پاکستانی سائنس تو بس ایسی ہی ہے

جاسم محمد نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 18, 2019

  1. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اگر آپ کے کہنے کی آپ ہی کے نزدیک اتنی وقعت نہیں تو بھائی آپ اب تک زندہ کیسے ہیں۔۔۔۔یہ معمہ شائد میرا پیچھا کبھی نہ چھوڑے۔
    خدایا۔۔۔ کیسے بندے سے واسطہ پڑگیا ہے!

    ڈیڑھ ارب یار۔۔۔ ڈیڑھ ارب۔ مراسلہ تو ویسے بھی آپ نے بطورِ انا کے کیا ہے نہ کہ اپنا مؤقف ثابت کرنے کے لیے، اس لیے اس کی حیثیت ردی سے زیادہ کچھ نہیں لیکن پھر بھی آپ کے فراڈیے کی ”فرسودہ ترین اور مضحکہ خیز ڈیٹا“ سے زیادہ درست ترین پیمائش ایک بار پھر کرتے ہیں۔ اس کے بعد آپ یقینا یہ چیخنا چلانا جاری رکھے کہ میں نے پرویز ہود کی طرح عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بجائے درست ترین کیلکولیشن کرکے کیوں یہ جعل سازی مزید واضح کردی۔
    ابتدائی ڈیٹا 33.7 اور مارچ، 2017ء تک کا اصل ڈیٹا لیتے ہوئے(نہ کہ پرویز ہود کا فراڈ ڈیٹا، تو) گروتھ ریٹ بنتا ہے :
    0.02715314459۔
    اس حساب سے 2017 کے 25 سال بعد آبادی ہوئی 398.7896۔ مزید 100 سال بعد آبادی ہوئی 6025.4546084 ملین۔

    7.46 ارب سے 6025.4546084 نکالنے پر یہ پھر بن گئے ڈیڑھ ارب۔ اب میں کیا کروں یار۔
    چلیں اس کو صرف 15 افراد مانتے ہیں۔۔ بس؟ اب تو خوش ہیں نا آپ۔۔۔ یا اب بھی ناراضگی ہے؟:)

    یار کیوں آپ نے اپنے مرشد کو اور آپ کے مرشد نے آپ کو رسوائی کی گھاٹی میں اتروانا ہے؟ یہ بات ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔ کہ یہ چکر کیا ہے۔ کہیں آپ دانستہ اپنے مرشد کو رسوا تو نہیں کررہے نا؟
    لیکن پھر یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آپ کے مرشد نے جو doom اور holocaust is only some years away کے الفاظ استعمال کرکے آپ کی بےعزتی کا سامان کیا ہے، اس کا کیا مطلب؟
    ذرا اپنے اس جملے کو پڑھیے اور ابھی تک تو آپ غیرت سے نہیں مرے، تو اب بھی خود کو نہیں مروانا۔ آپ نے تو ابھی دیکھا ہی کیا ہے۔
    ہائے بڑا کمزور حافظہ ہے ہمارے فراڈ سپورٹر کا۔

    درست کیلکولیشن۔۔۔ہممم۔ اوپر تو دیکھ لیا ہوگا۔۔۔! اس کے بعد تو مذکورہ مراسلے پر کفِ افسوس ہی مل سکتے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 25, 2019
  2. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یار ہمارے جانو نے کیا پتے کی بات کردی ہے۔ اوپر سے معاملہ۔۔۔مٹی پاؤ۔
    جیتے رہو۔۔۔آپ کو تو ابھی بہت سی باتیں یاد آنی ہیں۔
     
