پوشیدہ ہے کچھ، پردہء اسرار کے پیچھے - ضامن جعفری

فاروقی

معطل
پوشیدہ ہے کچھ، پردہء اسرار کے پیچھے
ہے کرب نمایاں، ترے انکار کے پیچھے​

سائے کے بھلا کیا قدوقامت سے اُلجھنا!
سورج سے نپٹ لوں جو ہے دیوار کے پیچھے​

لَوٹ آئے ہیں‌خاموش نہ دیکھی گئی ہم سے
ارزائی دل، رونقِ بازار کے پیچھے​

گر سچ ہے، تمہیں ترکِ مراسم کا نہیں دکھ
پھر کیا ہے، یہ سب، اشکِ لگاتار کے پیچھے​

پاگل تو نہیں‌ ہو، جو یہ چہروں پہ سکوں ہے
کیوں بیٹھے ہو، ہلتی ہوئی دیوار کے پیچھے​

دراصل، نگاہوں میں، کھٹکتا ہے، مرا سر
ہیں لوگ، بظاہر، مری دستار کے پیچھے​

دنیا کی، نگاہوں میں، تو، میں ناچ رہا ہوں
وہ ڈور لئے بیٹھا ہے، دیوار کے پیچھے​

کیوں لگتے ہیں یہ ٹوٹے ہوئے دل کی سی آواز
کیا راز ہے، ضامن! ترے اشعار کے پیچھے​


(ضامن جعفری)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top