سلیم احمد چھایا ہوا تھا رنگِ غم دل پہ غبار کی طرح - سلیم احمد

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 11, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    چھایا ہوا تھا رنگِ غم دل پہ غبار کی طرح
    میں نے اسی غبار سے ڈالی بہار کی طرح

    رنج ہزارہا سہی دل نہ دُکھے تو کیا علاج
    بے حس و بے خیال ہوں سنگِ مزار کی طرح

    چلتا ہوں اپنے زور میں مرکبِ وقت کے بغیر
    سعی وعمل کی نے پہ ہوں طفلِ سوار کی طرح

    زورِ ہوا سے اُڑ گئے حبسِ ہوا سے گھٹ گئے
    قافلہِ حیات میں ہم ہیں غبار کی طرح

    میری بہائے فن ہے یہ مجھ سے ہے کارزرگراں
    رکھا گیا دکان میں مجھ کو عیار کی طرح

    دل سے غمِ حیات کو عشق سے کھینچ لیجیے
    بعد میں پھینک دیجیے دونوں کو خار کی طرح

    حالتِ یاس اور گناہ دل میں کوئی خیال سا
    رات کی تیرگی میں ہے دیدہِ مار کی طرح

    اب مرے برگ و بار میں باقی نہیں نم و نمو
    تُو مری زندگی میں تھا فصلِ بہار کی طرح
    سلیم احمد
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,642
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    چھایا ہُوا تھا رنگِ غم، دِل پہ غُبار کی طرح
    میں نے اُسی غُبار سے، ڈالی بہار کی طرح


    کیا کہنے :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر