پشاور میں ایک زور دار دھماکہ!

arifkarim

معطل
صوبہ سرحد کے شہر پشاور میں ایک دھماکے میں بیس افراد ہلاک اور اسی کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔
پشاور کے ڈی سی او ارباب شاہ رخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بیس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ دھماکہ پشاور میں واقع قصہ خوانی بازار کے قریب کوچہ رسالدار میں واقع امام بارگاہ کے باہر ہوا ہے۔

یہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس کے آس پاس کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان عمارتوں میں آگ لگ گئی ہے۔ آس پاس کی عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئی ہیں۔

آئی جی سرحد ملک نوید نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ امام بارگاہ کے قریب ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خودکش حملہ نہیں تھا کیونکہ اس جگہ گڑھا پڑ گیا ہے۔

وزیر اعلٰی سرحد امیر حیدر خان ہوتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فائر بریگیڈ اس دھماکے سے لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اگر کوئی اور افراد پھنسے ہوئے ہیں تو ان کو نکالا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ صرف محرم الحرام کے حوالے ہی سے نہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملے ناممکن تو نہیں لیکن مشکل بہت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ ایسے واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ ’ لیکن اس وقت میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا۔‘

واضح رہے کہ قصہ خوانی پشاور کا مصروف ترین بازار ہے۔ اس بازار میں دن کے ہر وقت لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ یہاں کھانے پینے کی چیزوں سمیت کپڑے، تانبے اور پلاسٹک کے برتنوں کا کاروبار بڑی سطح پر ہوتا ہے۔ اس جگہ کھلونوں کی بھی بہت تعداد میں دکانیں ہیں۔

بی بی سی سے ماخوذ!

ہمارے دوست اور محسن جناب عبدالمجید صاحب اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں۔ بال بال بچیں ہیں! وہ ہی اس واقعہ کی تفصیل بتائیں گے۔۔۔
 

زین

لائبریرین
ہمارے دوست اور محسن جناب عبدالمجید صاحب اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں۔ بال بال بچیں ہیں! وہ ہی اس واقعہ کی تفصیل بتائیں گے۔۔۔
اللہ پاک کا شکر ہے کہ وہ بچ گئے ۔اللہ پاک باقی جاں‌بحق ہونے والوں کی مغفرت اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطاءفرمائے ۔آمین
 

زین

لائبریرین
ویسے میرے پاس بھی کچھ تفصیلات ہیں‌اگر آپ کو ضرورت ہے تو میں بتادیتا ہوں۔
 