  3. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    4,531
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اس لڑی کے مراسلے پڑھ کر بہت دکھ ہوا. سعود بھائی نے پہلے بھی کہا تھا کہ مدیران کو مجبور مت کیجیے.
    یہ لڑی مجھ ایسے طالب علموں کے لیے کچھ حوالوں سے اچھی ہے، میں نہیں چاہتی تھی کہ اسے ڈیلیٹ کیا جائے لیکن جس طرح کی زبان اور ذہن کا جو حصہ استعمال ہو رہا ہے، براہِ کرم اس سے گریز کیا جائے. اس سے کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا، نہ ہی آپ کا نظریہ اس بنیاد پر درست ثابت ہونا ہے. نقصان فقط اپنا ہے. علمی بحث میں ذاتی حملے یوں بھی اس کا مزا کرکرا کر دیتے ہیں. :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 2
  4. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,793
    موڈ:
    Dead
    جب عرفان بھائی نے یہ کہا کہ "پچھلے کچھ مراسلے دیکھے تو شیڈو آئی ڈی کا کچھ پرتو ذہن پر پڑ گیا" تو مجھے اس کا تذکرہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کیونکہ شیڈو آئی ڈی کا ذکر نہ میں نے چھیڑا ہے اور نہ ہی یہ میرا مسئلہ ہے۔ آپ کو اگر میری آئی ڈی سے متعلق شبہات یا تحفظات ہیں تو آپ انتظامیہ سے رجوع کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں اور انتظامیہ اپنا اختیار استعمال کرنے میں کسی کی بھی پابند نہیں ہے۔ میری دانست میں تو یہی صحیح طریقہ ہے۔ میرے نزدیک یہ طریقہ انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ آپ کسی کی ذات یا آئی ڈی پر اس طرح ایشو بنا کر اچھالتے رہیں۔
    اپنے اس گمان پہ رب کے حضور جا کر معافی ضرور مانگیے گا کیونکہ مجھے ذرہ بھر بھی اس کے متعلق پریشانی نہیں ہوئی اور نہ ہی نوبت یہاں تک آئی ہے کہ مجھے جواب بنانا پڑے کیونکہ میرے بات کرنے کا طریقہ بہت واضح، دو ٹوک اور تقدس کے لبادے میں لپٹی ہوئی میٹھی گولی سے آزاد ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 24, 2019
    • متفق متفق × 3
  5. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    جس گمان کی آپ بات کررہے ہیں، میرا وہ گمان ہےنہیں۔ لیکن پھر بھی رب کے حضور معافی مانگنے کا حکم میرے لیے سر آنکھوں پر۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس پر جزائے خیر عطا فرمائے۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 24, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    صرف تین الفاظ:
    Argumentum ad nauseam

    آئی ریسٹ مائی کیس۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    But the case is not rested. Two more major Points will remain.0
    However, I leave it for the sake of. 0
    No more time for reading Argumentation of Repetition.0
     
    آخری تدوین: ‏جون 24, 2019
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    رہے نام اللہ کا۔
    :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
  10. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    کہنا کیا چاہتے ہیں صاحب؟ آپ کے دیے ہوئے لنک پر موجود رپورٹ تو کچھ اس انداز میں شروع ہوتی ہے۔
    The current world population of 7.2 billion is projected to increase by 1 billion over the next 12 years and reach 9.6 billion by 2050

    یہ سوال الگ کہ کیا 2012ء کے پراسپیکٹس کا 2013ء کے جون میں پبلش ہونے کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ کسی دور میں ڈیٹا کو پبلش ہونے اور لوگوں تک پہنچنے میں وقت لگتا تھا؟ کتنی عجیب بات ہے نا؟:eek:
     
    • زبردست زبردست × 1
  11. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    چلیں آپ کی مرضی۔ پہلے کہا پرویز ہود بھائی نے یہاں سے ڈیٹا لیا۔ پھر کہا یہ مواد تو دستیاب ہی نہیں تھا، کیوں؟
    کیوں کہ اس وقت 2017 میں انٹرنیٹ کے گودام میں ابھی تک وہ چکڑے نہیں پہنچ پائے تھے، جن پر وہ فائلیں لادی گئی تھیں، جن میں ایک یہ پراسپیکٹس بھی تھا۔ یہ دراصل مجھ سے غلطی ہوگئی تھی جو پرویز ہود کو ریسرچر سمجھ بیٹھا تھا۔ اس بات کو ابھی تک میں ذکر کرنے سے گریز کررہا تھا، لیکن آپ نے مجھے گوگلنگ کا جو طعنہ دیا، اس کے بعد تو مجھے پرویز ہود کا یہ اقتباس نقل کرنا چاہیے کہ
    ۔Upon googling, I came across the website of the Population Welfare Department​
    لہذا اب تو پتا چل گیا کہ پروفیسر صاحب ”ریسرچ“ کرتے ہیں گوگلنگ نہیں۔
    اوپر پراسپیکٹس کا ربط دینے سے تو یہ ثابت ہوگیا کہ یہ مواد دستیاب تھا۔ جو شے2013 میں دستیاب ہو اور 2017 میں نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ غلطی ماننے کے بجائے اس کے لیے بہانے تراشنا ایک طالبِ علم کا شیوہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اگر مجھ جیسے (بقولِ آپ) ”گوگلر“ کو دستیاب ہوسکتا ہے اور آپ کے ”ریسرچر“ صاحب کو دستیاب نہ ہو، پھر تو واقعی یہ ایک اور معمہ بن گیا ہے۔
    اور آخری بات یہ کہ وہاں بھی لکھا ہوا ہے کہ the current population of 7.2 billion جو فائل سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔
     
