1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

نصیر الدین نصیر پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ

محمد جاوید اختر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 15, 2012

  1. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جو وہ تو نہ رہا تو وہ بات گئی جو وہ بات گئی تو مزا نہ رہا
    وہ امنگ کہاں ، وہ ترنگ کہاں ، وہ مزاج وفا و جفا نہ رہا
    شب و روز کہیں بھی الگ نہ ہوا ،شب و روز کہاں وہ میلہ نہ رہا
    رگ جاں سے ہماری قریب رہا ، رگ جاں سے ہماری جدا نہ رہا
    کسی شکل میں بھی ، کسی رنگ میں بھی ، کسی روپ میں بھی ، کسی ڈھنگ میں بھی
    وہ ہماری نظر سے چھپا تو مگر وہ ہماری نظر سے چھپا نہ رہا
    تھی خزاں کے لباس میں کس کی نظر کہ جھلستی گئی ہے تمام شجر
    کسی شاخ پہ تازہ کلی نہ رہی ،کوئی پتہ چمن میں ہرا نہ رہا
    تیرے ظلم و ستم ہوئے مجھ پہ جو کم تو یہ حال مرا ہے قدم پہ قدم
    وہ تڑپ نہ رہی ،وہ جلن نہ رہی ،غم و درد میں اب وہ مزا نہ رہا
    بہے اشک و فور ملال میں جب ، کھلے راز تمام ،ہوا یہ غضب
    کوئی بات کسی سے چھپی نہ رہی ،کوئی حال کسی سے چھپا نہ رہا
    دم دید ہزار حواس گئے ،رہے دور ہی دور کے پاس گئے
    ہمیں دیکھنا تھا انہیں دیکھ لیا ، کوئی بیچ میں پردہ رہا نہ رہا
    مرے دم سے تھے نقش و نگار جنوں ،مرے بعد کہاں وہ بہار جنوں
    کسی خار کی نوک پہ کیا ہو تری ، کوئی دشت میں آبلہ پا نہ رہا
    مرے پاس جو آ بھی گیا ہے کبھی ، تو یہ ڈھنگ رہے تو یہ شکل رہی
    وہ ذرا نہ کھلا، وہ ذرا نہ کھلا ، وہ ذرا نہ تھما ، وہ ذرا نہ رہا
    کیے تیری نگاہ نے جس پہ کرم ، رہا دونوں جہان میں اسکا بھرم
    جسے تیرے غضب نے تباہ کیا ، کہیں اسکا بھرم بخدا نہ رہا
    جو نصیر ہم ان سے قریب ہوئے ،تو حیات کے رنگ عجیب ہوئے
    غم ہجر میں اور ہی کچھ تھی خلش ، وہ خلش نہ رہی وہ مزا نہ رہا

    چراغ گولڑہ پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 1
  3. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    [​IMG]

    سنے کون قصہ درد دل میرا غمگسار چلا گیا
    جسے آشناؤں کا پاس تھا وہ وفا شعار چلا گیا
    وہی بزم ہے وہی دھوم ہے وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
    ہے کمی تو بس میرے چاند کی جو تہہ مزار چلا گیا
    وہ سخن شناس وہ دور بیں وہ گدا نواز وہ مہ جبیں
    وہ حسیں وہ بحر علوم دیں میرا تاجدار چلا گیا
    کہاں اب سخن میں وہ گرمیاں کہ نہیں رہا کوئی قدرداں
    کہاں اب وہ شوق میں مستیاں کہ وہ پر وقار چلا گیا
    جسے میں سناتا تھا درد دل وہ جو پوچھتا تھا غم درود
    وہ گدا نواز بچھڑ گیا وہ عطا شعار چلا گیا
    بہے کیوں نصیر نہ اشک غم رہے کیوں نہ لب پر میرے فغن
    ہمیں بےقرار وہ چھوڑ کر سر راہ گزار چلا گیا

