نایاب

لائبریرین
پسندیدگی کا بہت شکریہ

دوبئی یا سعودی میں جس کمپنی کا برا انگریز ہو تو بس ملازمین چین کی نیند سوتے ہیں کہ ہمارا رکھوالا موجود ہے۔کئی دوبئی پلٹ سے میں نے یہی سُنا ہے۔
سچ کہا ۔۔۔۔۔
اس بارے اک لطیفہ بہت مشہور ہوا تھا کہ " تم کب سے مسلمان ہو گئے ۔ جو تمہارے ملازم اپنا حق پانے کے لیئے ترسنے لگے "
 

منصور مکرم

محفلین
لو جی وہ ریلوئے لائن کی تباہی والی ویڈیو نے بھی کام شروع کردیا
اسمیں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ایک صدی سے قائم رہنے والی ریل کی پٹڑی ہمارئے حکمرانوں کے ہاتھوں تباہی تک پہنچ گئی۔
 

منصور مکرم

محفلین
اتنی یہ ایسی جگہ پر ہم جیسے لوگ تو جا نہیں سکتے آپکی وجہ سے دیکھ لی یہ جگہ
بہنا ،تحصیل دار نے روڑے اٹکائے ورنہ تو آپکو ایسی ایسی جگہوں کی سیر کراتا کہ انگشت بدنداں رہ جاتی۔

میرے بعض ساتھی وہاں عجیب عجیب جگہوں پر پہنچ گئے لیکن افسوس انہوں نے کیمرہ استعمال نہ کیا ،جسکا افسوس رہے گا۔

بعض اوقات یہ لوگ قصدا بھی حالات خراب کرلیتے ہیں تاکہ کوئی رپورٹنگ کیلئے جا نہ سکے۔
 

ملائکہ

محفلین
بہنا ،تحصیل دار نے روڑے اٹکائے ورنہ تو آپکو ایسی ایسی جگہوں کی سیر کراتا کہ انگشت بدنداں رہ جاتی۔

میرے بعض ساتھی وہاں عجیب عجیب جگہوں پر پہنچ گئے لیکن افسوس انہوں نے کیمرہ استعمال نہ کیا ،جسکا افسوس رہے گا۔

بعض اوقات یہ لوگ قصدا بھی حالات خراب کرلیتے ہیں تاکہ کوئی رپورٹنگ کیلئے جا نہ سکے۔
عام لوگ تو جا ہی نہیں سکتے نا:(
 
بہت ہی عمدہ اور معلوماتی مراسلہ،
آپ گھومتے پھرتے رہا کریں منصور بھائی کیوں کہ آپ تحریر کے ساتھ تصویر اور خاص طور پر ویڈیو بھی شئیر کرتے ہیں تو مزہ آ جاتا ہے سفر کا۔

اگر کوئی یہ کہے کہ جناب یہ کیوں نیٹو کا سامان لے جاتے ہیں ،تو انکے علم میں یہ بات لاؤنگا کہ یہ نیٹو سپلائی والے نہیں بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیاں ہوتی ہیں۔جس میں افغان تاجر پاکستان سے سامان لے جاتے ہیں۔گویا انکے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کا مطلب پاکستانی مارکیٹ کا راستہ روکنا ہے۔جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ افغان تاجر بد ظن ہوتے جا رہے ہیں۔

یہاں ایک چیز کی تصحیح کرنا چاہوں گا۔

افغان ٹریڈ ٹرانزٹ کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ افغانستان کے تاجر یہ تجارت پاکستان کی مصنوعات خرید کر کرتے ہیں اور اس سے پاکستانی صنعت یا مصنوعات کو فائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ اس کا مطلب راہداری یعنی راستہ ہے جو پاکستان نے افغانستان کو لاہور اور کراچی کے ذریعے سہولت دی ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ پاکستانی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے ڈیوٹی فری تجارت کر سکتا ہے۔ صرف انڈیا کے سلسلے میں اس میں درآمد کی پابندی ہے باقی ہر جگہ سے امپورٹ اور ایکسپورٹ کر سکتا ہے افغانستان اس راستے کو استعمال کرتے ہوئے۔ یعنی افغانستان انڈیا کو ایکسپورٹ تو کر سکتا ہے لیکن امپورٹ کی اجازت پاکستان نے نہیں دے رکھی۔ لیکن باقی ممالک کے ساتھ تجارت میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔

میرے نذدیک افغان ٹرانزٹ معائدے کا پاکستان کی تجارتی تنزلی میں بہت بڑا ہاتھ ہے، کیوں کے اس کے ذریعے افغانی تاجر یہ ڈیوٹی فری سامان جسے پاکستانی تاجر ڈیوٹی ادا کر کے پاکستان لاتا اور بیچتا ہے افغانستان کے بہانے اسمگل کر کے مقامی منڈی میں بیچ دیتے ہیں، جس سے مقامی صنعتوں ، مقامی تاجروں، ہمارے ذاتی تجارتی معاہدوں اور حجم کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

کسی بھی دو ممالک کے بیچ تجارتی تعلقات یا مراعات ان کےمابین تجارتی حجم کو مدِنظر رکھ کر قائم ہوتے ہیں، مثلاََ: روس سے ہم سالانہ تقریباََ 500 ملین ڈالر کی امپورٹ کرتے ہیں یہ یہی ہماری کسٹمر پروفائل ہے روس کے پاس جبکہ افغانستان کی روس سے سالانہ امپورٹ تقریباََ 900 ملین ڈالر ہے اور اس 900 ملین ڈالر میں سے 80٪ سے زیادہ پاکستان میں ہی کھپ جاتا ہے کیوں کہ افغانستان کو اب بہت سی مراعات حاصل ہیں اور اس کے علاوہ ان کی تجارت پاکستانی سمندری اور ڈرائے پورٹس کے ذریعے امپورٹس پر کوئی ڈیوٹی بھی نہیں اس لیے ان کے پرافٹ کا مارجن بھی زیادہ ہےاور افغانستان جا کر بیچنے کے بجائے یہیں پاکستان میں بیچنا زیادہ نفع بخش ہے اور مقامی پاکستانی سوداگر بھی ملکی مفاد کے بجائے ریٹ کی وجہ سے اسے ترجیح دیتے ہیں۔

اب اگر ہم روس سے اپنی سالانہ امپورٹس کے 500 ملین ڈالر اور وہ امپورٹس جو کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی صلہ ہے اور سمگلنگ کہلاتی ہے اور افغانی تجارتی گڈ بک میں اضافہ کرتی اور کھپتی پاکستان میں ہے اس کے 80٪ کے حساب سے 700 ملین ڈالر کا اضافہ اگر پاکستانی تجارت میں ہو توکیا پاکستان کی 1200 ملین ڈالر کے کسٹمر کے طور پہ رشیاء میں اہمیت میں اضافہ نہ ہوگا۔ کیا ہمارے مقامی تاجروں کو اس سے فائدہ نہ ہو گا۔ اگر ہماری امپورٹس بڑھتی ہیں تو بدلے میں ہماری پراڈکٹ کو بھی اہمیت ملتی ہے۔

اس ٹریڈ ٹرانزٹ کی آڑ میں اور کیا کچھ پاکستان امپورٹ ہو چکا ہے وہ ایک الگ قصہ ہے، اور نیٹو کے ٹرانزٹ کا جو سیاہ باب ہے وہ بھی ایک دن اپنے گل ضرور کھلائے گا۔

افغان ٹریڈ ٹرانزٹ معاہدہ پاکستان کی معیشت، اس کی تجارتی پروفائل، اس کی سڑکوں اور لاجسٹکس ذرائع کے لیے میری نظر میں ایک زہرِ قاتل ہے۔
 
آخری تدوین:

منصور مکرم

محفلین
بہت ہی عمدہ اور معلوماتی مراسلہ،
آپ گھومتے پھرتے رہا کریں منصور بھائی کیوں کہ آپ تحریر کے ساتھ تصویر اور خاص طور پر ویڈیو بھی شئیر کرتے ہیں تو مزہ آ جاتا ہے سفر کا۔