  12. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    جی بالکل۔ اور اس میں 7.2 کا عدد لکھا ہوا ہے، جیسا کہ آپ بتا چکے ہیں۔
    اب ذرا دماغ شریف پر زور ڈال کر ان دو سوالات کے جواب دیں۔
    اول: کیا اس سے آپ کا دانستہ دھوکہ دہی کا الزام ثابت ہوتا ہے؟
    دوم: ایسا کون سا ماخذ ہے جو
    1. یقینی طور پر اس وقت بڑے پیمانے پر بہ آسانی دستیاب تھا
    2. اس میں 7.46 ارب کی آبادی لکھی ہوئی تھی
    ان نکات پر بھی توجہ دلانا چاہوں گا کہ
    1. آپ 2019ء میں خاص طور پر 7.2 سے بڑا عدد تلاش کرنے نکلے ہیں۔
    2. آپ کو درست جواب بھی معلوم ہے کہ 7.46 ارب ہونا چاہیے، جو کہ کسی ایسے شخص کو معلوم نہیں ہو گا جو یہ سوال لے کر نکلا ہو کہ آخر دنیا کی آبادی ہے کتنی۔
    3. آپ خاص طور پر ایک موٹیویشن کے ساتھ تلاش کر رہے ہیں کہ مجھے کہیں سے 7.46 کا عدد ملے اور میں اس شخص کو غلط ثابت کروں۔
    4. آپ کو کئی نئی سہولیات کی وجہ سے hindsight کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
    5. اس سب کے باوجود آپ کی تلاش کا نتیجہ وہی 7.2 ارب نکلتا ہے۔
    اس کا کیا مطلب لیا جائے؟
    1. ایسے کون سے فیکٹرز ہیں جو آپ کی تلاش پر اثر انداز ہوئے اور آپ اپنا مطلوبہ عدد معلوم ہونے کے باوجود نہیں ڈھونڈ پائے؟
    2. کیا وہ فیکٹرز کسی ایسے شخص کی تلاش پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ جسے پہلے سے درست جواب بھی معلوم نہ ہویا معلوم جواب آؤٹ آف ڈیٹ ہو، اور کئی ایسی سہولیات بھی میسر نہ ہوں جو آج آپ کو میسر ہیں؟
    اگر آخری سوال کا جواب ہاں ہے تو آپ malicious intent کیسے ثابت کریں گے؟ سوائے اپنے دل میں بھرے بغض کے وسیع ذخائر سے استفادہ کرنے کے؟ تھوڑا واضح کیجیے گا۔
    نوازش۔
     
    • متفق متفق × 1
  13. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    چلیں ایک سورس تو مجھے مل گیا۔
    یہ جون 2016ء میں "انرجی پالیسی" کے جرنل میں شایع ہونے والا ریسرچ پیپر ہے۔
    کوڈ:
    [1] G. A. Jones and K. J. Warner, “The 21st century population-energy-climate nexus,” Energy Policy, vol. 93, pp. 206–212, Jun. 2016.
    Abstract:
    World population is projected to reach 10.9 billion by 2100, yet nearly one-fifth of the world's current 7.2 billion live without access to electricity. Though universal energy access is desirable, a significant reduction in fossil fuel usage is required before mid-century if global warming is to be limited to <2 °C...

    پھر کیا کہتے ہیں آپ اس بارے میں؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اول: اگر تو پرویز ہود نے اپنا کالم ریسرچ کرکے لکھا ہے تو ڈیٹا دستیاب ہونے کے باوجود 2017 میں 7.2 لکھنا دانستہ دھوکا دہی نہیں ہےتو اورکیا ہے، اس کا جواب شائد آپ کے پاس ہو۔
    اور اگر تو یہ کالم ریسرچ کے بغیر لکھا گیا ہے، پھر تو اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی، لہذا دانستہ نا دانستہ کا سوال ہی کالعدم ہوگیا۔

    دوم: اگر current سے مراد 2017 ہے تو پھر 7.46 لکھنا غلط ہے، لیکن اگر اس سے پراسپکٹس کی اشاعت کا وقت مراد ہے تو پھر current کا لفظ دھوکا دہی ہی ہے۔

