1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

پروین شاکر پروین شاکر اور ان کا منتخب کلام

خرد اعوان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 1, 2008

  1. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    سلگ رہا ہے میرا شہر ، جل رہی ہے ہوا
    یہ کیسی آگ ہے جس میں پگھل رہی ہے ہوا

    یہ کون باغ میں خنجر بدست پھرتا ہے
    یہ کس کے خوف سے چہرہ بدل رہی ہے ہوا

    شریک ہو گئی سازش میں کس کے کہنے پر
    یہ کس کے قتل پہ اب ہاتھ مل رہی ہے ہوا

    پرندے سہمے ہوئے ہیں درخت خوف زدہ
    یہ کس ارادے سے گھر سے نکل رہی ہے ہوا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں
    شبِ وصال کا جیسے خمار آنکھوں میں

    منا سکے گی اسے گرد ماہ و سال کہاں
    کھینچی ہوئی ہے جو تصویرِ یار آنکھوں میں

    بس ایک شب کی مسافت تھی اور اب تک ہے
    مہ و نجوم کا سارا غبار آنکھوں میں

    ہزار صاحب رخش صبا مزاج ہوئے
    بسا ہوا ہے وہی شہ سوار آنکھوں میں

    وہ ایک تھا کیا اس کو جب تہہ تلوار
    تو بٹ گیا وہی چہرہ ہزار آنکھوں میں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    جز طلب اس سے کیا نہیں ملتا
    وہ جو مجھ سے ذرا نہیں ملتا

    جان لینا تھا اس سے مل کے ہمیں
    بخت سے تو سوا نہیں ملتا

    زخم کھلنے کے منتظر کب سے
    اور لمس ہوا نہیں ملتا

    کس قدر بد نصیب بادل ہیں
    جن کو دست دعا نہیں ملتا

    میرا مسلک نہیں قصاص مگر
    کیا مجھے خوں بہا نہیں ملتا

    بستایں آخری دموں پر ہیں
    اور حرف شفا نہیں ملتا

    ایک آسیب کے مکان میں ہوں
    اور رد بلا نہیں ملتا​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    تاروں کے لیے بہت کڑی تھی
    یہ رخصت ماہ کی گھڑی تھی

    ہر دل پہ ہزار نیل نکلے
    دنیا کسے پھول کی چھڑی تھی

    واں ڈھیر تھا پتھروں کا تیار
    یاں پھول کی ایک پنکھڑی تھی

    دریا میرے سامنے تھا لیکن
    میں پیاس سے جاں بلب کھڑی تھی

    دیکھوں گی میں آج اس کا چہرہ
    کل خواب میں روشنی بڑی تھی

    تھا جھوٹ امیر و تخت آرا
    سچائی صلیب پر گڑی تھی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    رخصت کی کسک رہی ہے اب تک
    اک شام سلگ رہی ہے اب تک

    شب کس نے یہاں قدم رکھا تھا
    دہلیز چمک رہی ہے اب تک

    ماتھے پہ وہ لب تھے ثانیہ بھر
    اور روح مہک رہی ہے اب تک

    دیکھا تھا یہ کس نظر سے اس نے
    تصویر دمک رہی ہے اب تک

    جو بات کہی نہیں تھی اس سے
    لہجے میں کھنک رہی ہے اب تک

    کب کا ہوا خالی ساغر شام
    مے ہے کہ چھلک رہی ہے اب تک

    بن عکس یہ کیسی جگمگاہٹ
    شیشے سے جھلک رہی ہے اب تک

    وہ چشم کہ باغ آشنا ہے
    جنگل میں بھٹک رہی ہے اب تک

    دونوں کے لبوں تک آتے آتے
    اک بات اٹک رہی ہے اب تک

    بارش کی ہے چاہ شاخ کو اور
    بادل سے جھجک رہی ہے اب تک

    شانوں پہ نہیں وہ ہاتھ لیکن
    چادر سی سرک رہی ہے اب تک ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  6. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    لو چراغوں کی کل شب اضافی رہی
    روشنی تیرے چہرے کی کافی رہی

