پاکستان کی خوبصورت جھیلیں

یاز

محفلین
یہ رہی تصویر:
10399166_111499281081_6182558_n.jpg


رہی بات دوبارہ دیکھنے کا قصد کرنے کی تو یہ دیکھیں:
زبردست جناب۔
ہم نے اپنی زنبیل کھنگالی تو یہ تصویر برآمد ہوئی، جو 15 ستمبر 2003 کو دیوسائی کو جاتے ہوئے ہم نے اس جھیل کے پاس رک کر کھینچی تھی ۔ اس سے پہلے 2001 میں بھی اس جھیل کی زیارت نصیب ہوئی تھی۔
juQAodn.jpg


اسی دن دیوسائی کی سحر انگیزیوں کے مزے لیتے ہوئے شیوسر جھیل پہنچے اور وہیں ٹینٹ لگا کے رات گزاری۔ انتہائی بلند ہونے کی وجہ سے وسط ستمبر میں ہی خزاں کے رنگ نمایاں ہیں
ceMKfVF.jpg

 

یاز

محفلین
گوگل سےمدد لی گئی ہے ۔
لولوسر جھیل:
لولوسر جھیل مانسہرہ سے ساڑھے تین سو کلومیٹر دور واقع ہے، ناران چلاس روڈ پر 3353 میٹر بلندی پر واقع لولوسر جھیل ناران کے قصبے سے ایک گھنٹے کی مسافت پر وادیٔ کاغان اور کوہستان کی سرحد پر واقع ہے۔ اس جھیل پر ہر سال روس سے آنے والے پرندے اور سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔
لولوسر دراصل اونچی پہاڑیوں اور جھیل کے مجموعے کا نام ہے، ناران آنے والے سیاح لولوسر جھیل دیکھنے ضرور آتے ہیں اور غضب ناک دریائے کنہار میں پانی کا بڑا ذریعہ لولوسر جھیل ہی ہے۔ جھیل کا پانی شیشے کی طرح صاف ہے اور لولوسر کی برف سے ڈھکی پہاڑیوں کا عکس جب جھیل کے صاف پانی میں نظر آتا ہے تو دیکھنے والوں کے دل موہ لیتا ہے یہ ایک قابل دید نظارہ ہوتا ہے

542145ee33d56.jpg



شکریہ جناب۔
لولوسر کافی بڑی جھیل ہے اور اچھی بات یہ کہ عین سڑک کے کنارے واقع ہے، یعنی ٹریک کر کے جانے کی مشقت سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ اور سڑک بھی ایسی شاندار ہے کہ ہر قسم کی گاڑی بڑے آرام سے وہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ ناران سے آگے تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو ہے۔ لولوسر کا پانی بہت خوبصورت ہے، تاہم اس جھیل کو ایک بہت بڑا ڈرا بیک یہ درپیش ہے کہ اس کا بیک ڈراپ بس گزارہ ٹائپ ہی ہے۔ یعنی نہ مناسب سبزہ ہے اور نہ برفیلے گلیشئر وغیرہ۔
ہمارے اگست 2015 کے سفرِ کاغان و بابوسر کے دوران لولوسر جھیل کی بنائی گئی چند تصاویر پیش ہیں۔
zBLnWbp.jpg


