ٹونی بلیئر نے 12 سال بعد عراق جنگ اور صدام حسین کو ہٹانے پر معافی مانگ لی

401679-blair-1445768107-306-640x480.jpg

عراق میں جنگ چھیڑنے اور صدام حسین کا تخت الٹنے کے بعد سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ فوٹو: فائل

لندن: عراق پر جنگ مسلط کرنے اور صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے 12 سال بعد سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے معافی مانگ لی ہے۔

امریکا میں ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پہلی مرتبہ ٹونی بلیئر نے اس کا اعتراف کیا کہ صدام حسین کو ہٹانا ایک غلطی تھی اور اس کے بعد شدت پسند داعش تنظیم کے وجود میں بھی ان کا جزوی ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس حقیقت پر معذرت خواہ ہوں کہ ہمیں جو انٹیلی جنس معلومات ملیں وہ غلط تھیں، اور اس بات پر معافی چاہتا ہوں کہ منصوبہ بندی میں بعض غلطیاں ہوئیں اور ہم جاننے سے قاصر رہے کہ عراق میں حکومت ہٹانے کے بعد اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے جب کہ عراق جنگ ہی داعش کے فروغ کی بنیادی وجہ بھی بنی۔

ٹونی بلیئر نے کہا کہ ہم میں سے جن افراد نے صدام حسین کو اقتدار سے ہٹایا‘ وہ داعش کی پیدائش کے ذمے دار ہیں۔ اس سے قبل ایک اور برطانوی خبر رساں ویب سائٹ نے اس خفیہ معاہدے کا انکشاف کیا تھا جس میں امریکی صدر جارج بش اور ٹونی بلیئر نے مشترکہ طور پر عراق پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا جب کہ ٹونی بلیئر نے برطانوی عوام سے کہا تھا کہ وہ اس مسئلے کا صرف سفارتی حل تلاش کریں گے اور اسی لیے کوششیں کررہے ہیں۔ ٹونی بلیئر نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ اسے معاف کردیا جائے کیونکہ وہ اس سے ناواقف تھے کہ عراق میں صدر صدام حسین کی حکومت کو ہٹانے کے بعد اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ٹونی بلیئر نے کئی مرتبہ عراق میں جنگ پبا کرنے پر معافی مانگنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ 2004 میں انہوں نے کہا تھا کہ میں عراق تنازعے پر معافی نہیں مانگوں گا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک درست قدم تھا۔

ماخذ
 

x boy

محفلین
یہ بی لائر ہے
سوری اور تھینکیو
اور اسی طرح لوو اینڈ وار میں ہر چیز جائز
یہ ان لوگوں کے کارنامے سنہرے لفظوں
میں لکھے جاتے ہیں 10 ملین لوگ قتل، بے گھر اور بھی طرح طرح کے ظلم۔
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

يہ واضح رہے کہ عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا فيصلہ کسی غير متعلقہ ملک کے خلاف کيا جانے والا جذباتی فيصلہ ہرگز نہيں تھا۔ حکومت کی ہر سطح پر کئ ماہ تک اس مسلئے پر بحث کی گئ تھی جس کے بعد اجتماعی سطح پر يہ فيصلہ کيا گيا تھا۔

يہ اب تاريخ دانوں اور دانشوروں پر منحصر ہے کہ وہ اس فيصلے کے درست يا صحيح ہونے کے حوالے سے بحث کو کيا رخ ديتے ہيں جو عالمی اتحاد کی جانب سے صدام حسين کی ظالمانہ حکومت سے درپيش خطرات سے نبردآزما ہونے کے ليے کيا گيا تھا۔

معاملات اور واقعات کو درست تناظر ميں سمجھنے کے ليے يہ بھی ياد رکھيں کہ دسمبر 7 2008 کو عراق کے اس وقت کے وزير اعظم نے اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کے صدر کو ايک خط لکھا تھا جس ميں انھوں نے اس رائے کا اظہار کيا۔

"عراق کی حکومت اور عوام کی جانب سے ميں ان تمام ممالک کی حکومتوں کا شکريہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کے اہم کردار اور کوششوں کے سبب عراق کو استحکام اور محفوظ بنانے کے عمل ميں مدد ملی ہے۔ ميں براہراست ان افواج کا بھی شکريہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے عراق ميں اپنی زمينی، بحری اور فضائ موجودگی کے دوران خدمات انجام ديں۔ يہ امر قابل ذکر ہے کہ عراق پچھلے دور حکومت کے دوران برسا برس تک تنہا رہنے کے بعد معيشت کے استحکام کے ليےعالمی برادری کے ساتھ شراکت داری کے نئے روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے"۔