یہاں ایک چیز کی تصحیح کرنا چاہوں گا۔

افغان ٹریڈ ٹرانزٹ کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ افغانستان کے تاجر یہ تجارت پاکستان کی مصنوعات خرید کر کرتے ہیں اور اس سے پاکستانی صنعت یا مصنوعات کو فائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ اس کا مطلب راہداری یعنی راستہ ہے جو پاکستان نے افغانستان کو لاہور اور کراچی کے ذریعے سہولت دی ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ پاکستانی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے ڈیوٹی فری تجارت کر سکتا ہے۔ صرف انڈیا کے سلسلے میں اس میں درآمد کی پابندی ہے باقی ہر جگہ سے امپورٹ اور ایکسپورٹ کر سکتا ہے افغانستان اس راستے کو استعمال کرتے ہوئے۔ یعنی افغانستان انڈیا کو ایکسپورٹ تو کر سکتا ہے لیکن امپورٹ کی اجازت پاکستان نے نہیں دے رکھی۔ لیکن باقی ممالک کے ساتھ تجارت میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔

میرے نذدیک افغان ٹرانزٹ معائدے کا پاکستان کی معاشی تنزلی میں بہت بڑا ہاتھ ہے، کیوں کے اس کے ذریعے افغانی تاجر یہ ڈیوٹی فری سامان جسے پاکستانی تاجر ڈیوٹی ادا کر کے پاکستان لاتا اور بیچتا ہے افغانستان کے بہانے اسمگل کر کے مقامی منڈی میں بیچ دیتے ہیں، جس سے مقامی صنعتوں ، مقامی تاجروں، ہمارے ذاتی تجارتی معاہدوں اور حجم کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

کسی بھی دو ممالک کے بیچ تجارتی تعلقات یا مراعات ان کےمابین تجارتی حجم کو مدِنظر رکھ کر قائم ہوتے ہیں، مثلاََ: روس سے ہم سالانہ تقریباََ 500 ملین ڈالر کی امپورٹ کرتے ہیں یہ یہی ہماری کسٹمر پروفائل ہے روس کے پاس جبکہ افغانستان کی روس سے سالانہ امپورٹ تقریباََ 900 ملین ڈالر ہے اور اس 900 ملین ڈالر میں سے 80٪ سے زیادہ پاکستان میں ہی کھپ جاتا ہے کیوں کہ افغانستان کو اب بہت سی مراعات حاصل ہیں اور اس کے علاوہ ان کی تجارت پاکستانی سمندری اور ڈرائے پورٹس کے ذریعے امپورٹس پر کوئی ڈیوٹی بھی نہیں اس لیے ان کے پرافٹ کا مارجن افغانستان جا کر بیچنے کے بجائے یہیں پاکستان میں بیچنا زیادہ نفع بخش ہے اور مقامی پاکستانی سوداگر بھی ملکی مفاد کے بجائے ریٹ کی وجہ سے اسے ترجیح دیتے ہیں۔

اب اگر ہم روس سے اپنی سالانہ امپورٹس کے 500 ملین ڈالر اور وہ امپورٹس جو کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی صلہ ہے اور سمگلنگ کہلاتی ہے اور افغانی تجارتی گڈ بک میں اضافہ کرتی اور کھپتی پاکستان میں ہے اس کے 80٪ کے حساب سے 700 ملین ڈالر کا اضافہ اگر پاکستانی تجارت میں ہو تو پاکستان کی 1200 ملین ڈالر کے کسٹمر کے طور پہ رشیاء میں اہمیت میں اضافہ نہ ہوگا۔ کیا ہمارے مقامی تاجروں کو اس سے فائدہ نہ ہو گا۔ اگر ہماری امپورٹس بڑھتی ہیں تو بدلے میں ہماری پراڈکٹ کو بھی اہمیت ملتی ہے۔

اس ٹریڈ ٹرانزٹ کی آڑ میں اور کیا کچھ پاکستان امپورٹ ہو چکا ہے وہ ایک الگ قصہ ہے، اور نیٹو کے ٹرانزٹ کا جو سیاہ باب ہے وہ بھی ایک دن اپنے گل ضرور کھلائے گا۔

افغان ٹریڈ ٹرانزٹ معاہدہ پاکستان کی معیشت، اس کی تجارتی پروفائل، اس کی سڑکوں اور لاجسٹکس ذرائع کے لیے میری نظر میں ایک زہرِ قاتل ہے۔