زین

لائبریرین
پشاور ، دھماکے سے تقریبا 25افراد ہلاک اور 85کے قریب زخمی خواتین اوربچے بھی شامل قریبی عمارتوں میں آگ لگ گئی
رواں سال پشاور میں پانچ بڑے حملے چار خودکش تھے 80کے قریب لوگ مارے گئے
پشاوربم دھماکے میں غیرملکی ہاتھ ملوث ہوسکتے ہیں،وزیراعلی سرحدامیرحیدرخان ہوتی
پشاور کے گنجان آباد علاقے قصہ خوانی میں دھماکے سے تقریبا 25افراد ہلاک اور 85کے قریب زخمی ہوگئے جن میں خواتین اوربچے بھی شامل ہیں جمعہ کی رات تقریباسوا سات بجے کے قریب قصہ خوانی کے گنجان آباد علاقہ کوچہ رسالدار میں المدار امام بارگاہ کے قریب نصب بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا دھماکے کی آواز پشاور کے نواحی علاقوں میں بھی سنی گئی دھماکے سے قریب عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور قریبی عمارتوں میں آگ لگ گئی جس کے بعد علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا ،گنجان آباد علاقہ اور تنگ گلیوںکے باعث امدادی کاروائیوں میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دھماکے کے بعدہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ زخمیو ں میںسید محمد،ندیم ،مہراب علی، بشیراحمد،نصرت علی ،خالد، شہزاد،منیرخان،طاہر،سیدرحمان، محمد شفیق،تاج امین،سید فدا حسین،بخت جمال،حفیظ،خالدعثمان، شاکر،محب علی،محمد ناصر ،رمضان،سید شریف،مسلم،ابرار ،سید شیر علی، افضل،نواز، جلیل، مومن، مراد، سید وحید علیشاہ، ناصر خان، شاہد حسین، ساجد، سید رضا حسین، نعیم حسین، مہدی حسن، خالد،منیر خان ولد زمان خان،طاہر خان،کوثر علی، لئیق،حسین گل، محمد یاسر،شاہد اکبر،چمن خان،سیدمرتضیٰ ،سید شاہ، محمد شیر،ایاز غلام، محمد اسرار، کاظم،سید رحمان، امین ،افضل حسین سکنہ کرم ایجنسی، زکی حسین سکنہ کرم ایجنسی،بچوں میں باز گل،حمزہ ،عامرہ ،مسماۃ (ج)، شامل ہیں۔بم دھماکے کے بعد شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور تھوڑے وقت کے اندر پورا شہر سنان ہوگیا اور کاروباری مراکز بند ہوگئے۔حساس مقامات اور اندرون شہر سیکیورٹی فورسسز کی گشت بڑھا دی گئی عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے پہلے چار گاڑیاں جائے وقوع پر کھڑی تھیں اور دھماہ بھی ڈبل کیبین میں رکھنے کی وجہ سے ہوا۔ واضح رہے کہ دھماکے کے مقام پر کرم ایجنسی سے روزگار کے سلسلے میں آنے والے ایک خاص مسلک کے لوگوں کی بڑی تعداد گھروں اور ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ مرنے والوں میں بھی ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہیں۔قصہ خوانی بازار ،مینہ بازار ،شاہین بازار،کریم پورہ بازار ،خیبر بازار ،نمک منڈی اور گردوں نواح کے تمام بازار بند ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے لوگوںکو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔سرحد پولیس کے سربراہ ملک نویدنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کی جگہ پر پانچ فٹ گڑھا بن گیا اور دھماکہ خیز مولاد 25سے 20کلو وزنی تھا علاقے کو گھیرے میں لینے کی وجہ یہ تھی کہ دوسرے دھماکے کی پولیس کو اطلاع تھی اور آگ بم میں کیمیکل کی وجہ سے لگی انہوں نے کہاکہ ہشتنگری بم دھماکے کو اس سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق دھماکے کی اطلاع پولیس کو پہلے سے تھی وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی نے کہاکہ بم دھماکے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کا امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔دھماکہ کرنے والے انسانیت اور مسلمان دشمن عناصر ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ان دہشت گرد عناصر کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔صوبائی وزیر اطلاعات اور بین االصوبائی رابطہ میاں افتخار حسین نے کہاکہ ہر جگہ پولیس اور ایجنسیز کے افراد کو بیٹھایا نہیں جاسکتا اور یہ دھماکے ہمارے حوصلے پسند کرنے کے لئے کئے جارہے ہیں اورعوا م کو ہمارے ساتھ ملکر ان حالات کا مطابقہ کرنا ہوگا اور ہم ہر مشکل کے مقابلے کے لئے تیار ہیں۔اندرون شہر میں پولیس کی بھاری نفری دوسرے بم کو تلاش کرنے کےلئے تعینات کردی گئی ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال پشاور میں پانچ بڑے حملے جن میں چار خودکش حملے تھے 80کے قریب لوگ مارے گئے ہیں جن میں متعدد سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔وزیراعلی سرحدامیرحیدرخان ہوتی نے نمک منڈی کے قریب کوچہ رسالدار میں بم دھماکے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس قسم کے واقعات کامقصد صرف ملک میں امن وامان کی فضاء کوسبوتاژ کرناہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔دھماکے کے بعدصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایاکہ دھماکہ بہت شدیدتھا ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ کاربم دھماکہ تھاتاہم یہ کلیئرنہیں کہ کارمیں کوئی سوارتھایاپھرپلانٹ ڈیوائس تھا۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ہماری تمام تر توجہ امدادی سرگرمیوں کی طرف مبذول ہے زخمیوں کوہسپتال منتقل کیاجارہاہے دھماکے کی جگہ میں آگ لگی ہوئی جسے بجھانے کےلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔امیرحیدر ہوتی نے کہاکہ ہسپتال میں انتظامات تسلی بخش ہےں اورتمام زخمیوں کے علاج کےلئے ڈاکٹرزدستیاب ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دھماکے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوسکتاہے جو پاکستان میں حالات خراب کرناچاہتے ہیں اوران غیرملکی قوتوں کی کوشش ہے کہ پاکستان کی سالمیت کونقصان پہنچائیں۔ان کاکہنا تھا کہ اس سے قبل بھی جتنے واقعات ہوئے ہیں اس میں غیرملکی ہاتھ ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
Peshawarblast.jpg

Peshblast2.jpg

5.jpg


بدقسمتی سے پاکستان میں خود کش حملوں، ریموٹ بم دھماکوں اور دیگر تباہی و بربادی پھیلنے کا وہ پوٹنشل موجود ہے جو کہ عراق کی نسبت بھی زیادہ ثابت ہو سکتا ہے۔
 