واقعات کا تسلسل، عالمی خدشات اور مختلف عالمی فورمز پر کی جانے والی بحث جو سال 2003 ميں فوجی کاروائ کے فيصلے پر منتہج ہوئ ان مظالم کی وجہ نہيں ہے جو آج آئ ايس آئ ايس عراقی عوام پر ڈھا رہی ہے اور زبردستی اپنی سوچ اور مرضی عام عوام پر مسلط کرنے پر بضد ہے۔ بعض رائے دہندگان کی رائے کی روشنی ميں اگر آئ ايس آئ ايس کوئ ايسی تنظيم ہوتی جو خطے ميں امريکی موجودگی کے نتيجے ميں ردعمل کے طور پر وجود ميں آئ ہوتی تو پھر اس منطق کے تحت تو اس تنظيم کا وجود سال 2011 ميں اس وقت ختم ہو جانا چاہیے تھا جب امريکی افواج نے سيکورٹی کے معاملات عراقی عوام کے منتخب جمہوری نمايندوں کے حوالے کر کے علاقے سے مکمل طور پر انخلاء کر ليا تھا۔

مگر ہم جانتے ہيں کہ صورت حال يہ نہيں ہے۔ اس گروہ کو تو تقويت ہی اس وقت ملی تھی جب امريکی افواج خطے سے نکل چکی تھيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

USDOTURDU_banner.jpg
 

ربیع م

محفلین
جذباتی فيصلہ ہرگز نہيں تھا

جی ہاں جذباتی فیصلہ تو ہرگز نہیں تھا، جذباتی فیصلے تو وقتی ہوتے ہیں یہ تو صدیوں سے جاری صلیبی جنگ کا تسلسل تھا۔

معاملات اور واقعات کو درست تناظر ميں سمجھنے کے ليے يہ بھی ياد رکھيں کہ دسمبر 7 2008 کو عراق کے اس وقت کے وزير اعظم
بے چارہ امریکی چھتری تلے سلیکٹ ہونے والے عراقی وزیر اعظم نے معاملات اور واقعات کو درست تناظر میں کیا سمجھانا ہے وہ تو آقاؤں کی ہی ترجمانی کرے گا۔
اس گروہ کو تو تقويت ہی اس وقت ملی تھی جب امريکی افواج خطے سے نکل چکی تھيں۔
جی ہاں بیج بو کر آپ تو نکل گئے اور بھگتنا بے چاری مظلوم عراقی عوام کو پڑ رہا ہے۔

اور یہی تو کمال ہے کہ الزام آپ پر بھی نہیں۔
 
مدیر کی آخری تدوین:

ربیع م

محفلین
يہ اب تاريخ دانوں اور دانشوروں پر منحصر ہے کہ وہ اس فيصلے کے درست يا صحيح ہونے کے حوالے سے بحث کو کيا رخ ديتے ہيں جو عالمی اتحاد کی جانب سے صدام حسين کی ظالمانہ حکومت سے درپيش خطرات سے نبردآزما ہونے کے ليے کيا گيا تھا۔

تاریخ اور دانشور تو فیصلہ کریں گے ہی ، کسی بھی عمل کی اچھائی یا برائی کے سوال پر محض یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی کہ اس کے اچھا ہونے یا برا ہونے کا فیصلہ آنے والے لوگ کریں گے، کیونکہ دنیا کے سنگین سے سنگین جرم کی حمایت کرنے والے دانشور بھی آپ کو مل ہی جائیں گے۔

کیا ہی اچھا ہوتا اگر امریکہ سرکار کی جانب سے اتنا لمبا پیچدار وضاحتی نوٹس جاری کرنے کی بجائے سیدھے سبھاؤ بتا دیا جاتا کہ امریکی سرکار ابھی تلک ٹونی بلئیر کی طرح بے سود پشیمانی کے اظہار اور معافی مانگنے پر تیار نہیں ، بلکہ پوری ڈھٹائی سے اپنے اس عمل کو درست ثابت کرنے پر قائم ہے۔
 

الفاروق-013

محفلین
میری نظر، میں افغانستان کے بعد عراق پر حملہ، صیہونی سازش کا حصہ تھا، اگر 2011 ، 11 ستمبر کے واقعے کے تناظر میں دیکھا جائے ، تو افغانستان میں ابھرتی ہوئی اسلامی حکومت، اور عالم اسلام میں اسکی پذیرائی، نے یہودیوں اور عیسائیوں کو ہلا کر رکھدیا تھا۔ وہ اسبات کا اندازہ بہ خوبی کرچکے تھے، کہ افغاں مجاہدین، روس جیسی سپر طاقت کی تباہی کے بعد، اور دس سالہ مسلسل گوریلا وار نے انہیں، دنیا کی سب سے خطرناک گوریلا فوج بنادیا ہے، جس سے ایک طرف ہندوستان کو شددیدخطرات لاحق ہیں، تو دوسری طرف امریکہ کو اپنا سپر پاور کا خواب بھی چکنا چور ہوتا نظر آرہا تھا، اسی طرح یہ مجاہدین کسی وقت بھی اسرائیل کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے تھے۔ دوسری طرف عراق کے صدر صدام کی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کو کبھی گھاس نہیں ڈالی تھی۔ اس وقت اگر پاکستان کا پرویز مشرف اگر بزدلی نہ دیکھاتا تو امریکہ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔
مسلمان ایک بڑی طاقت بنکر ابھر چکے ہوتے۔ اور افغان امریکہ وار ، افغانستان میں نہیں امریکہ میں لری جارہی ہوتی۔ اور ابتک امریکہ ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوتا۔
)نوٹ یہ میرا ذاتی تجزیہء ہے)
 

