پاکستان میں 80 فیصد سافٹ ویئر ’چوری شدہ‘

arifkarim

معطل
پاکستان میں 80 فیصد سافٹ ویئر ’چوری شدہ‘
کاپی رائٹس کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کے باوجود سن 2015 میں ایشا پیسیفک میں 60 فیصد غیر لائسنس اور چوری شدہ سافٹ ویئر استعمال کیا گیا۔

بینکنگ، انشورنس اور سکیورٹی انڈسٹری میں 25 فیصد چوری شدہ سافٹ وئیر استعمال ہو رہا ہے
ایپل، مائیکرو سافٹ، انٹل، اوریکل اور اڈوب جیسی کمپنیوں پر مشتمل، ’دی سافٹ وئیر الائنس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس ایشیا میں زير استعمال غیر لائسنس شدہ سافٹ وئیر کی ماليت 19.1 ارب ڈالر تھی۔ چوری شدہ سافٹ وئیر کا سب سے زیادہ استعمال بنگلہ دیش ، پاکستان اور انڈونیشیا میں ہے جہاں 80 فیصد سافٹ وئیر غیر لائسنس شدہ ہے۔ عالمی سطح پر اوسطً 40 فیصد سافٹ وئیر چوری شدہ ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر چوری شدہ سافٹ وئیر کے استعمال میں پچھلے دو برس کے دوران چار فیصد کمی آئی ہے لیکن اس کے مقابلے میں ايشا میں صرف ايک فیصد کمی آئی ہے۔ اس سافٹ وئیر الائنس کے ایشیا پیسیفک خطے کے سینئر ڈائریکٹر ٹارون ساونی کی رائے میں اس مسئلے کے حل کے لیے مزید اقدامات درکار ہيں، خصوصاً بینکنگ سیکٹر میں۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’گزشتہ دو برسوں میں چوری شدہ سافٹ ویئر کے استعمال میں کمی آئی ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں اب بھی پائیریٹڈ سافٹ ويئر کا استعمال بہت زیادہ ہے۔‘‘

عالمی سطح پر اوسطً 40 فیصد سافٹ وئیر چوری شدہ ہے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے کاروبار سائبر سکیورٹی کی پرواہ نہیں کرتے اور غیر لائسنس شدہ سافٹ ویئر کے استعمال کے حوالے سے بھی ان کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ ميں شامل ایک پریشان کن بات یہ بھی ہے کہ بینکنگ، انشورنس اور سکیورٹی انڈسٹری میں 25 فیصد چوری شدہ سافٹ وئیر استعمال ہو رہا ہے۔
اس رپورٹ کے لیے کيے جانے والے سروے ميں 22000 کمپیوٹر صارفین اور 2000 انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کو شامل کيا گيا تھا۔
لنک
 

یاز

محفلین
ویسے میں نہیں مانتا کہ پاکستان میں اسی فیصد سوفٹ ویئر چوری شدہ ہے :cool:۔

کیونکہ۔۔۔۔۔۔ اس کا تناسب اس سے بھی کافی زیادہ ہو گا۔ شاید نوے پچانوے فیصد کے درمیان ہو۔
:D
 

arifkarim

معطل
ویسے میں نہیں مانتا کہ پاکستان میں اسی فیصد سوفٹ ویئر چوری شدہ ہے :cool:۔

کیونکہ۔۔۔۔۔۔ اس کا تناسب اس سے بھی کافی زیادہ ہو گا۔ شاید نوے پچانوے فیصد کے درمیان ہو۔
:D

عمار ابن ضیا بتا رہا تھا کہ اسکی کمپنی آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس میں تمام سافٹویئر لیگل ہونے کی وجہ سے وہ لوگ جمیل نوری نستعلیق فانٹ کا استعمال نہیں کر پا رہے۔ مطلب پاکستان میں صرف وہی کمپنیاں اصلی سافٹویئر استعمال کرتی ہیں جو بیرون ممالک سے آئی ہیں۔ :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
بقول محسن حجازی حکومتی اداروں میں صرف چوری کا سافٹوئیر استعمال ہوتا ہے۔
 