رات کو میں دکان بند ہی کر رہا تھا کہ اچانک دھماکہ ہوا یوں محسوس ہورہا تھا کہ شدید ترین زلزلہ ہے زمین بری طرح ہل رہی تھی اور لوگ بھاگ رہے تھے ایک منٹ تک تو کچھ سمھج ہی نہیں‌آئی کہ کیا ہوا ہے پھر اندازہ ہوا کہ کہیں‌قریب ہی دھماکہ ہوا ہے دکان بند کرنے کے بعد میں اپنے ایک نیوز رپوٹر دوست کے ساتھ متاثرہ مقام کی طرف روانہ ہوا لیکن بے پناہ بھیڑ اور دھکم پھیل کی وجہ سے دھماکہ کی جگہ تک پہنچے میں‌کامیابی نہیں‌ہوئی لیکن دھماکہ کی شدت کی اثر مین روڈ قصہ خوانی بازار میں بھی بری طرح سے محسوس ہورہی تھی سارے پشاور کو دھماکہ کی شدت نے ہلادیا تھا پشاور میں دھماکہ ہوتے رہتے ہیں لیکن اتنی شدت کا دھماکہ میں نے کبھی بھی نہیں‌دیکھا تھا دھماکہ کے کوئی آدھ گھنٹے بعد پولیس اور ایمبولینس جائے حادثہ پھر پہنچ گئے اس سے پہلے علاقے کے لوگ اپنی مدد آپ کی تحت کی لاشوں کو اٹھانے میں مصروف تھے دھماکہ کے بعد متاثرہ جگہ کے اردگرد کے عمارتوں میں آگ لگ گئی تھی جسکی وجہ سے زخمیوں اور لاشوں کو وہاں سے نکالنے میں لوگوں کو شدید دشواری پیش آرہی تھی ۔ دھماکہ کے بعد میں‌ہسپتال گیا تو وہاں‌پھر مجھ سے کمزور دل شخص کے لئے بیہوش ہونے کے مناظر تھے لاش پھر لاش لائی جارہی تھی ہسپتال میں ساری ہسپتال زخمیوں سے بھری پڑھی تھی موقع پھر تو زخمیوں میں کوئی دوست دکھائی نہیں‌دیا لیکن جب واپس گھر آیا تو بی بی سی کی اردو نیوز سائٹ میں اپنے ایک رشتہ دار کی زخمی حالت میں تصویر دیکھی اسکے بعد دوبارہ ہسپتال روانہ ہوا اللہ نے فضل کیا تھا اس عزیز کا بیٹا تھوڑا زخمی ہوا تھا دھماکہ میں فی الحال ابھی تک کسی اور یار دوست کی دھماکہ میں زخمی یا خدانخواستہ جان بحق ہونے کی معلومات نہیں‌ہے آپ دوستوں سے بھی زخمیوں اور شہیدوں کیلئے دعا سے درخواست ہے کہ اپنی دعاوں میں شہیدوں اور زخمیوں کو یاد رکھیں
 

گرو جی

محفلین
اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں‌رکھے آمیں
میری بھی ایک دوست کے والد صاحب کی دوکاں ہے قصہ خوانی بازار میں‌اور وہ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ جلدی آ گئے گھر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے اس لئے بچ گئے ورنہ ان کی دوکان کے قریب‌ہی ہوا تھا
 
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری علم کے مطابق کل کے دھماکہ میں 26 افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ ہلاکتوں میں اضافہ کا بھی قوی امکان ہے ۔
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہم نے بھی سنا ۔جبکہ ہمارا گھر جائےوقوعہ سے تقریباً 10 کلو میٹر دور ہے ۔
میرے ایک ہمسایہ نے مجھے بتایہ کہ میں اس واقعہ سے 15 منٹ پہلے قصہ خوانی میں شاپنگ کی غرض سے موجود تھا کہ لیکن دل میں ایسے ہی شک گزرا کہ پہلے بھی یہاں پر کئ دھماکے ہوئے کہیں آج دھماکہ نہ ہوجائے ، لہٰذا میں نکل پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی صدر سٹیشن پہنچا تو زوردار دھماکہ ہوا ۔۔۔۔۔۔
 

arifkarim

معطل
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری علم کے مطابق کل کے دھماکہ میں 26 افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ ہلاکتوں میں اضافہ کا بھی قوی امکان ہے ۔
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہم نے بھی سنا ۔جبکہ ہمارا گھر جائےوقوعہ سے تقریباً 10 کلو میٹر دور ہے ۔
میرے ایک ہمسایہ نے مجھے بتایہ کہ میں اس واقعہ سے 15 منٹ پہلے قصہ خوانی میں شاپنگ کی غرض سے موجود تھا کہ لیکن دل میں ایسے ہی شک گزرا کہ پہلے بھی یہاں پر کئ دھماکے ہوئے کہیں آج دھماکہ نہ ہوجائے ، لہٰذا میں نکل پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی صدر سٹیشن پہنچا تو زوردار دھماکہ ہوا ۔۔۔۔۔۔

آپ کے ہمسائے کی چھٹی حس تو بہت تیز ہے!
 

شمشاد

لائبریرین
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ بے گناہ مرحومین پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، زخمیوں کو صحت اور پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔
 
Top