وہ شب و روز خیالوں میں

A Basit نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 6, 2019

  1. A Basit

    A Basit محفلین

    مراسلے:
    13
    موڈ:
    Breezy
    وہ شب و روز خیالوں میں تماشا نہ کرے
    آ نہیں سکتا تو پھر یاد بھی آیا نہ کرے

    ایک امید کی کھڑکی سی کھلی رہتی ہے
    اپنے کمرے کا کوئی ، بلب بجھایا نہ کرے

    میں مسافر ہوں کسی روز تو جانا ہے مجھے
    کوئی سمجھائے اسے میری تمنا نہ کرے

    روز ای میل کرے سرخ اِمج ہونٹوں کے
    میں کسی اور ستارے پہ ہوں ، سوچا نہ کرے

    حافظہ ایک امانت ہے کسی کی لیکن
    یاد کی سرد ہو ا شام کو رویا نہ کرے

    چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور
    میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے


    دیوان منصور آفاق
     

اس صفحے کی تشہیر