فیض پھر آئنہِ عالم شاید کہ نکھر جائے ۔ فیض احمد فیض

فرخ منظور

لائبریرین
پھر آئنہِ عالم شاید کہ نکھر جائے​
پھر اپنی نظر شاید تا حدِّ نظر جائے​
​
صحرا پہ لگے پہرے اور قفل پڑے بن پر​
اب شہر بدر ہو کر دیوانہ کدھر جائے​
​
خاکِ رہِ جاناں پر کچھ خوں تھا گِرو اپنا​
اس فصل میں ممکن ہے یہ قرض اتر جائے​
​
دیکھ آئیں چلو ہم بھی جس بزم میں سنتے ہیں​
جو خندہ بلب آئے وہ خاک بسر جائے​
​
یا خوف سے در گزریں یا جاں سے گزر جائیں​
مرنا ہے کہ جینا ہے اِک بات ٹھہر جائے​
​
21، نومبر 1983ء​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top