وی اے ٹی یا پرچیز ٹیکس، سنگل ٹیکس ہی واحد حل ہے ورنہ فاتحہ پڑھ لو

زیرک نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 10, 2020

  1. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    4,555
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    وی اے ٹی یا پرچیز ٹیکس، سنگل ٹیکس ہی واحد حل ہے ورنہ فاتحہ پڑھ لو
    • پاکستان کی معاشی مشکلات کا حل صرف سنگل ٹیکس سسٹم میں ہے جسے آپ چاہے وی اے ٹی کہہ لیں یا پرچیز ٹیکس، اس کے نفاذ سے ہی اس مشکل سے نکلا جا سکتا ہے۔ اس وقت ملک مشکل معاشی حالات میں پھنسا ہوا ہے، جو لوگ باہر سے منگوائے گئے ہیں وہ پالیسی ایسی بناتے ہیں کہ جن کو سمجھنا ملکی اداروں کے بس کی بات نہیں۔ ٹیکسز سے ریونیوز بہت کم آ رہے ہیں، ریونیوز اتنے کم ہیں کہ اگر ملک چلائیں تو قرضوں کی واپسی ممکن نہیں ہے، قرض واپس کریں تو ملکی ادارے نہیں چل سکتے۔ اس وقت بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائے جانے والا زرمبادلہ ہی واحد ذریعہ ہے جس میں پاکستان مثبت پوائنٹ پہ ہے، ورنہ تمام مدات میں ملک دن بدن نیچے سے نیچے جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکسز کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ عوام اورتاجروں میں ان کے ناموں کو لے کر ہی تشویش بڑھتی جا رہی ہے، اگر پاکستان میں تمام ٹیکسز کا خاتمہ کر کے ہر خریدار سے اس سال میں ٪25 وی اے ٹی یا پرچیز ٹیکس وصول کیا جائے تو خریدار اور تاجر دونوں کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ خریدار شناختی کارڈ کی شرط کی وجہ سے پیچھے ہٹا بیٹھا ہے کہ حکومت زبردستی اسے کھینچ کر ٹیکس نیٹ میں لانا چاہتی ہے لیکن حکومت یہ نہیں سمجھ رہی کہ اس شرط سے ریونیوز کم ہو رہے ہیں۔ آج بھی عوام سے خریداری کے نامپر ٪45 کی شرح سے مختلف ٹیکسزکی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں لیکن چونکہ سب کچھ ڈاکومنٹڈ نہیں ہیں اس لیے یہ ٹیکسز حکومت کو ملنے کی بجائے تاجر کی جیب میں جا رہا ہے حکومت کو شاید اس کا صرف ٪15 ہی ملتا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ دفتری بابو کام کرنا نہیں چاہتے، تاجر خود پیپر ورک کر کے پھنسنا نہیں چاہتے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ملک میں ٹیکسز کی تعداد اور ٹیکس کا نظام اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ ٹیکس نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین ہی اسے سمجھنے سے قاصر ہیں، جسے خود سمجھ نہ ہو وہ اس پر کیسے سمجھا سکے گا یا اس پر عمل کروا سکے گا، نتیجہ یہ ہے کہ وہ تنخواہ لے کر گھر چلے جاتےہیں۔ لیکن مختلف ٹیکسوں کی بھرمار کے اثرات عام آدمی پر پڑتے ہیں کیونکہ وہ تو ٹیکس دے رہا ہے چاہے حکومت کو سارا جائے یا نہ جائے لیکن اس کی پاکٹ سے تو نکل رہا ہے، تاجر مزے میں ہے کہ کون سا دفتری بابو آ کر ہمارے کھاتے کھولے گا لہٰذا مال ہضم کر کے ٹیکس ڈکار جاتے ہیں لیکن حکومتی اداروں کے بابوؤں کی کچھ نہ کرنے کی پالیسی کی وجہ سے مہنگائی کا جن بے قابو ہوا جاتا ہے اور اس کا اثر براہِ راست عوام پر پڑتا ہے۔ حکومت جتنا جلد سمجھ جائے کہ ٹیکسز کا نظام جتنا سادہ ہو گا اتنا ہی اچھا ہو گا اس سے خریدار کے دل میں ڈر نہیں ہو گا تو پھر ریونیوز بھی بڑھنا شروع ہو جائیں گے۔ وی اے ٹی یا پرچیز ٹیکس کی اس سال کی شرح ٪25، 2021 میں ٪23، 2022 میں ٪21 اور جب حالات بہتر ہو جائیں تو اسے جہاں مناسب سمجھے رکھ لیں۔ مراعات یافتہ حلقے بھی اپنے حصے کا ٹیکس نہیں دیتے لیکن مراعات لینے میں ذرا برابر نہیں چوکتے، عوام کی بھینس کو ذبح کرنے سے حکومت اور تاجر کب تک پاؤ بھر گوشت کھائیں گے؟۔اس لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ٹیکسز کا بوجھ معاشرے کے تمام طبقوں پر برابر ڈالا جائے اور مراعات یافتہ طبقے کی مراعات پر کچھ عرصے کے لیے کٹ لگایا جائے، جب حالات بہتر ہو جائیں تو انہیں واپس ہڈی ڈالی جا سکتی ہے، بات تمام مقتدر حلقے سمجھ جائیں تو بہتر ہے ورنہ حالات بگڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی۔
     
    آخری تدوین: ‏فروری 10, 2020
    • زبردست زبردست × 2

اس صفحے کی تشہیر