b7IPtt8.jpg


OsBBWHT.jpg
 

یاز

محفلین
آنسو جھیل
4245 میٹر کی بلندی پر واقع آنسو جھیل کا نام اس وجہ سے پڑا کہ اس کی شکل کافی حد تک آنسو سے مشابہ ہے۔ آنسو جھیل کو جانے کے لئے جھیل سیف الملوک کی طرف سے بھی ٹریک کرکے جایا جا سکتا ہے اور کاغان ویلی روڈ پر واقع مہاندری نامی گاؤں سے بھی۔ عموماً ٹریکر حضرات سیف الملوک کی جانب سے ٹریک شروع کرتے ہیں اور مہاندری کی جانب اختتام کرتے ہیں۔ وجہ یہ کہ اس جانب سے کم چڑھائی سے پالا پڑتا ہے (سیف الملوک کی اپنی بلندی 3200 میٹر ہے)۔ آنسو جھیل کی اپنی بلندی بھی بہت زیادہ ہے اور یہ چاروں طرف سے مکمل برفیلے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے۔ اس لئے یہ سال کے زیادہ تر دورانئے میں برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ ذیل میں پہلی تصویر ستمبر کی ہے، جس میں برف عموماً اپنی کم ترین مقدار تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔
1024px-A_view_of_Ansoo_Lake_in_September.jpg



Aansoo%2Blake.jpg
 
آخری تدوین:

یاز

محفلین
شونتر جھیل
یہ ایک چھوٹی سی جھیل ہے جو کہ کشمیر کے کافی دور افتادہ علاقے وادیء شونتر میں واقع ہے۔ اس کی سطح سمندر سے بلندی 3100 میٹر کے قریب ہے۔ اس تک وادیء نیلم کے قصبے کیل سے بذریعہ جیپ پہنچا جا سکتا ہے۔ کافی خوبصورت ہونے کے باوجود اس جھیل کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ یہ جھیلوں کے شائقین میں زیادہ توجہ کے قابل نہیں سمجھی جاتی۔
8266396456_bdb1f14b18_o.jpg

Shounter-Lake-Pakistan.jpg
 

یاز

محفلین
یاز اگر اپنی یا دوستوں کی کھینچی ہوئی تصاویر شیئر کریں تو بہتر ہو گا۔ انٹرنیٹ پر عام موجود تصاویر میں اکثر غلط نام بھی لکھا ہوتا ہے اور دوسرے saturation وغیرہ اتنی بڑھا کر تصاویر پوسٹ کی جاتی ہیں کہ حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہتا۔ پاکستان کے شمال میں بہت خوبصور جھیلیں ہیں انہیں فوٹوشاپ کی overprocessing کی ضرورت نہیں۔
زیک بھائی! اپنی کھینچی ہوئی تصاویر تو بہت کم جھیلوں کی ہی دستیاب ہوں گی۔ لیکن جس جس کی میسر ہوئی، تو ضرور شیئر کروں گا۔ اور درست فرمایا کہ انٹرنیٹ پہ موجود بہت سی تصاویر غلط نام کے ساتھ اپلوڈ کی گئی ہوتی ہیں۔ اس معاملے میں یہ عرض کروں گا کہ میری حتی الامکان کوشش ہو گی کہ کوئی تصویر غلط نام کے ساتھ شیئر نہ ہو۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور خصوصاً جھیلوں سے شغف اور عقیدت کی بدولت زیادہ تر جھیلوں کی تصاویر کو تو ہم اب پہچان بھی لیتے ہیں، اور کوئی غلطی ہو تو اس کی وقتاً فوقتاً فیس بک وغیرہ پہ نشاندہی بھی کر دیا کرتے ہیں۔ تاہم اس ضمن میں پرفیکشن تو کیا، پرفیکشن بٹا دو کا دعویٰ بھی نہیں کیا جا سکتا تو غلطی کا امکان پھر بھی رہے گا۔
بڑھی ہوئی سیچوریشن اور فوٹو شاپڈ تصاویر کی جانب آپ نے درست توجہ دلائی ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ ایسی تصاویر شیئر کروں جن میں کم سے کم مصنوعی پن جھلک رہا ہو۔
توجہ دلانے کا شکریہ جناب۔
 

