دعا پشاور سکول کے شہدا کے لیے فاتحہ اور یرغمال و زخمیوں کے لیے دعا کی درخواست

جاسمن

مدیر
تمہارا وہ چہرہ جسے میں چومتے تھکتی نہ تھی۔۔۔آج خون میں ڈوبا ہے۔۔مما ایک پپی۔۔۔تم میرے چہرے کو ،میرے ماتھے کو۔۔۔آہ ۔۔۔میرا دل ۔۔۔میرا پورا جسم آنسو بن کے بہہ رہا ہے۔ درد ہی درد ہے۔ تمہیں تو اتنی ٹھنڈ لگتی ہے۔۔۔کیسے ۔۔۔ کیسے برداشت کرو گے۔۔۔۔ آؤ تمہیں چھپا لوں ۔۔۔۔میری گود شاید چھوٹی پڑ گئی ہے۔۔
کوئی مجھے بتاؤ کہ بدلہ کیسے لوں ۔۔کوئی مجھے بتاؤ کہ میں تلافی کیسے کروں؟؟
اللہ مجھ سے خفا ہے ورنہ ایسا کیوں ہوتا؟ بتاؤ اللہ کو کیسے مناؤں؟؟کوئی بتائے؟؟؟ ہائے/
 
آخری تدوین:

فرحت کیانی

لائبریرین
تمہارا وہ چہرہ جسے میں چومتے تھکتی نہ تھی۔۔۔آج خون میں ڈوبا ہے۔۔مما ایک پپی۔۔۔تم میرے چہرے کو ،میرے ماتھے کو۔۔۔آہ ۔۔۔میرا دل ۔۔۔میرا پورا جسم آنسو بن کے بہہ رہا ہے۔ درد ہی درد ہے۔ تمہیں تو اتنی ٹھنڈ لگتی ہے۔۔۔کیسے ۔۔۔ کیسے برداشت کرو گے۔۔۔۔ آؤ تمہیں چھپا لوں ۔۔۔۔میری گود شاید چھوٹی پڑ گئی ہے۔۔
کوئی مجھے بتاؤ کہ بدلہ کیسے لوں ۔۔کوئی مجھے بتاؤ کہ میں تلافی کیسے کروں؟؟
اللہ مجھ سے خفا ہے ورنہ ایسا کیوں ہوتا؟ بتاؤ اللہ کو کیسے مناؤں؟؟کوئی بتائے؟؟؟ ہائے/
اگر ہمارے لیے انسانیت اور ہم وطنی کا رشتہ رکھتے ہوئے اس دکھ کو برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے تو جن کے گھر اجڑے ہیں ان کی کیفیت کیسی ہو گی بهلا؟
 

S. H. Naqvi

محفلین
اللہ کی اور تمام مخلوقات کی لعنت ہو ان پر، ظلم اور بربریت کی انتہا کر دی انھوں نے، یہ درندوں سے بھی بدتر ہیں،
میری خالہ بھی اس سانحہ میں شہید ہو گئی ہیں اور ان کا بیٹا زخمی ہوا ہے۔ وہ لیکچرار تھیں تفصیل کے لیے۔۔۔۔!

"A friend of mine who was sitting close to the window said he saw some men running from the side of the compound wall and then split up - heading towards different blocks," Sitwat says.


Some bullets hit the windows and broke the glass. Teachers on duty in the hall told the boys to move to the centre of the hall and lie down so that they were not visible from any side.

'A slight burning sensation'
Sitwat says they were rescued by the army an hour or so later
.

_79815061_tv025158093.jpg
Baqir Jafri's mother, seen in the photograph, was a teacher at the school.
His younger brother, 15-year-old Baqir Jafri, was not so lucky. He was hit in the head, but the bullet just grazed his skin and did not pierce the bone.

Baqir was in the auditorium.

An army medical team had just started a workshop for students on first aid. Scores of boys between the ages of 14 and 16 were present in the hall when they heard the first two shots.

"Then we heard a third shot, and our principal, Madam Tahira Qazi, who was sitting in the front row, turned around and asked one of the teachers to lock the back door. I turned around to see Sir Javed walk up to the door, but before he could lock it, he was hit by two bullets that came through the glass. He fell down."
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
اگر ہمارے لیے انسانیت اور ہم وطنی کا رشتہ رکھتے ہوئے اس دکھ کو برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے تو جن کے گھر اجڑے ہیں ان کی کیفیت کیسی ہو گی بهلا؟

یقین نہیں آتا ، الفاظ منجمد ہو چکے ہیں بس صرف آنسو ہیں جو ہر وقت بہتے رہتے ہیں
 
Top