پشاورمیں یونیورسٹی ٹاؤن کے قریب دھماکا،2ایف سی اہلکار جاں بحق

amirnawazkhan

محفلین
پشاور…پشاور کے علاقے یونی ورسٹی ٹاوٴن میں ایرانی قونصل خانے کے قریب خود کش دھماکا ہوا ہے ،دھماکے میں دو ایف سی اہل کار شہیداور متعدد زخمی ہوئے ہیں ۔ ایس پی کینٹ کے مطابق اس خود کش حملے میں ایف سی اہلکاروں سمیت9افرادزخمی بھی ہوئے ہیں ،دھماکا ایف سی کی چیک پوسٹ کے قریب ہوا۔ دھماکے کے بعد علاقے سے فائرنگ کی بھی اطلاعات ملی ہیں ۔پشاور کے علاقے یونیورسٹی ٹاؤن میں دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ، زخمی افراد کو خیبر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔یونیورسٹی ٹاؤن کا یہ علاقہ گنجان آباد ہے اس علاقے میں مختلف دفاتر بھی قائم ہیں۔

http://beta.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=138992
 

amirnawazkhan

محفلین
پشاور…پشاور کے علاقے یونی ورسٹی ٹاوٴن میں ایرانی قونصل خانے کے قریب خود کش دھماکا ہوا ہے ،دھماکے میں دو ایف سی اہل کار شہیداور متعدد زخمی ہوئے ہیں ۔ ایس پی کینٹ کے مطابق اس خود کش حملے میں ایف سی اہلکاروں سمیت9افرادزخمی بھی ہوئے ہیں ،دھماکا ایف سی کی چیک پوسٹ کے قریب ہوا۔ دھماکے کے بعد علاقے سے فائرنگ کی بھی اطلاعات ملی ہیں ۔پشاور کے علاقے یونیورسٹی ٹاؤن میں دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ، زخمی افراد کو خیبر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔یونیورسٹی ٹاؤن کا یہ علاقہ گنجان آباد ہے اس علاقے میں مختلف دفاتر بھی قائم ہیں۔
http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=138992
 
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے ، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. خودکش حملوں کے ضمن میں ۔ پاکستان میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث کےجید علماء خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں.بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گرد ملک و قوم کے کھلے دشمن ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے .
اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ جنگ میں طاقت کااستعمال ان لوگوں تک محدود ہونا چاہیے جو میدانِ جنگ میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہوں۔ بے گناہ لوگوں کا قتل فسادفی الارض اور اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام اورپاکستان سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان دنیا بھر اور پاکستان میں دہشت گردی کے میزبان ہیں۔طالبان بندوق کے زور پر اپنے سیاسی نظریات پاکستانی عوام پر ٹھونسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


…………………………………………

کوہاٹ دہماکہ میں 12 افراد ہلاک

http://awazepakistan.wordpress.com/
 
Top