یاز

محفلین
عطا آباد جھیل
یہ جھیل 2010 میں ایک بہت بڑی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ہنزہ سے 14 کلومیٹر شمال میں ایک پہاڑ کا بہت بڑا حصہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سرکتا ہوا نیچے آ گرا۔ نتیجے میں جمع ہونے والے مٹی اور پتھر کے عظیم الجثہ ڈھیر نے ایک ڈیم کی مانند دریائے خنجراب کا راستہ روک لیا اور پانی جمع ہونے سے ایک عظیم الشان جھیل وجود میں آ گئی۔ ابتدا میں اس جھیل کی لمبائی 25 کلومیٹر تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد میں سلائیڈنگ کا کچھ ملبہ ہٹا کر کاز وے بنانے سے جھیل کا پانی کچھ کم ہوا اور اب لمبائی اٹھارہ انیس کلومیٹر کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ مکمل چٹیل اور پتھریلے بلندوبالا پہاڑوں میں گھری اس جھیل کا پانی انتہائی نیلگوں اور ساکت ہے اور جھیل کا پہلا نظارہ انسان کو مسحور کر دیتا ہے۔
درج ذیل تصاویر ہمارے 2015 کے سفر کے دوران کھینچی گئیں
YuIWydx.jpg


OoTGkSo.jpg
 

یاز

محفلین
سنا ہے کوئی لونڈنڈ جھیل بھی ہے سوات کے پاس جہاں تک دو گھنٹے کی ٹریکنگ ہے اور وہاں ابھی تک مشینوں کی آلودگی نہیں پہنچی.. اس کے بارے بھی کچھ بتائیں
حسن بھائی! اس نام کی جھیل تو نہیں سنی۔ البتہ سوات کے قرب و جوار میں مشہور مہوڈنڈ جھیل ہے، اس کے علاوہ جہاز ڈنڈ اور نیل ڈنڈ نامی دور افتادہ جھیلیں بھی سوات کے علاقہ میں ہی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جس جھیل کا نام آپ بتا رہے ہیں، وہ کسی اور نام سے بھی مشہور ہو۔ جیسے جہاز ڈنڈ جھیل کا زیادہ مشہور نام کٹورا جھیل ہے۔
 

حسن ترمذی

محفلین
حسن بھائی! اس نام کی جھیل تو نہیں سنی۔ البتہ سوات کے قرب و جوار میں مشہور مہوڈنڈ جھیل ہے، اس کے علاوہ جہاز ڈنڈ اور نیل ڈنڈ نامی دور افتادہ جھیلیں بھی سوات کے علاقہ میں ہی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جس جھیل کا نام آپ بتا رہے ہیں، وہ کسی اور نام سے بھی مشہور ہو۔ جیسے جہاز ڈنڈ جھیل کا زیادہ مشہور نام کٹورا جھیل ہے۔
ہوسکتا ہے کسی اور نام سے بھی مشہور ہو یا مجھے صحیح نام لینے میں مغالطہ ہو رہا ہو ۔۔ کافی عرصہ پہلے اس بارے میں ایک آرٹیکل پڑھا تھا تو اسلیئے ذہن میں ہے ۔
 

یاز

محفلین
عطا آباد جھیل کی وجہ سے قراقرم ہائی وے کا جو حصہ زیرِ آب آ گیا تھا، اس کی وجہ سے گزشتہ سال تک ہر قسم کی آمدورفت کشتیوں کے ذریعے ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ گاڑیاں بھی کشتی کے ذریعے پار پہنچائی جاتی تھیں۔
people-on-the-lake.jpg

Attabad_lake_jeep_being_transfered_from_one_side_to_another..JPG
 

یاز

محفلین
شمالی علاقہ جات سے کچھ دیر کے لئے پوٹھوہار کی طرف آتے ہیں۔ سب سے پہلے
کلر کہار جھیل
یہ مشہور و معروف جھیل ہے، جو کلرکہار قصبے کے پاس واقع ہے۔ مزے کی بات یہ کہ لاہور اسلام آباد موٹروے عین اس جھیل کے پاس سے گزرتی ہے، تو اس جھیل کی سیر کو جانا آسان ترین ہے۔ جھیل کے ساتھ ہی "تختِ بابری" کا تاریخی مقام بھی ہے۔
48607465.jpg