    چراغ گولڑہ پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
  5. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
  6. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    جاوید صاحب،
    پیر صاحب مرحوم دا کلام کسے تعریف تےسلاہتا تھیں اُتے وے تے ایہدی وڈیائی وچ کسے نوں کوئی شک نئیں، پر بے ادبی معاف، ایہدے لئی میرے خیال وچ پنجابی فورم مناسب تھاں نئیں۔ اینہوں کسے ہور لڑی وچ ہونا چاہی دا سی۔
     
    • متفق متفق × 1
  7. ابن محمد جی

    ابن محمد جی محفلین

    مراسلے:
    184
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اگر پیر صاحب کی کتب نیٹ پر آ جائے تو کیا بات ہے۔
     
  8. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جی کوشش کر رہا ہوں آپ دوستوں کی مدد درکار ہے این محمد جی
     
  9. ابن محمد جی

    ابن محمد جی محفلین

    مراسلے:
    184
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آپ کی کوشش کہاں تک پہنچی ہے ،اور اس سلسلہ میں ایک سائیڈ میری نظر سے گذری تھی ،مگر علمی طور پر اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔آپ آپنی کاوش سے ہم کو آگاہ فرمائیں۔
     
  10. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    پیر نصیر الدین نصیر گیلانی رحمۃاللہ علیہ کا سارا کلام بہت ہی عمدہ و اعلیٰ ہے

    سبحان اللہ
    جزاک اللہ محمد جاوید اختر بھائی
     
  11. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    میری پیاری بہن
    پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ
    اگر پیر نصیر الدین نصیر گیلانی رحمۃاللہ علیہ کا کوئی کلام آپ کے پاس ہو تو ضرور ارسال کریں ۔ شکریہ
     
  12. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جو وہ تو نہ رہا تو وہ بات گئی جو وہ بات گئی تو مزا نہ رہا
    وہ امنگ کہاں ، وہ ترنگ کہاں ، وہ مزاج وفا و جفا نہ رہا
    شب و روز کہیں بھی الگ نہ ہوا ،شب و روز کہاں وہ میلہ نہ رہا
    رگ جاں سے ہماری قریب رہا ، رگ جاں سے ہماری جدا نہ رہا
    کسی شکل میں بھی ، کسی رنگ میں بھی ، کسی روپ میں بھی ، کسی ڈھنگ میں بھی
    وہ ہماری نظر سے چھپا تو مگر وہ ہماری نظر سے چھپا نہ رہا
    تھی خزاں کے لباس میں کس کی نظر کہ جھلستی گئی ہے تمام شجر
    کسی شاخ پہ تازہ کلی نہ رہی ،کوئی پتہ چمن میں ہرا نہ رہا
    تیرے ظلم و ستم ہوئے مجھ پہ جو کم تو یہ حال مرا ہے قدم پہ قدم
    وہ تڑپ نہ رہی ،وہ جلن نہ رہی ،غم و درد میں اب وہ مزا نہ رہا
    بہے اشک و فور ملال میں جب ، کھلے راز تمام ،ہوا یہ غضب
    کوئی بات کسی سے چھپی نہ رہی ،کوئی حال کسی سے چھپا نہ رہا
    دم دید ہزار حواس گئے ،رہے دور ہی دور کے پاس گئے
    ہمیں دیکھنا تھا انہیں دیکھ لیا ، کوئی بیچ میں پردہ رہا نہ رہا
    مرے دم سے تھے نقش و نگار جنوں ،مرے بعد کہاں وہ بہار جنوں
    کسی خار کی نوک پہ کیا ہو تری ، کوئی دشت میں آبلہ پا نہ رہا
    مرے پاس جو آ بھی گیا ہے کبھی ، تو یہ ڈھنگ رہے تو یہ شکل رہی
    وہ ذرا نہ کھلا، وہ ذرا نہ کھلا ، وہ ذرا نہ تھما ، وہ ذرا نہ رہا
    کیے تیری نگاہ نے جس پہ کرم ، رہا دونوں جہان میں اسکا بھرم
    جسے تیرے غضب نے تباہ کیا ، کہیں اسکا بھرم بخدا نہ رہا
    جو نصیر ہم ان سے قریب ہوئے ،تو حیات کے رنگ عجیب ہوئے
    غم ہجر میں اور ہی کچھ تھی خلش ، وہ خلش نہ رہی وہ مزا نہ رہا