    1۔ 2013، 14 میں اگر آبادی 7.2 رہی تو 2019 میں 7.2 سے بڑا عدد تلاش کرنے کا سوال کالعدم ہوگیا۔
    2۔ اگر 7.46 درست جواب ہے تو پرویز ہود کا کالم لکھتے وقت اسے نہ لکھنا ایک بار پھر دھوکا دہی کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
    3۔ 7.46 کا عدد تو آپ کے دی ہوئی فائل میں موجود ہے لہذا میرے تلاش کرنے سے متعلق مجھ سے یہ سوال کرنا ہی غلط ہے۔
    4۔ کیا پرویز ہود کو اپنے اعلیٰ پائے کی یونیورسٹی، اور 2017 میں hindsight کی سہولت موجود نہیں تھی؟
    5۔ میرے مرکزی پوائنٹس میں سے ایک۔

    فیکٹرز:
    1۔ اس کا جواب پہلے چار میں دے دیا گیا۔
    2۔ یہاں تو آپ یہ طے نہیں کرپارہے کہ کہ درست جواب معلوم تھا یا نہیں، لہذا آپ کا اس طرح کے سوالات کرنے سے کیا مطلب لیا جائے؟
    سہولیات والی بات نکتہ نمبر 4 میں۔ اور یہ بھی بتادیں کہ ایسی کون سی سہولیات کی عدم دستیابی نے موصوف کو 2013، 14 کے اعدادوشمار کو 2017 کے لیےاپڈیٹ کرنے سے روکے رکھا؟

    فی الحال تو میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا آپ واقعی اب اس فائل کو بطورِ دلیل پیش کرنا چاہتے ہیں؟
     
  15. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    جناب۔ ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ

    آپ کا اصرار ہے:
    • چونکہ 2017ء کا اصل عدد 7.46 ارب ہے تو کالم میں اس کا استعمال نہ کرنا دانستہ دھوکہ دہی ہے۔
    • ثبوت کے طور پر آپ ڈیٹا کے کچھ ماخذات پیش کرتے ہیں جو یہ تو ثابت کرتے ہیں کہ درست عدد 7.46 ہی تھا لیکن یہ ثابت نہیں کرتے کہ یہ عدد بڑے پیمانے پر غیر مبہم طور پر دستیاب تھا۔ بلکہ کچھ "ثبوت" اس کی الٹی سمت میں اشارہ کرتے ہیں تاہم انہیں ہم ابہام کی وجہ سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔

    اس کے مقابل میری گزارش یہ ہے کہ:
    • اس وقت آبادی کے عدد میں اتنا ابہام موجود تھا کہ کوئی باوجود پوری کوشش کے غلطی سے پرانا عدد اٹھا لے، چنانچہ اس سے malicious intent ثابت نہیں ہوتا۔
    • ثبوت کے طور پر میں جون 2016ء میں ایک بڑے بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والا ریسرچ پیپر پیش کرتا ہوں جس کا کسی لبرل وبرل کی بحث کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور اس کے باوجود اس میں 7.2 کا پرانا عدد استعمال ہو چکا ہے۔
    • چنانچہ میرا کہنا یہ ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت دنیا کی کل آبادی کے حوالے سے بڑے پیمانے پر اس حد تک ابہام موجود تھا کہ کسی کے 7.2 کا پرانا عدد استعمال ہونے پر اسے بری نیت کا الزام نہیں دیا جا سکتا۔

    اب اگر اس کے باوجود آپ اپنے بغض کے سبب guilty until proven innocent کے فلسفے کے قائل ہیں تو آپ کی مرضی۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  16. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,793
    موڈ:
    Dead
    اپنی صورت بگڑ گئی لیکن
    ہم انہیں آئینہ دکھا کے رہے
    (ظہور نظر)
     
    • زبردست زبردست × 2
  17. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,989
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    چونکہ کافی دیر سے اس بحث میں کوئی مفید اضافہ نہیں ہو رہا تو میرا خیال ہے کہ اس کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
    تو چلتا ہوں۔ آپ خوش رہیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  18. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    چلیں آپ کا یہ آخری بہانہ بھی ختم کردیتے ہیں۔
    اور اگر جانے میں ہی عافیت نظر آرہی ہے، تو شوق سے جائیے، ایک بار پہلے بھی تو یہ کوشش کرچکے ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  19. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت خوب۔ اس بحث میں آپ کے منفی کردار کا آئینہ بھی دکھانا باقی رہا، اور ڈُگڈُگی پر تالیاں بجانے والوں کا ذکر بھی۔:)
     