زبردست ۔
میں اس انتظار میں تھا کہ کون اس موضوع پر قلم اٹھاتا ہے۔میں آپکی بات سے متفق ہوں،میں نے خود دیکھا ہے کہ افغانستان کیلئے آئی ہوئی چیز بلیک مارکیٹ میں پاکستان میں بِک رہی ہے۔

لیکن اسمیں میں تھوڑا سا اضافہ یہ کرونگا کہ پاکستان سے بھی بہت سارا مال جاتا ہے افغانستان ،جیسے سیمنٹ ،لوہا ،اور کپڑا ،کپاس وغیرہ۔لیکن اب کلی عدد کا علم نہیں کہ مجموعی طور پر پاکستان کو منافع زیادہ ہے کہ نقصان۔
 
زبردست ۔
میں اس انتظار میں تھا کہ کون اس موضوع پر قلم اٹھاتا ہے۔میں آپکی بات سے متفق ہوں،میں نے خود دیکھا ہے کہ افغانستان کیلئے آئی ہوئی چیز بلیک مارکیٹ میں پاکستان میں بِک رہی ہے۔

لیکن اسمیں میں تھوڑا سا اضافہ یہ کرونگا کہ پاکستان سے بھی بہت سارا مال جاتا ہے افغانستان ،جیسے سیمنٹ ،لوہا ،اور کپڑا ،کپاس وغیرہ۔لیکن اب کلی عدد کا علم نہیں کہ مجموعی طور پر پاکستان کو منافع زیادہ ہے کہ نقصان۔
وہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معائدے کا حصہ نہیں بلکہ وہ ہماری آپسی تجارت ہے، جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں افغانستان کو دی جانے والی بہت سی مراعات جن میں کچھ موجودہ حالات اور عالمی ٹرینڈ یا روش کی وجہ سے اور کچھ ہمارے بھائی چارے اور خیر سگالی کے کیڑے اور پالیسیوں کی وجہ سےبہت کچھ مراعاتی پیکجز پر جا رہاہے۔یہاں تک کہ بہت سی پاکستانی اشیاء پاکستان میں ان کے ریٹس سے کہیں ارزاں افغانستان سے دستیاب ہیں۔ اور اسمگلر پاکستانی اشیاء بھی افغانستان سے لا کر یہاں بیچتے ہیں۔
 

اسد

محفلین
تحریر اور تصاویر پسند آئیں۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر تبصرہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔۔۔

تصاویر غالباً پکاسا سے ریسائز کی گئی ہیں اور ان میں کاپی رائٹ 2010 کا ہے، اسے درست کر لیں۔ تصاویر کا سائز اتنا بڑا ہے کہ کاپی رائٹ نوٹس تصاویر پر نظر آنا چاہئیے۔
 

منصور مکرم

محفلین
تحریر اور تصاویر پسند آئیں۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر تبصرہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔۔۔

تصاویر غالباً پکاسا سے ریسائز کی گئی ہیں اور ان میں کاپی رائٹ 2010 کا ہے، اسے درست کر لیں۔ تصاویر کا سائز اتنا بڑا ہے کہ کاپی رائٹ نوٹس تصاویر پر نظر آنا چاہئیے۔
اسد بھائی تصاویر پکاسا سے میں نے تو نہیں لی ہیں ،بلکہ میں نے اسکو اپنے بلاگ پر اپلوڈ کیا ،اور پھر وہاں سے یہاں پیسٹ کردیا۔
ہاں یہ ممکن ہے کہ بلاگرز ڈاٹ کام کا کوئی اپنا ربط موجود ہو کہ بلاگر جب اپنے بلاگ پر تصاویر اپلود کریں ،تو پکاسا میں سٹور ہوجائیں۔

اور یہ تصاویر کا اپنا اوریجنل سائز ہے شائد۔پکاسا کے کاپی رائٹ کے بارئے میں زیادہ نہیں جانتا۔
 

آصف اثر

معطل
اگرچہ میں نے نام تبدیل کرلیا ہے،لیکن مجھے ابھی بھی وہ پرانا نام پسند ہے۔
کیونکہ یہ تبدیلی باامر مجبوری تھی۔مجھے تو اُس نام میں ایک انفرادیت نظر آتی ہے۔
پرانا نام میں نے صرف دل لگی کے لیے لکھ دیا تھا۔ ورنہ منصور مکرم بھی کسی سے کم نہیں!
 
Top