    چراغ گولڑہ پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
     
  13. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خدا کو میں نے صدا لا شریک مانا ہے
    تو بادشاہے دو عالم کی ایک شہزادی
    میں اک غریب تیری گرد راہ یا زھرا
    خدا کو میں نے صدا لا شریک مانا ہے
    خدا کے سامنے رہنا گواہ یا زھرا
    ملے جو اسکی اجازت مجھے شریعت سے
    تو تیرا در ہو میری سجدہ گاہ ہو یا زھرا
    ہیں جن کے نور سے امت کے روزو شب روشن
    حسن حسین تیرے مہرو مہ یا زھرا
    تیرے حسین کا کردار دیکھ کر اب تک
    پکارتے ہیں ملک واہ واہ یا زھرا
    درود تجھ پے ہو بمصداق بضعة منی
    سلام تجھ پے ہو گیتی پناہ یا زھرا
    ہیں تیری آل سے پیران پیر محی الدیں
    جو اولیا کے ہوئے سربراہ یا زھرا
    بھروں تو کیسے بھروں دم تیری غلامی کا
    بہت بڑی ہے تیری بارگاہ یا زھرا
    کہاں تو ایک نجیبہ عفیفہ پاک نظر
    کہاں میں ایک اسیر گناہ یا زھرا
    اجڑ چکا ہوں غم زندگی کے ہاتھوں سے
    کھڑا ہوں در پہ بحال تباہ یا زھرا
    ہوں معصیت کی سیاہی ملے ہوے منہ پر
    کسےدکھاؤں یہ روئے سیاہ یا زھرا
    میں گو برا ہوں مگر تیرا وہ گھرانہ ہے
    کیا ابروں سے بھی جس نے نبھا یا زھرا
    بھری ہیں در سے ہزاروں نے جھولیاں اپنی
    میری طرف بھی کرم کی نگاہ یا زھرا
    نہ پھیر آج مجھے اپنے در سے تو خالی
    کہ تیرے بابا ہیں شاہوں کے شاہ یا زھرا
    جیو تو لے کے جیو تیری دولت نسبت
    مروں تو لے کے مروں تیری چاہ یا زھرا
    قدم بہ کلبہء ما گرنہیز روئے کرم
    کنیم دیدہ و دل فرش راہ یا زھرا
    بروز حشر نہ پرسا ہو جب کوئی اسکا
    ملے نصیر کو تیری پناہ یا زھرا

    شاعر حق زباں پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
     
  14. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    میں اور مجھ کو اور کسی دلربا سے عشق ؟
    خیر الوریٰ سے عشق ہے خیر الوریٰ سے عشق
    دنیا کی مجھ کو چاہ نہ اس کی ادا سے عشق
    دونوں جہاں میں بس ہے مجھے مصطفیٰ سے عشق
    وہ آخرت کی راہ کو ہموار کر چلا
    جس کو بھی ہو گیا شہ انبیا سے عشق
    کچھ اور مجھ کو کام نہیں اس جہان میں
    اپنے نبی سے عشق ہے اپنے خدا سے عشق
    دنیا کی دوستی تو ضیایع ہے فریب ہے
    اسلام میں روا نہیں اس بے وفا سے عشق
    سر میں سرور آنکھوں میں ٹھنڈک ہے دل میں کیف
    جب سے ہوا دیار نبی کی ہوا سے عشق
    دیوانائے رسول و علی و حسین کو
    طیبہ کی دھن نجف کی لگن کربلا سے عشق
    معراج بندگی کی تمنا میں رات دن
    میری جبیں ہے در مصطفیٰ سے عشق
    پہلے نبی کے عشق میں مدہوش ہو نصیر
    پھر یہ کہے کوئی کہ مجھے ہے خدا سے عشق