    • غمناک غمناک × 1
  20. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,977
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    پہلے تو یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ اگر یہ سب کچھ آپ شروع میں دیتے اور اس کے بعد اپنے 8 سال اور 0.0823 والے ڈیڑھ ارب کے فگر کا دفاع کرتے تو شک ہے کہ کوئی وزن پڑ سکتا تھا۔لیکن پہلے یہ تسلیم کرنا کہ 7.2 غلط تھا، اور اب اسے درست ثابت کرنے کے لیے اس طرح کی چیری پیکنگ کرنے سے آپ اپنا مقدمہ کھوچکے ہیں۔

    ویسے تو ہمیں اس ربط پر کافی حیرت ہوئی لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا سمجھ کر سوچا اس بہانے کو بھی ذرا واضح کردیتے ہیں۔
    اگرچہ جنابِ والا نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ پرویز ہود جیسے جعلساز نے واقعی اس ربط کو بیس بنا کر اعدادوشمار کے گمراہ کُن چکر چلائے، لیکن اگر ہم یہ فرض کربھی لیتے ہیں کہ پرویز ہود نے اپنا ڈیٹا اس ریسرچ پیپر سے لیا ہے تو پھر یہ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ انہوں نے دھوکا دہی اور اعداد وشمار کی فریب کاریوں کا بخوبی استعمال کرکے ریسرچ کے بجائے جعلسازی کو فوقیت دی۔

    اب آتے ہیں آپ کے ریسرچ پیپر کے حوالے کی جانب۔ ابتداء آپ کے اس تاثر سے کرتے ہیں کہ مذکورہ پیپر جون 2016 میں آنلائن شائع ہوا۔ پیپر کے آرٹیکل انفارمیشن سیکشن میں واضح نظر آرہاہے کہ یہ ریسرچ پیپر مارچ 2016 میں آنلائن دستیاب تھا۔
    اسی طرح اس سے زیادہ اہم بات جس کی وجہ سے آپ کا اس پیپر کو بطورِ ثبوت کے پیش کرنا پرویز ہود کے کالم کو مزید بےوقعت بنارہی ہے، وہ اس کی ریسیونگ تاریخ کا ستمبر 2015 ہونا ہے، جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ مذکورہ تحقیقی پیپر اس سے پہلے لکھا گیا تھا۔ جب کہ انہوں نے آبادی کا جو ڈیٹا بطورِ ریفرنس لیا ہے وہ 2014 کا سال ہے، جس کی High Population Projection اور Low Population Projection دونوں 7.2 ہی ہے۔

    اب اگر آپ کے پروفیسر کو ریسرچ میتھڈالوجی اور کسی ریسرچ پیپر سے اعدادوشمار لینے کے طریقۂ کار کا اپنے مذکورہ گمراہ کُن کالم کے کیس میں ذرا بھی خیال ہوتا تو وہ کبھی بھی اس پیپرکے Abstract سے یہ نتیجہ اخذ نہ کرتے، کیوں کہ یہ بات تو آپ بھی جانتے ہیں ، چہ جائیکہ پرویز ہود جیسے گھاگ کو اس کا علم نہ ہو، کہ کسی ریسرچ پیپر کے اعدادوشمار کو سالِ اشاعت کے مطابق کبھی نہیں دیکھا جاتا۔ بلکہ محققین کے تمام متعلقہ ریسرچ کا دارومدار بنیادی اعدادوشمار پر ہی کھڑا ہوتا ہے، لہذا پرویز ہود 7.2 کے عدد کے لیے ضرور اس کے بنیادی حوالے سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اعدادوشمار کو 2017 کے مطابق درست رکھنے/کیلکولیٹ کرنے کی کوشش کرتا، جس کی پروجیکشن کا ذکر ماقبل پیراگراف میں کیا گیاہے، اورمذکورہ پیپر کے صفحہ#210 پر Table 1 میں درج ہے۔
    لہذا اس سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی کہ موصوف نے نیوٹرل ریسرچ میتھڈالوجی کے بجائے مبالغہ آرائی اور دھوکادہی کو ترجیح دیتے ہوئے عوام کوگمراہ کرنے کی پوری کوشش کی۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 26, 2019

اس صفحے کی تشہیر