یاز

محفلین
عمار ابن ضیا بتا رہا تھا کہ اسکی کمپنی آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس میں تمام سافٹویئر لیگل ہونے کی وجہ سے وہ لوگ جمیل نوری نستعلیق فانٹ کا استعمال نہیں کر پا رہے۔ مطلب پاکستان میں صرف وہی کمپنیاں اصلی سافٹویئر استعمال کرتی ہیں جو بیرون ممالک سے آئی ہیں۔ :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
بقول محسن حجازی حکومتی اداروں میں صرف چوری کا سافٹوئیر استعمال ہوتا ہے۔
یا جنہوں نے کسی عالمی معیار کی سرٹیفیکیشن لینی ہو۔
 

کعنان

محفلین
السلام علیکم

خبر پاکستان سے ہے اس لئے سرکاری، نیم سرکاری اور بڑی کمپنیاں و ملٹینیشن اوریجنل سوفٹویئر ہی استعمال کرتی ہیں۔

والسلام
 
بی ۔ ایس۔ کے دوران پروفیشنل ایتھکس کا مضمون پڑھا۔ فائنل پریزینٹیشن میں میرا عنوان سافٹ ویئر پائریسی تھا۔
آخر میں تجاویز میں پہلی تجویز یہ رکھی کہ یونیورسٹی لیب کے تمام کمپیوٹرز کے لئے اوریجنل سافٹ ویئرز خریدے جائیں۔
جس پر طلبہ نے زوردار تالیاں بجائیں، جبکہ ڈین فیکلٹی، کہ جنھوں نے خود سبجیکٹ پڑھایا تھا وہ مسکراتے رہے۔
اور توقعات کے بالکل مطابق سبجیکٹ میں اے پلس آیا۔ جبکہ یونیورسٹی لیب میں کوئی فرق نہ پڑا۔ :)
 

نایاب

لائبریرین
بارہ سال ہو چکے کمپیوٹر سے دوستی کیئے آج تک کبھی کوئی سافٹ وئر نہیں خریدا یہاں ۔
مفت کی ملے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 

تجمل حسین

محفلین
بھئی ہم تو تمام سافٹ وئیر خرید کر ہی استعمال کرتے ہیں۔ دکان پر جاکر کہتے ہیں فلاں سافٹ وئیر کی سی ڈی یا ڈی وی ڈی دیجئے۔ دکاندار اس سافٹ وئیر کی جتنی بھی قیمت بتائے خاموشی سے دے دیتے ہیں۔ :)
اب یہ دکاندار کی مرضی ہے کہ وہ تیس/ ساٹھ روپے سے زیادہ نہیں مانگتا۔ :D

نوٹ: چھوٹے موٹے سافٹ وئیر انٹرنیٹ سے بھی ڈانلوڈ کرلیتے ہیں :)
 

مظہر آفتاب

محفلین
یہ جو ہمیں سافٹ وئیر کی کچھ پہچا ن ہے اس کی وجہ چوری شدہ سافٹوئیرہی ہیں ورنہ بہت سے سافٹوئیر سے شناسائی ممکن نہ تھی ویسے ہر سافٹوئیر کمپنی ٹرائل ورژن متعارف کرواتی ہے لیکن ہم ٹھہرے''ویہلے '' سافٹوئیر پسند آتے ہی اس کا کریک ورژن ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں ۔
 

نوشاب

محفلین
یہ جو پائیریٹڈ سافٹ وئیر ہمیں اتنی آسانی سے مل جاتے ہیں نا اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہے
بلکہ یہ سافٹ وئیر بنانے والوں کی چال ہیں تاکہ ہم سافٹ وئیر میکنگ کی طرف آنے کا سوچیں ہی نہ
سوچنے کی بات ہے کہ جو لوگ اتنے پیچیدہ سافٹ وئیر بنا لیتے ہیں کیا وہ اسے پائیریٹڈ ہونے سے نہیں بچا سکتے اب وہ اتنے عقل سے پیدل بھی نہیں ہیں ۔
یہ انکی سوچی سمجھی چال ہے اسی وجہ سے ہم لوگ یہی سوچ کر سوفٹ وئیر انڈسٹری میں سریس نہیں ہوتے
کہ یار 25روپے کی سی ڈی مل جاتی ہے تو کون اتنے پیچیدہ کوڈز میں سر کھپائے
بنانے دو ان بے وقوفوں کو سافٹ وئیرز ہم تو بس ان چوری شدہ سافٹ وئیرز پر ہی گزارہ کریں گے۔
ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہو گا کہ بےوقوف کون بن رہا ہے ہم یا ۔۔۔۔۔
 