kk.jpg
 

یاز

محفلین
اور اب وادیء سون کی چند جھیلیں
اوچھالی جھیل
یہ وادیء سون کی سب سے بڑی جھیل اور سب سے مشہور جھیل ہے۔ اس تک جانا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ کلرکہار سے خوشاب کی طرف جانے والے راستے پہ جابہ موڑ سے وادیء سون میں داخل ہوں اور نوشہرہ نامی قصبے سے پندرہ بیس منٹ آگے کی ڈرائیو پہ یہ جھیل آ جاتی ہے۔ کلرکہار سے تقریباً دو گھنٹے میں اوچھالی جھیل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ جھیل میں چند سو میٹر اندر تک سڑک بنا کے پکنک کے لئے ایک پلیٹ فارم بھی بنایا گیا ہے۔
زیلی تصویر میں بیک گراؤنڈ میں سکیسر کی پہاڑی چوٹی بھی دیکھی جا سکتی ہے جو تقریباً 5000 فٹ بلند ہے اور سالٹ رینج کی بلند ترین چوٹی ہے۔
2573095354_23c7b7bb45_b.jpg


1058355d1350382077-pakwheels-travellers-trip-soan-valley-uchali-lake.jpg
 
آخری تدوین:

یاز

محفلین
مزید اوچھالی جھیل
uchali+lake.jpg


ذیلی تصویر میں جھیل کے بیک گراؤنڈ میں انگہ نامی گاؤں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو کہ احمد ندیم قاسمی صاحب کی جائے پیدائش کی وجہ سے "کچھ" مشہور ہے۔
1080653d1353394609-pakwheels-travellers-trip-soan-valley-bild7054.jpg
 

یاز

محفلین
کھابیکی یا کھبیکی جھیل
یہ وادیء سون کی دوسری بڑی جھیل ہے۔اس تک جانا مزید آسان ہے کہ یہ اوچھالی جھیل کے راستے میں ہی واقع ہے اور جابہ موڑ سے وادیء سون میں داخل ہونے کے تقریباَ تیس چالیس منٹ بعد آ جاتی ہے۔
70487864.jpg

Khabeki-Lake-Soon-Skaser-Valley.jpg
 
آخری تدوین:

لاریب مرزا

محفلین
زبردست جناب۔
ہم نے اپنی زنبیل کھنگالی تو یہ تصویر برآمد ہوئی، جو 15 ستمبر 2003 کو دیوسائی کو جاتے ہوئے ہم نے اس جھیل کے پاس رک کر کھینچی تھی ۔ اس سے پہلے 2001 میں بھی اس جھیل کی زیارت نصیب ہوئی تھی۔
juQAodn.jpg


اسی دن دیوسائی کی سحر انگیزیوں کے مزے لیتے ہوئے شیوسر جھیل پہنچے اور وہیں ٹینٹ لگا کے رات گزاری۔ انتہائی بلند ہونے کی وجہ سے وسط ستمبر میں ہی خزاں کے رنگ نمایاں ہیں
ceMKfVF.jpg

ارے واہ!! زبردست یاز بھائی!! شیوسر جھیل کے کنارے ٹینٹ لگا کر وہاں رات بسر کی۔ پھر تو آپ تو قدرت کی رنگینیوں اور حُسن سے خوب خوب لطف اندوز ہوئے۔
 

یاز

محفلین
جاہلر جھیل
یہ جھیل بھی وادیء سون میں ہی واقع ہے۔ یہ اوچھالی اور کھابیکی جھیل کی نسبت کچھ چھوٹی جھیل ہے۔ لیکن اس جھیل کی لوکیشن اور سیٹنگ بہت خوبصورت ہے۔ اس جھیل تک جانے کے لئے وادیء سون کے قصبے نوشہرہ سے بائیں جانب ایک خستہ حال سڑک پہ جانا پڑتا ہے۔
IMAG0948_zpsaf4865a9.jpg

IMG_0183.JPG
 
Top