا پڑا کیونکہ جب ہم نے اسے راستہ نہیں بتایا تو اسے ٹریفک پولیس کانسٹیبل سے راستہ پوچھنا پڑا :)
کل ہی مشہور عالمِ دین مولانا شجاع الدین شیخ صاحب سے جمعہ کی نماز سے پہلے پرس اور موبائل چھین لیا گیا۔ شناختی کارڈ واپس کر دیا۔
 
Top