وہ سورتیں/آیات جنہیں حفظ یا تلاوت کرنے کی فضیلت احادیث میں آئی ہے

شکیب نے 'قران فہمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 5, 2021

  1. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    2,382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سورة الفلق اور سورة الناس یعنی المعوذتین کی فضیلت

    ۱- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقبہ بن عامر سے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ تمہیں کچھ خبر ہے کہ آج کی رات اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسی آیات نازل فرمائی ہیں کہ ان کی مثل نہیں دیکھی، یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس

    ۱- انہی کی ایک روایت میں ہے کہ تو رات، انجیل اور زبور اور قرآن میں بھی ان سورتوں جیسی کوئی دوسری سورت نہیں ۔

    ۳- حضرت عقبہ بن عامر ہی کی روایت ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو معوذتین پڑھائی اور پھر مغرب کی نماز میں انہی دونوں سورتوں کی تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا کہ ان دونوں سورتوں کو سونے اور بیدار ہونے کے وقت پڑھا کرو۔

    ۴- اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں سورتوں کو ہر نماز کے بعد پڑھنے کی تلقین فرمائی۔

    ۵- اور حضرت عائشہ رضی الله عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کوئی بیماری پیش آتی تو یہ دونوں سورتیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کر کے سارے بدن پر پھیر لیتے تھے، پھر جب مرض وفات میں آپ کی تکلیف بڑھی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں پر دم کردیتی تھی آپ اپنے تمام بدن پر پھیر لتے تھے۔ میں یہ کام اس لئے کرتی تھی کہ آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھوں کا بدل میرے ہاتھ نہیں ہو سکتے تھے۔

    ۶- حضرت عبداللہ بن حبیب سے روایت ہے کہ ایک رات تیز بارش اور سخت اندھیری تھی۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے کے لئے نکلے، جب آپ کو پا لیا تو آپ نے فرمایا کہ کہو، میں نے عرض کیا کہ کیا کہوں، آپ نے فرمایا، قل ہو اللہ احد اور معوذتین پڑھو، جب صبح ہو اور جب شام ہو تین مرتبہ یہ پڑھنا تمہارے لیے ہر تکلیف سے امان ہوگا۔
     
  2. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    2,382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ۱- حضرت صدیقہ عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ فجر کی سنتوں میں پڑھنے کے لئے دو سورتیں بہتر ہیں سورة الکافرون اور سورة الاخلاص۔

    ۲- متعدد صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صبح کی سنتوں میں اور بعد مغرب کی سنتوں میں بکثرت یہ دو سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔

    ۳- بعض صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی دعا بتا دیجئے جو ہم سونے سے پہلے پڑھا کریں، آپ نے قل یا ایھا الکفرون پڑھنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ یہ شرک سے براءت ہے۔

    ۴- حضرت جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایاجس کا مفہوم یہ ہے کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جب سفر میں جاؤ تو وہاں تم اپنے سب رفقاء سے زیادہ خوشحال اور با مراد رہو اور تمہارا سامان زیادہ ہوجائے؟ انہوں نے عرض کیا، بے شک یا رسول اللہ میں ایسا ہی چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ آخر قرآن کی پانچ سورتیں سورة الکافرون، سورة النصر، سورة الاخلاص، سورة الفلق اور سورة الناس پڑھا کرو اور ہر سورة کو بسم اللہ سے شروع کرو اور بسم اللہ ہی پر ختم کرو۔ حضرت جبیر فرماتے ہیں کہ اس وقت میرا حال یہ تھا کہ سفر میں اپنے دوسروں ساتھیوں کے مقابلے میں غریب اور خستہ حال ہوتا تھا۔ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس تعلیم پر عمل کیا میں سب سے بہتر حال میں رہنے لگا۔

    ۵- حضرت علی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بچھونے کاٹ لیا تو آپ نے پانی اور نمک منگایا اور یہ پانی کاٹنے کی جگہ لگاتے جاتے تھے اور قل یا ایھا الکافرون قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس پڑھتے جاتے تھے۔
     
  3. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,949
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    آقا علیہ الصلاۃ والسلام کا رات کو اپنے اوپر آخری تین سورتوں کا دم۔

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو دونوں ہتھیلیاں (دعا کی طرح) جمع کرتے پھر سورۃ اخلاص، سورۃالفلق اور سورۃ الناس تینوں سورتیں پڑھ کر ان میں پھونکتے اور اس کے بعد دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ہوسکتا بدن پر مل لیتے۔ پہلے سر اور چہرے پر پھر جسم کے اگلے حصے پر اور یہ عمل تین مرتبہ کرتے۔

    (صحیح بخاری، جلد سوم، رقم 9، ترمذی، جلد دوم، رقم 1326)
     
  4. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,865
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    سورہ رحمٰن کی فضیلت
    ١.. قرآن کی زینت
    حضرت علی رضی الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ ہرچیزکے لیے حسن ( وجمال وزینت وخوبصورتی ) ہے اور قرآن کا حسن ( وجمال وزینت وخوبصورتی ) س۔۔ورة الرحمن ہے
    (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح » كتاب فضائل القرآن)

    Abdullah ibn Mas’ud (R.A.) reported that Muhammad (S.A.W.) said, "Everything has an adornment, and the adornment of the Qur’an is Surah ar Rahman" [Bayhaqi in Shuab al Eiman].

    ٢.. جنات کے آگے تلاوت
    حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ( ایک دفعہ ) اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے پس آپ نے سورة الرحمن اول سے آخرتک تلاوت فرمائی ، صحابہ کرام خاموش سنتے رہے ، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے سورة الرحمن جنات کے اوپر پڑهی وه جواب دینے میں تم سے زیاده اچهے تهے ، میں جب بهی ( فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ) پڑهتا تو وه ( جنات ) کہتے لَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ ، فَلَكَ الْحَمْدُ . یعنی اے ہمارے رب ہم تیری نعمتوں میں سے کسی بهی نعمت کو نہیں جهٹلاتے تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں
    (سنن الترمذي » كتاب تفسير القرآن)
     
  5. طارق راحیل

    طارق راحیل محفلین

    مراسلے:
    471
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    صرف ایک شکایت ہے کہ
    اسناد نہیں ذکر کیں آپ نے احادیث کی
     

اس صفحے کی تشہیر