پیسون سےپیسےبنانےکےطریقے

نایاب

لائبریرین
سلام
پیسون سےپیسےبنانےکےطریقےکوئ اللہ کا نیک بندہ تحریر کردے شکریہ:-P
محترم بھائی ۔ اگر نیت صاف ہمت پاس ہو تو ذرا سی محنت سے اک کے دس بنائے جا سکتے ہیں ۔
اگر کم پیسے پاس ہوں ان سے عام زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء خرید کر اک چھابڑی اک ٹھیلہ لگا لیں ۔
اگر زیادہ پیسے پاس ہوں تو دکان بنا لیں ۔۔
منافعے میں دس پرسنٹ اللہ کی شراکت رکھ لیں ۔ اور مہینے میں کسی اک مقرر دن منافعے کا حساب کر کے
یہ رقم کسی بھی مستحق کو من جانب اللہ اس کا حق سمجھ کر دے دیا کریں ۔۔
دس دنیا سترآخر پر یقین کامل رکھتے نیک نیتی سے اس شراکت کو چلائیں پھر دیکھیں پیسے سے پیسے کس طرح بنتے ہیں ۔۔۔۔۔
یہ کسی نیک بندے کی جانب سے نہیں بلکہ اک ٹھگ کی جانب سے پیسے کمانے کا طریقہ ہے ۔
بہت دعائیں
 

یوسف-2

محفلین
اگر آپ کے پاس پیسے ہیں تو پھر پیسوں سے پیسہ بنانے کی کیا ضرورت ہے :)

پیسوں سے پیسہ بنایا تو کیا بنایا ؟ مزا تو جب ہے کہ خالی ہاتھوں سے پیسہ بنایا جائے :)

پیسہ کمانا ایک آرٹ ہے۔ جسے یہ آرٹ آگیا، وہ مٹی کو ہاتھ لگائے تو مٹی بھی سونا بن جایا کرتا ہے :)

لکھاریوں میں ”پیسہ بنانے کے ہنر کا فن“ سب سے زیادہ جاوید چوہدری کو آتا ہے۔ نہ صرف خود کماتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی جائز طریقے سے کمانے کا ہنر سکھلاتا ہے۔ بالخصوص اتوار کے اتوار اس کا کالم عوام الناس کے لئے ہوا کرتا ہے۔ آپ بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
مایا کو مایا ملے کر کر لمبے ہاتھ (یہ مایا فلموں والی نہیں) ہندی میں دھن دولت کو مایا کہتے ہیں۔
مشہور ضرب المثل ہے۔ اس پر عمل کریں۔
 

جاسمن

مدیر
مولانا وحید الدین کی ایک کتاب رازِ حیات میں ایک مضمون ہے۔ آٹھ آنے سے آغاز (شاید ایک آنہ یا چار آنہ ہے،بہر حال یعنی کم سے کم پیسوں میں )
ایک یتیم بچہ سکول سے گھر آتا ہے تو کھانے کے لئے ماں کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ وہ ماں سے کہتا ہے کہ آپ کے پاس آٹھ آنے ہوں گے۔ کسی بہت بڑی مشکل کے لئے ماں نے آٹھ آنے سنبھال کے رکھے تھے۔ وہ نکال کر دے دیتی ہے۔ بچہ گھر سے ایک بالٹی اور ایک گلاس لے جاتا ہے۔ آٹھ آنے کی برف خرید کے نلکے سے پانی ملاتا ہے۔ اور وہ پانی بیچنا شروع کرتا ہے۔ شام کو گھر واپسی پہ اپنی ماں کو اُن آٹھ آنوں کے ساتھ اور پیسے بھی دیتا ہے۔ اور اِس طرح اپنے "کاروبار" کا آغاز کرتا ہے۔
یہ کہانی میں نے اپنے بچوں کو اور بہت کچھ شامل کر کے کافی لمبی کر کے سُنائی تھی۔
یہ درست ہے کہ آپ کے پاس کتنے پیسے ہیں،اس پہ آپ کے کاروبار کا اِنحصار ہے۔ لیکن نایاب بھیا کی یہ بات بھی درست ہے کہ اللہ کے لئے کم از کم دس فی صد ضرور رکھنا چاہیے۔
اِن دنوں شعاع میں ایک کہانی چل رہی ہے۔ اس میں ایک کردار کہتا ہے کہ میرے پیسوں میں انسانیت کا بھی تو حصہ ہے ۔ سارے پیسے بس اپنے بچوں کے لئے تو نہیں ہیں۔ مجھے یہ بات بہت پسند آئی۔
واقعی ہماری کمائی میں ہمارے ارد گرد رہنے والوں کا حصہ ہے۔
 

arifkarim

معطل
پیسوں سے ایک نوٹ چھاپنے والی مشین خرید لیں اور مزید پیسے بنا لیں :)
مذاق برطرف۔ پیسا ہمیشہ صحیح جگہ اور صحیح وقت پر سرمایہ کاری سے بڑھتا ہے۔ اسکی مثال علم جیسی ہے جو پھیلانے سے بڑھتی ہے اور چھپانے یا قید کرنے سے کم ہوتی ہے۔
 

arifkarim

معطل
پیسہ + محنت + دانشمندی + قسمت = ثروت و عظمت
میرا خیال ہے کہ مالی کامیابی کیلئے قسمت یا تو اصل عنصر ہے یا بالکل نہیں ہے۔ یہ اسلئے کہ دنیا کے پیشتر مالی لحاظ سے کامیاب لوگ شومئی قسمت ایسے حالات و واقعات میں پائے گئے کہ انکا امیر ہونا مقدر میں لکھا تھا۔ جیسے لاٹری کا نکل آنا، کسی ناخوشگوار انہونی حادثے کانتیجہ مثبت نکل آنا، امراء کے خاندان میں پیدائش کا ہونا وغیرہ۔ یہ وہ سب عناصر ہیں جسپر انسان کو کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے مگر اسکے باوجود یہ مستقبل میں مالی لحاظ سے مضبوطی کیلئے نہایت ضروری ہیں۔ فرانسیسی مصنف Thomas Piketty کی شہرہ آفاق کتاب Capital in the Twenty-First Century کا سارا مغز ہی یہی ہے جہاں اسنے 700 صفحات پر مبنی دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ کرپٹ معاشی و اقتصادی بین الاقوامی نظام میں سرمایہ و دولت کا اصل ماخذ وراثت ہے نہ کہ انسان کی اپنی محنت، کوشش یا "قسمت"۔
http://en.wikipedia.org/wiki/Capital_in_the_Twenty-First_Century
 
Top