پھر کوئی آسرا نہ ہو جائے دل جگر سے جدا نہ ہو جائے

وسیم خان

محفلین
اساتذہ سے اصلاح اور تنقید مطلوب ہے۔

پھر کوئی آسرا نہ ہو جائے
دل جگر سے جدا نہ ہو جائے

طالبِ حور میں نہیں ان سے
واں کہیں سامنا نہ ہو جائے

کیف ہے تیری بے نیازی میں
تجھ کو پاسِ وفا نہ ہو جائے

وصل کی آرزو اٹھی ہے اب
دید پہ اکتفا نہ ہو جائے

رخ نہ پھیرو صدا سے تم میری
سازِ دل ہم نوا نہ ہو جائے
 
پیارے بھائی اصلاح کے لیے پوسٹ کرنا ہو تو اصلاحِ سخن والے زمرہ میں پوسٹ کیجیے۔ :)
دو مشورے
دید پہ اکتفا نہ ہو جائے
"پہ " کو اگر دو حرفی باندھنا ہو تو مناسب ہے کہ "پر" استعمال کیا جائے۔
رخ نہ پھیرو صدا سے تم میری
یہاں "میرا" ہونا چاہیے۔

باقی ان شاء اللہ اساتذہ دیکھ لیتے ہیں۔ :)
 
"پہ " کو اگر دو حرفی باندھنا ہو تو مناسب ہے کہ "پر" استعمال کیا جائے۔
یہاں "میرا" ہونا چاہیے۔
باقی ان شاء اللہ اساتذہ دیکھ لیتے ہیں۔ :)
رخ نہ پھیرو صدا سے تم میری
یہاں پر میری ہی درست ہے۔
میرا خیال ہے شاعر 'صدا سے میرا رخ' پھیرنے کی بات نہیں کر رہا بلکہ 'میری صدا سے رخ' پھیرنے کی بات کر رہا ہے۔
کیا خیال ہے محمد تابش صدیقی بھیا؟
 
رخ نہ پھیرو صدا سے تم میری
یہاں پر میری ہی درست ہے۔
میرا خیال ہے شاعر 'صدا سے میرا رخ' پھیرنے کی بات نہیں کر رہا بلکہ 'میری صدا سے رخ' پھیرنے کی بات کر رہا ہے۔
کیا خیال ہے محمد تابش صدیقی بھیا؟
شعر کی بنت کے اعتبار سے میری کا اشارہ رخ کی طرف جا رہا ہے، یا پھر اگلے مصرع میں سازِ دل کی طرف۔
اگر شاعر کا مقصد "میری صدا سے رخ" ہے، تو پھر میری ہی درست ہو گا، مگر تعقید معلوم ہوتی ہے۔ :)
 
آخری تدوین:

وسیم خان

محفلین
محترم تابش بھائی کی اصلاح بہت خوب ہے۔ کیا اب میں اس غزل کو پابندِ بحور شاعری کے سیکشن میں پوسٹ کر سکتا ہوں؟
 
Top