    شاہ نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
     
  15. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ
    وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ

    میری بگڑی کے بنانے میں تکلف کیا ہے
    آپ کو سینکڑوں انداز کرم آتے ہیں

    حسن زے بصرہ از بلال حبش صہیب از روم
    زے خاک مکہ ابو جہل ای چہ بل عجب ایست

    کبھی بہلا دیا مجھ کو کبھی سر مستیاں دے دیں
    میرے ساقی کا انداز نظر یوں بھی ہے اور یوں بھی

    عاشق رسول صلی الله ہو علیہ وسلم
    شہزادہ غوث الوراح پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
     
  16. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جشن عید میلاد النبی مبارک ہو سب کو

    راستے صاف بتاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں
    لوگ محفل کو سجاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    اہلِ دل گیت یہ گاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں
    آنکھیں رہ رہ کے اُٹھاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    اُن کی آمد کے پیامی ہیں صبا کے جھونکے
    پھول شاخوں کو ہلاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    اُن کے جلوں سے نکھرنے لگی دل کی رونق
    میری تقدیر جگاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    کہکشاں ، راہ گزر ، چاند ، ستارے ، ذرّے
    سب چمک کر یہ دکھاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    مرحبا صلِ علیٰ کی ہیں صدائیں لب پر
    ہم تو صدقے ہوئے جاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    اہلِ ایماں کے لبوں پر ہے درود و سلام
    یومِ میلاد مناتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    دل کو جلوں کی طلب آنکھ کو طیبہ کی لگن
    دیکھئے مجھ کو بُلاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    اپنے شاہکار پہ خلاّقِ دو عالم کو ہے ناز
    انبیاء جُھومتے جاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    چاند تاروں میں نصیر آج بڑی ہل چل ہے
    یہی آثار بتاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں

    صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

    کلام : شاعرِ ہفت زباں پیر سیّد نصیر الدین نصیر گیلانی گولڑہ شریف

    آمدِ مصطفیٰ مرحبا مرحبا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    تجھ کو نصیر اب کیا خوف دوزخ
    ماہ مدینہ وہ شاہ والا ہے
    جس کے دم سے جگ میں اجالا
    سب کا معلم ایسا اک امی
    استاد جس کا خود حق تعالیٰ
    امت میں جس کی ٹھہرا برابر
    ادنیٰ سے ادنیٰ اعلیٰ سے اعلیٰ
    ضربت سے توحید کی جس نے توڑا
    شرک جلی کا مضبوط تالا
    روتے ہووں کو جس نے ہنسایا
    گرتے ہووں کو جس نے سنبھالا
    جس کو عمر نے بس دے دیا دل
    جانچا نہ پرکھا دیکھا نہ بھالا
    پیوستہ باہم محراب ابرو
    وہ گرد عارض زلفوں کا ہالا
    ہر لمحہ جس کا اولیٰ سے اولیٰ
    ہر آن میں جو بالا سے بالا
    دیکھا نہ اب تک چشم فلک نے
    ایسا انوکھا ایسا نرالا
    ایمان وتقویٰ معیار عزت
    وجہ فضیلت گورا نہ کالا
    کنج لحد ہو پل ہوکہ میزاں
    ہر جا چلے گا تیرا حوالا
    جس کو ڈبویا موج الم نے
    ٹھوکر سے تو نے اس کو اچھالا
    تیرا بلایا مقبول داور
    مردود یزداں تیرا نکالا
    پانی کے ہوتے پانی کو ترسا
    دلبند زھرا نازوں کا پالا
    درباں جو الجھا باب نبی پر
    اس نے کہا قم میں نے کہا لا
    تجھ کو نصیر اب کیا خوف دوزخ
    پل پہ کھڑا ہے خود کملی والا

