پشتون، انگریزی استعمار اور اہلِ ہندوستان - سید عاصم محمود

آصف اثر نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 10, 2018

  1. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ’’انسان خوش اس وقت ہوتا ہے جب وہ آزاد ہو…اور صرف بہادر و دلیر انسان ہی آزاد ہوتے ہیں۔‘‘(یونانی مورخ،تھوسیڈائڈز)

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کشمیریوں پرگاڑیاں چڑھا کر مار رہی ہے‘ تو اسرائیل میں اسرائیلی فوج نرسوں اور فلسطینیوں کو شست باندھ کے شہید کرتی ہے۔ یہ دونوں ظالم قوتیں انگریز استعمار کی پیداوار ہیں۔ ان انگریزوں نے جگہ جگہ اپنے گھناؤنے نقش چھوڑے۔

    اس واقعہ کو ڈیرھ صدی سے زیادہ عرصہ بیت چلا جب جنگ آزادی1857ء میں فتح پا کر غاصب اور استعمار پسند انگریزوں نے ہندوستان کے بڑے حصے پر قبضہ جما لیا اور سونے کی اس چڑیا کو لوٹنے لگے۔ لیکن جلد ہی مغرب میں ایک ابھرتی طاقت، روس برطانوی ہند کے در پر د ست دینے لگی۔اب انگریزوں کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ روس ہندوستان پر قبضہ کر سکتا ہے۔

    اسی لیے وہ افغانستان اوراس سے ملحقہ علاقوں کو اپنی عمل داری میں لانے کی کوششیں کرنے لگے تاکہ یہ علاقے روسی حملے کی صورت میں برطانوی ہند کی ابتدائی دفاعی لائنیں بن جائیں۔ مگر افغانستان اور محلقہ قبائلی علاقوں میں آباد پشتونوں نے انگریزوں کی حاکمیت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ چناں چہ پشتونوں اور انگریزوں کے مابین لڑائیوں کا طویل سلسلہ چھڑ گیا۔ کسی لڑائی میں پشتون جیت جاتے تو کسی لڑائی میں انگریز جدید ترین اسلحے کی بدولت فاتح رہے۔ بہرحال وہ پشتونوں کے علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر سکے ا وروہاں کے باشندوں نے اپنی خود مختاری اور آزادی خاصی حد تک برقرار رکھی۔

    لڑائیوں میں پشتون بڑی بے جگری‘ دلیری اور بے خوفی سے لڑتے۔ وہ توپوں اور رائفلوں کے سامنے بھی تلواریں سونت کر آجاتے ۔ سینوں پر گولیاں کھاتے مگر پیٹھ نہ دکھاتے۔ انگریزوں نے اسی زبردست بہادری کو پہلے بے وقوفی اور پاگل پن کا نام دیا۔ پھر وہ پشتونوں کو اجڈ ‘ غیر مہذب اور وحشی کے القابات سے یاد کرنے لگے۔انگریزوں کی فوج میں بیشتر فوجی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔

    انگریزوں نے منظم سازش سے پنجاب کے فوجیوں میں یہ باتیں پھیلا دیں کہ پہاڑی علاقوں کے باشندے اجڈ‘ وحشی‘ اور ظالم ہیں۔ اس طرح وہ انہیں قبائلیوں کے خلاف ابھارنا چاہتے تھے۔’’تقسیم کر کے خود حکومت کرو‘‘ کی انگریز پالیسی بہت کامیاب رہی اور قبائلیوں اور اہل پنجاب کے مابین نفرت و عداوت پیدا ہوتی چلی گئی۔ فوجی جب اپنے گھر جاتے‘ تو وہاں بھی قبائلیوں کے خلاف باتیں کرتے۔ یوں یہ باتیں پھیل کر پنجاب کی عوامی تہذیب و ثقافت کا حصہ بن گئیں۔ ناخواندہ اور معصوم قبائلیوں اور اہل پنجاب … دونوں کو احساس تک نہیں ہوا کہ انگریز غاصبوں نے بڑی عیاری اور چالاکی سے دونوں اقوام کو بالمقابل لا کھڑا کیا ۔

    چالیس پچاس سال پہلے بچوں کو ڈرا دھمکا کر گھر لانے کا ایک معروف طریق کار یہ بھی تھا کہ مائیں کہتیں: ’’علاقہ غیر کے آدمی تجھے پکڑ لے جائیں گے۔ تیرے بازو اور ٹانگیں توڑ کر تجھ سے بھیک منگوائیں گے۔‘‘ اس زمانے میں اکثر بچوں کو علاقہ غیر کے باشندوں سے ڈرایا جاتا تھا کہ وہ بڑے وحشی اور ظالم ہیں۔ اسی لیے ان لوگوں کے متعلق پنجاب اور دیگر علاقوں میں عجیب وغریب باتیں پھیل گئیں۔جب میںنے شعور سنبھالا اور تاریخ و عمرانیات سے متعلق سیکڑوں کتب مطالعے میں آئیں تو منکشف ہوا کہ یہ ہندوستان کے انگریزی حاکم تھے جنہوں نے اپنے مفادات کی خاطر قبائلی علاقہ جات المعروف بہ علاقہ غیر کے باشندوں کو بدنام کیا۔

    انگریزوں نے خاص طور پر پنجاب میں بڑے منظم و مربوط طریقے سے یہ پروپیگنڈا کیا کہ قبائلی علاقہ جات کے لوگ بڑے ظالم اور وحشی ہیں۔ اسی پروپیگنڈے کی وجہ سے پنجاب اور ملحقہ علاقوں میں انہیں ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھا جانے لگا۔ 1901ء میں انگریزوں نے قبائلی علاقہ جات کو اپنا ماتحت غلام بنانے کے لیے وہاں خوفناک اور غیر انسانی ’’کالے قوانین‘‘ (ایف سی آر) لاگو کر دیئے اور انگریز پولیٹکل ایجنٹ کسی ڈکیٹر کی طرح حکومت کرنے لگے۔ علاقے کے جو معززین (ملک) انگریز حکومت کا ساتھ دیتے‘ انہیں تو مراعات و نوازشات سے نوازا جاتا‘ مخالفین صفحہ ہستی سے مٹا دیئے جاتے۔ غرض انگریز حاکموں نے قبائلی علاقہ جات میں ظلم و جبر کا بازار گرم کر دیا۔ انگریز خود کو جمہوریت پسند اور حقوق انسانی کا چمپئین کہتے ہیں۔ مگر قبائلی علاقہ جات میں انہوں نے پشتونوں پر جو خوفناک مظالم ڈھائے، وہ تاریخ انسانی کا سیاہ باب ہے۔

    ان علاقوں پر قابض رہنے کی خاطر انگریزوں نے جھوٹ‘ سازش ‘ تقسیم کر کے حکومت کرو‘ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، رشوت ،ظلم و جبر‘ ترغیب… غرض ہربدی کا سہارا لیا۔ جب 1947ء میں آخر انگریز استعمار کا خاتمہ ہوا تو قبائلی علاقہ جات میں یہ خبر پھیل گئی کہ علاقے ایک مسلم حکومت میں شامل ہو گئے ہیں۔اس پر قبائلیوں نے خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔ یہی وجہ ہے ‘ مظلوم کشمیر کو ظالم ہندو شاہی سے آزاد کرانے کے لیے جو لشکر پشاور سے روانہ ہوا‘ اس میں بہت سے لشکری قبائلی تھے۔ آج ہمارے پاس جتنا بھی کشمیر موجود ہے‘ اسے آزاد کرانے میں قبائلیوں نے اہم کردار ادا کیا۔
     

اس صفحے کی تشہیر