وہ حیلہ جُو بھی کمال کا تھا جو لڑکھڑایا تو مسکرایا

وہ میرے دل کے اداس کمروں میں جگمگایا تو مسکرایا
وہ حیلہ جُو بھی کمال کا تھا جو لڑکھڑایا تو مسکرایا

اسے یہ خو تھی کہ میرے دل کے برامدے میں وہ رقص دیکھے
عجیب شے تھا کہ وسوسوں نے اسے ستایا تو مسکرایا

وہ محو حیرت تھا میری سوچوں کے کچھ کواڑوں کی خامشی پر
حسین چہرے نے سادگی سے سراغ پایا تو مسکرایا

وہ مسکراتی سے ایک شب تھی، کے ایک رُت تھی، کے ایک پل تھا
میں گل بدن کی عیاں شرارت کو چھیڑ آیا تو مسکرایا

وہ "آپ" تھے یا وہ "تم" تھے یا پھر "حضور" تھے یا "جناب" تھے وہ
اس اک غزالاں کو اتنے لہجوں میں جب بلایا تو مسکرایا

اسامہ جمشیدؔ
صبح 7 بجے، 1 مئی 2018، راولپنڈی​
 
آخری تدوین:
اچھی غزل ہے
عجیب شیہ تھا کہ وسوسوں نے اسے ستایا تو مسکرایا
شے
وہ محو حیرت تھا میری سوچوں کے بند کواڑوں کی خامشی پر
بند کا وزن فاع ہے فع باندھنا درست نہیں۔
وہ "آپ" تھے کے وہ "تم" تھے یا پھر "حضور" تھے یا "جناب" تھے وہ
کہ
کہ دو حرفی اچھا نہیں لگتا
 
Top