    شاعر حق زباں شاہ نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
     
  18. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کیا ہے کسی سے کام تمھیں دیکھنے کے بعد
    سب کو میرا سلام تمھیں دیکھنے کے بعد
    جس کو بھی تو نے جام محبت پلا دیا
    وہ کیا کرے گا جام تمھیں دیکھنے کے بعد
    میری راہ حیات کے دشوار مرحلے
    حل ہو گئے تمام تمھیں دیکھنے کے بعد
    ہم آکے تیرے شہر سے واپس نہ جایئں گے
    یہ فیصلہ کیا ہے تمھیں دیکھنے کے بعد
    لاکھوں حسین سامنے آئے نگاہ نہ کی
    آنکھوں کو سیہ لیا ہے تمھیں دیکھنے کے بعد
    محمود کا ایاز تو بس ایک ہی رہا
    لاکھوں بنے ایاز تمھیں دیکھنے کے بعد
     
  19. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دونوں عالم میں ہے دن رات اجالا تیرا
    چھب انوکھی ہے تری حسن نرالا تیرا
    غنچہ و گل میں ترے نقش پا کی جھلک
    ہے بہار چمنستاں میں اجالا تیرا
    مظہر نور ازل مصدر انوار ابد
    از ازل تا بہ ابد نور دو بالا تیرا
    اے شہ حسن دو عالم ترے قدموں پہ نثار
    خود بھی شیدائی ہے الله تعالیٰ تیرا
    زینت بزم جہاں صورت زیبا تیری
    سرو گلزار حقیقت قد بالا تیرا
    جس جگہ تیری جھلک ہو تری رعنائی
    جا ٹھہرتا ہے وہیں دیکھنے والا تیرا
    شب معراج ہے عنوان تیری رفعت کا
    ذات ارفع ہے تری ذکر ہے اعلیٰ تیرا
    تو ہے وہ شمع ضیاء بار دو عالم کے لئے
    ڈھونڈھتے پھرتے ہیں کونین اجالا تیرا
    میری مرقد سے نکیرین پلٹ جائیں گے
    ان کو مل جائے گا جس وقت حوالا تیرا
    فَسَيَكْفِيْكَهُمُ الله سے یہ بات کھلی
    تو ہے الله کا الله تعالیٰ تیرا
    حشر میں ایک قیامت مرے دل پر گزری
    بن گئی بات وسیلہ جو نکالا تیرا
    صدق دل سے ہے نصیر اہل طلب میں شامل
    آسرا حشر میں ہے شہ والا تیرا

    شاعر ہفت زباں علامہ پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ
     
  20. محمد جاوید اختر

    محمد جاوید اختر محفلین

    مراسلے:
    289
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    خاتون جنت پہ لاکھوں سلام
    گردشیں تھم گئیں محفلیں جم گئیں کملی والے کی نسبت پہ لاکھوں سلام
    ایک دو تین کیا لاکھوں سر کٹ گئے انکی منصوص عزت پہ لاکھوں سلام
    جس کو پا کر حلیمہ غنی ہو گئی آمنہ تیری دولت پہ لاکھوں سلام
    زینب و مرتضیٰ پھر حسین و حسن اور خاتون جنت پہ لاکھوں سلام
    چار یاران حضرت پہ ہر دم درود ان کے دور خلافت پہ لاکھوں سلام
    شاہ بغداد غوث الوریٰ محی دیں آبروئے طریقت پہ لاکھوں سلام
    کیجیے بند آنکیں نصیر اور پھر بھیجیے انکی صورت پہ لاکھوں سلام
    مصطفی شان قدرت پہ لاکھوں سلام اولین نقشے خلقت پہ لاکھوں سلام

    چراغ گولڑہ شاعر ہفت زباں پیر سید نصیر الدین نصیر رحمتہ الله علیہ
     

اس صفحے کی تشہیر