عباس اعوان

محفلین
یہ جو پائیریٹڈ سافٹ وئیر ہمیں اتنی آسانی سے مل جاتے ہیں نا اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہے
بلکہ یہ سافٹ وئیر بنانے والوں کی چال ہیں تاکہ ہم سافٹ وئیر میکنگ کی طرف آنے کا سوچیں ہی نہ
سوچنے کی بات ہے کہ جو لوگ اتنے پیچیدہ سافٹ وئیر بنا لیتے ہیں کیا وہ اسے پائیریٹڈ ہونے سے نہیں بچا سکتے اب وہ اتنے عقل سے پیدل بھی نہیں ہیں ۔
یہ انکی سوچی سمجھی چال ہے اسی وجہ سے ہم لوگ یہی سوچ کر سوفٹ وئیر انڈسٹری میں سریس نہیں ہوتے
کہ یار 25روپے کی سی ڈی مل جاتی ہے تو کون اتنے پیچیدہ کوڈز میں سر کھپائے
بنانے دو ان بے وقوفوں کو سافٹ وئیرز ہم تو بس ان چوری شدہ سافٹ وئیرز پر ہی گزارہ کریں گے۔
ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہو گا کہ بےوقوف کون بن رہا ہے ہم یا ۔۔۔۔۔
ایک سافٹ وئیر بنانے میں ملینز اور کافی کیسز میں بلینز آف ڈالرز لگتے ہیں، پھر ان کی سپورٹ پر بھی بے تحاشا خرچہ آتا ہے۔ ایسے میں کمپنی کی ضرور خواہش ہوتی ہے کہ ہر کوئی خرید کر سافٹ وئیر استعمال کرے۔ میں کوئی بڑا سافٹ وئیر کریکر نہیں ہوں، لیکن پروفیشنل سافٹ وئیر انجینئر اور مبتدی کریکر ہونے کے ناتے سے کہہ سکتا ہوں کہ سافٹ وئیرز کو کریک ہونے سے بچانا قریب قریب ناممکن ہے، الا یہ کہ سافٹ وئیر ویب پر چل رہاہو، جیسا کہ گوگل ڈاکس وغیرہ وغیرہ۔
اب خود بتائیں، کون پاگل ہے جو اربوں ڈالر لگا کر سافٹ وئیر بنائے اور پھر کریک ہونے کے لیے کھلا چھوڑ دے ؟؟؟؟
آداب۔
 
یہ جو پائیریٹڈ سافٹ وئیر ہمیں اتنی آسانی سے مل جاتے ہیں نا اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہے
بلکہ یہ سافٹ وئیر بنانے والوں کی چال ہیں تاکہ ہم سافٹ وئیر میکنگ کی طرف آنے کا سوچیں ہی نہ
سوچنے کی بات ہے کہ جو لوگ اتنے پیچیدہ سافٹ وئیر بنا لیتے ہیں کیا وہ اسے پائیریٹڈ ہونے سے نہیں بچا سکتے اب وہ اتنے عقل سے پیدل بھی نہیں ہیں ۔
یہ انکی سوچی سمجھی چال ہے اسی وجہ سے ہم لوگ یہی سوچ کر سوفٹ وئیر انڈسٹری میں سریس نہیں ہوتے
کہ یار 25روپے کی سی ڈی مل جاتی ہے تو کون اتنے پیچیدہ کوڈز میں سر کھپائے
بنانے دو ان بے وقوفوں کو سافٹ وئیرز ہم تو بس ان چوری شدہ سافٹ وئیرز پر ہی گزارہ کریں گے۔
ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہو گا کہ بےوقوف کون بن رہا ہے ہم یا ۔۔۔۔۔
جی بالکل بھی ایسا نہیں ہے۔ سافٹ وئیر crack کرنے والے اچھی خاصی اسمبلی لینگویج جانتے ہیں اس طرح وہ سافٹ وئیر کی پروٹیکشن کو ہٹا دیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں گیمز کے لیے نیا denuvo drm آیا ہے جس کا تیسرا ورژن ابھی تک کوئی crack نہیں کر سکا۔ اور جہاں خود سافٹ وئیر بنانے کی بات ہے تو وہ آپ کو آسان لگتا ہے تو ہو ورنہ لاکھوں انجینئرز کی محنت ہوتے ہیں یہ سافٹ وئیر۔ ایک آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔
 
