فنا نظامی کانپوری چہرۂ صبح نظرآیا رخِ شام کے بعد ۔ فنا نظامی کانپوری

فرخ منظور

لائبریرین

چہرۂ صبح نظرآیا رخِ شام کے بعد
سب کو پہچان لیا گردشِ ایّام کے بعد


مل گئی راہِ یقیں منزلِ اوہام کے بعد
جلوے ہی جلوے نظر آئے درو بام کے بعد

چاہیے اہلِ محبت کو کہ دیوانہ بنیں
کوئی الزام نہ آئے گا اس الزام کے بعد

امتحانِ طلبِ خام لیا ساقی نے
جام لبریز دیا دُردِ تہِ جام کے بعد

ہائے کیا چیز ہے یہ لطفِ شکستہ پائی
حوصلے اور بڑھے کوششِ ناکام کے بعد


زندگی نام ہے اک جہدِ مسلسل کا فناؔ
راہرو اور بھی تھک جاتا ہے آرام کے بعد

(فناؔ نظامی کانپوری)
 
آخری تدوین:
چاہیے اہلِ محبت کو کہ دیوانہ بنیں
کوئی الزام نہ آئے گا اس الزام کے بعد

کیا کہنے کیا کہنے ۔ واہ واہ
 
Top