ذوق پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے ۔ ابراہیم ذوق

پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے
زنجیرِ پا ہے موجِ نسیمِ چمن مجھے

ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگر
فانوس ہو رہا ہے مرا پیرہن مجھے

کوچہ میں تیرے کون تھا لیتا بھلا خبر
شب چاندنی نے آ کے پنھایا کفن مجھے

دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤ
اس سادہ پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے

آیا ہوں نور لے کے میں بزمِ سخن میں ذوق
آنکھوں پہ سب بٹھائیں گے اہلِ سخن مجھے
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ جناب ذوق کی غزل شیئر کرنے کیلیے!

23 اشعار پر مشتمل اس طویل غزل کے تین مطلعے ہیں۔ آپ نے جو اشعار پوسٹ کیے ہیں ان میں کچھ تصحیح چاہیئے وہ میں کر رہا ہوں:


ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگر
فانوس ہو رہا ہے میرا پیراہن مجھے


کوچے میں تیری کون تھا لیتا بھلا خبر
شب چاندنی نے آ کے پہنایا کفن مجھے

دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو بناؤ
کس سادہ پن کے ساتھ تیرا بانکپن مجھے

ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگر
فانوس ہو رہا ہے مرا پیرہن مجھے


کوچہ میں تیرے کون تھا لیتا بھلا خبر
شب چاندنی نے آ کے پنھایا کفن مجھے


دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤ
اس سادہ پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے

اور کچھ مزید اشعار اس غزل کے جو مجھے اچھے لگے!

ہمدم وبالِ دوش نہ کر پیرہن مجھے
کانٹا سا کھٹکتا ہے مرا تن بدن مجھے

اک سر زمینِ لالہ بہار و خزاں میں ہوں
یکساں ہے داغِ تازہ و داغِ کہن مجھے

آ اے مرے چمن کہ ہَوا میں تری ہُوا
صحرائے دل ہوائے چمن در چمن مجھے
 
Top