ایک سافٹ وئیر بنانے میں ملینز اور کافی کیسز میں بلینز آف ڈالرز لگتے ہیں، پھر ان کی سپورٹ پر بھی بے تحاشا خرچہ آتا ہے۔ ایسے میں کمپنی کی ضرور خواہش ہوتی ہے کہ ہر کوئی خرید کر سافٹ وئیر استعمال کرے۔ میں کوئی بڑا سافٹ وئیر کریکر نہیں ہوں، لیکن پروفیشنل سافٹ وئیر انجینئر اور مبتدی کریکر ہونے کے ناتے سے کہہ سکتا ہوں کہ سافٹ وئیرز کو کریک ہونے سے بچانا قریب قریب ناممکن ہے، الا یہ کہ سافٹ وئیر ویب پر چل رہاہو، جیسا کہ گوگل ڈاکس وغیرہ وغیرہ۔
اب خود بتائیں، کون پاگل ہے جو اربوں ڈالر لگا کر سافٹ وئیر بنائے اور پھر کریک ہونے کے لیے کھلا چھوڑ دے ؟؟؟؟
آداب۔
denuvo anti tamper کے بارے میں کیا خیال ہے؟
 

arifkarim

معطل
یہ جو پائیریٹڈ سافٹ وئیر ہمیں اتنی آسانی سے مل جاتے ہیں نا اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہے
بلکہ یہ سافٹ وئیر بنانے والوں کی چال ہیں تاکہ ہم سافٹ وئیر میکنگ کی طرف آنے کا سوچیں ہی نہ
سوچنے کی بات ہے کہ جو لوگ اتنے پیچیدہ سافٹ وئیر بنا لیتے ہیں کیا وہ اسے پائیریٹڈ ہونے سے نہیں بچا سکتے اب وہ اتنے عقل سے پیدل بھی نہیں ہیں ۔
یہ انکی سوچی سمجھی چال ہے اسی وجہ سے ہم لوگ یہی سوچ کر سوفٹ وئیر انڈسٹری میں سریس نہیں ہوتے
کہ یار 25روپے کی سی ڈی مل جاتی ہے تو کون اتنے پیچیدہ کوڈز میں سر کھپائے
بنانے دو ان بے وقوفوں کو سافٹ وئیرز ہم تو بس ان چوری شدہ سافٹ وئیرز پر ہی گزارہ کریں گے۔
ہمیں یہ فیصلہ خود کرنا ہو گا کہ بےوقوف کون بن رہا ہے ہم یا ۔۔۔۔۔
یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ سب سے زیادہ چوری ہونے والے سافٹوئیر سب سے زیادہ مشہور بھی ہیں۔ ونڈوز صرف چوری ہونے کی وجہ سے ابھی تک چل رہی ہے اور جب اسے مفت کیا گیا تب بھی اسکی سیل پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔
جو سافٹوئیر اپنی پروٹیکشن ایسی بناتے ہیں کہ انہیں خریدے بغیر استعمال کرنا ممکن نہ ہو وہ زیادہ شہرت اور پزیرائی حاصل کر نہیں پاتے
 
Top