    اپنے انجام تک آ گئی زندگی
    یہ کہانی مگر اختلافی رہی

    ہے زمانہ خفا تو بجا ہے کہ میں
    اس کی مرضی کے بلکل منافی رہی

    ایسے محتاط ، ایسے کم آمیز سے
    اک نظر بھی توجہ کی کافی رہی

    صبح کیا فیصلہ حاکم تو کرے
    جشن کی رات تک تو معافی رہی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    آنکھوں نے کیسے خواب تراشے ہیں ان دنوں
    دل پر عجیب رنگ اترتے ہیں ان دنوں

    رکھ اپنے پاس اپنے مہ و مہر اے فلک
    ہم خود کسی کی آنکھ کے تارے ہیں ان دنوں

    دست سحر نے مانگ نکالی ہے بار ہا
    اور شب نے آکے بال سنوارے ہیں ان دنوں

    اس عشق نے ہمیں ہی نہیں معتدل کیا
    اس کی بھی خوش مزاجی کے چرچے ہیں ان دنوں

    اک خوشگوار نیند پہ حق بن گیا میرا
    وہ رت جگے اس آنکھ نے کاٹے ہیں ان دنوں

    وہ قحط حسن ہے کہ سبھی خوش جمال لوگ
    لگتا ہے کوہ قاف پہ رہتے ہیں ان دنوں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  8. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    ایک ہی ہاتھ میں سب کچھ سمٹ آیا شاید
    بادشاہٹ کا زمانہ پلٹ آیا شاید

    دل کو دنیا کی ضرورت ہی نہیں پڑنے دی
    تیرے لشکر سے اکیلے نبٹ آیا شاید

    دفن کر آئی میں جنگل میں خزانہ لیکن
    سانپ سا پھر کوئی دل سے لپٹ آیا شاید

    اس قدر بھیڑ تھی اس بار بھی رستے میں تیرے
    کوئی چہرہ ، کسی کھڑکی سے ہٹ آیا شاید

    لوٹنے والے کو پہچاننا مشکل ٹھہرا
    ایک چہرہ ، کئی چہروں میں بٹ آیا شاید

    کسی صورت سے ابھی سر کو بچا رکھا تھا
    جنگ بے صرفہ میں لیکن وہ کٹ آیا شاید​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  9. خرد اعوان

    خرد اعوان محفلین

    مراسلے:
    514
    تمھاری سالگرہ پر

    یہ چاند اور یہ ابر رواں گزرتا رہے
    جمال شام تہہ آسماں گزرتا رہے

    بھرا رہے تیری خوشبو سے تیرا صحن چمن
    بس ایک موسم عنبر فشاں گزرتا رہے

    سماعتیں تیرے لہجے سے پھول چنتی رہیں
    دلوں کے ساز پہ تو نغمہ خواں گزرتا رہے

    خدا کرے تیری آنکھیں ہمیشہ ہنستی رہیں
    دیار وقت سے تو شادماں گزرتا رہے

    میں تجھ کو دیکھ نہ پاؤں تو کچھ ملال نہیں
    کہیں بھی ہو تو ستارہ نشاں گزرتا رہے

    میں مانگتی ہوں تیری زندگی قیامت تک
    ہوا کی طرح سے تو جادواں گزرتا رہے

    میرا ستارہ کہیں ٹوٹ کر بکھر جائے
    فلک سے تیرا خط کہکشاں گزرتا رہے

    میں تیری چھاؤں میں کچھ دیر بیٹھ لوں اور پھر
    تمام راستہ بے سائباں گزرتا رہے

    یہ آگ مجھ کو ہمیشہ کیے رہے روشن
    میرے وجود سے تو شعلہ ساں گزرتا رہے

    میں تجھ کو دیکھ سکوں آخری بصارت تک
    نظر کے سامنے بس اک سماں گزرتا رہے

    ہمارا نام کہیں تو لکھا ہوا ہو گا
    مہ و نجوم سے یہ خاکداں گزرتا رہے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3

اس صفحے کی تشہیر