زیک

مسافر
يہ واضح رہے کہ عراق کے خلاف فوجی کاروائ کا فيصلہ کسی غير متعلقہ ملک کے خلاف کيا جانے والا جذباتی فيصلہ ہرگز نہيں تھا۔ حکومت کی ہر سطح پر کئ ماہ تک اس مسلئے پر بحث کی گئ تھی جس کے بعد اجتماعی سطح پر يہ فيصلہ کيا گيا تھا۔

يہ اب تاريخ دانوں اور دانشوروں پر منحصر ہے کہ وہ اس فيصلے کے درست يا صحيح ہونے کے حوالے سے بحث کو کيا رخ ديتے ہيں جو عالمی اتحاد کی جانب سے صدام حسين کی ظالمانہ حکومت سے درپيش خطرات سے نبردآزما ہونے کے ليے کيا گيا تھا۔
جذباتی تو نہیں البتہ انتہائی احمقانہ فیصلہ تھا اور تاریخ نے ثابت کر دیا ہے۔ پچھلے تقریبا 7 سال سے آپ کے باس صدر اوبامہ ہیں جن کے 2008 میں ہیلری کلنٹن کے خلاف جیتنے کی ایک بڑی وجہ ان کا عراق جنگ کا مخالف ہونا تھا۔ آپ کی سابقہ باس ہیلری کلنٹن اور موجودہ باس جان کیری بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ عراق جنگ کی حمایت غلط تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ 2001 یا 2002 میں صدام نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ اسے خطرہ قرار دیا جا سکتا۔ ڈبلیو ایم ڈی کے لئے عراق میں انسپکٹر موجود تھے اور وہ ثابت کر رہے تھے کہ ان کا عراق میں کوئی وجود نہیں ہے۔ صدام کے کردوں یا جنوب میں شیعوں پر مظالم اس وقت تک کافی پرانے ہو چکے تھے۔

معلوم نہیں کہ آج بھی آپ یا آپ کا ڈیپارٹمنٹ کیوں صدر بش، ڈک چینی اور رمسفیلڈ وغیرہ کے اس احمقانہ فیصلے کے حق میں کیوں بیان جاری کرتا پھر رہا ہے؟ کیا آپ کل کو جیفرسن ڈیوس کے حق میں بھی بیان جاری کریں گے؟
 

زیک

مسافر
میری نظر، میں افغانستان کے بعد عراق پر حملہ، صیہونی سازش کا حصہ تھا، اگر 2011 ، 11 ستمبر کے واقعے کے تناظر میں دیکھا جائے ، تو افغانستان میں ابھرتی ہوئی اسلامی حکومت، اور عالم اسلام میں اسکی پذیرائی، نے یہودیوں اور عیسائیوں کو ہلا کر رکھدیا تھا۔ وہ اسبات کا اندازہ بہ خوبی کرچکے تھے، کہ افغاں مجاہدین، روس جیسی سپر طاقت کی تباہی کے بعد، اور دس سالہ مسلسل گوریلا وار نے انہیں، دنیا کی سب سے خطرناک گوریلا فوج بنادیا ہے، جس سے ایک طرف ہندوستان کو شددیدخطرات لاحق ہیں، تو دوسری طرف امریکہ کو اپنا سپر پاور کا خواب بھی چکنا چور ہوتا نظر آرہا تھا، اسی طرح یہ مجاہدین کسی وقت بھی اسرائیل کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے تھے۔ دوسری طرف عراق کے صدر صدام کی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کو کبھی گھاس نہیں ڈالی تھی۔ اس وقت اگر پاکستان کا پرویز مشرف اگر بزدلی نہ دیکھاتا تو امریکہ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔
مسلمان ایک بڑی طاقت بنکر ابھر چکے ہوتے۔ اور افغان امریکہ وار ، افغانستان میں نہیں امریکہ میں لری جارہی ہوتی۔ اور ابتک امریکہ ٹکڑوں میں بٹ چکا ہوتا۔
)نوٹ یہ میرا ذاتی تجزیہء ہے)
انتہائی بکواسیات سے بھرا تجزیہ ہے۔
 
Top