احسان دانش وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

نظام الدین نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 24, 2015

  1. نظام الدین

    نظام الدین محفلین

    مراسلے:
    1,005
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

    وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے

    بندھا ہوا ہے بہاروں کا اب وہیں تانتا

    جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کے لئے

    کوئی نسیم ا نغمہ، کوئی شمیم کا راگ

    فضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کے لئے

    خدا نکردہ زمین پاؤں سے اگر کھسکی

    بڑھیں گے تند بگولے سنبھالنے کے لئے

    اتر پڑے ہیں کدھر سے یہ آندھیوں کے جلوس

    سمندروں سے جزیرے نکالنے کے لئے

    تری سلیقہ ترتیب نو کا کیا کہنا

    ہمیں تھے قریۂ دل سے نکالنے کے لئے

    کبھی ہماری ضرورت پڑے دی دنیا کو

    دلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کے لئے

    کنویں میں پھینک کے پچھتارہا ہوں دانش

    کمند جو تھی مناروں پہ ڈالنے کے لئے

    (احسان دانش)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. ملک عدنان احمد

    ملک عدنان احمد محفلین

    مراسلے:
    375
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    ان دو مصرعوں کو دیکھئے گا۔ ٹائپنگ کی غلطیوں کا شبہ ہوتا ہے۔
     
  3. امیر حمزہ

    امیر حمزہ محفلین

    مراسلے:
    69
    جھنڈا:
    Pakistan
    وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے
    وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے

    بندھا ہوا ہے بہاروں کا اب وہیں تانتا
    جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کے لئے

    کوئی نسیم کا نغمہ کوئی شمیم کا راگ
    فضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کے لئے

    خدا نہ کردہ زمیں پاؤں سے اگر کھسکی
    بڑھیں گے تند بگولے سنبھالنے کے لئے

    اتر پڑے ہیں کدھر سے یہ آندھیوں کے جلوس
    سمندروں سے جزیرے نکالنے کے لئے

    ترے سلیقۂِ ترتیبِ نو کا کیا کہنا
    ہمیں تھے قریۂ دل سے نکالنے کے لئے؟

    کبھی ہماری ضرورت پڑے گی دنیا کو
    دلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کے لئے

    یہ شعبدے ہی سہی کچھ فسوں گروں کو بلاؤ
    نئی فضا میں ستارے اچھالنے کے لئے

    ہے صرف ہم کو ترے خال و خد کا اندازہ
    یہ آئنے تو ہیں حیرت میں ڈالنے کے لئے

    نہ جانے کتنی مسافت سے آئے گا سورج
    نگارِ شب کا جنازہ نکالنے کے لئے

    میں پیش رو ہوں اسی خاک سے اگیں گے چراغ
    نگاہ و دل کے افق کو اجالنے کے لئے

    فصیلِ شب سے کوئی ہاتھ بڑھنے والا ہے
    فضا کی جیب سے سورج نکالنے کے لئے

    کنوئیں میں پھینک کے پچھتا رہا ہوں اے دانشؔ
    کمند تھی جو مناروں پر ڈالنے کے لئے

    احسان دانش
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 8, 2020

اس صفحے کی تشہیر