وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی قمری کلینڈر میدان میں لے آئے، اگلے 5 سال کی عیدوں کا اعلان بھی کر دیا

جاسم محمد

محفلین
کیا یہاں دوسری بستی کے شخص کی جگہ سیٹلائٹ یا دیگر آلات کو رکھا جا سکتا ہے؟
سپارکو نے جو ہبل دور بین خلا میں چھوڑی ہوئی ہے۔ وہ کس دن کام آئے گی؟
Capture.jpg
 

جان

محفلین
سارا مسئلہ اس بات پر عدم اتفاق کا ہے کہ آیا مہینے کی ابتداء نئے چاند کی اصل پیدائش سے کی جائے یا اتنے نمایاں ہونے سے جب یہ غروب آفتاب کے بعد زمین کی فضاء میں سے نظر آنے لگے۔
ڈیٹا تو سب کے پاس ایک ہی ہے، عدم اتفاق بس cutoff لگانے کے مقام پر ہے۔
نیز یہ بھی طے کرنا پڑے گا کہ اس بات کی کیا تشریح کی جائے کہ اگر اپنی بستی میں بادل ہیں اور دوسری بستی سے کوئی شخص خبر لاتا ہے تو مہینہ شروع کیا جائے۔ کیا یہاں دوسری بستی کے شخص کی جگہ سیٹلائٹ یا دیگر آلات کو رکھا جا سکتا ہے؟ چونکہ خبر لانے کے حوالے سے دونوں کا فنکشن تو ایک ہی ہے۔
چونکہ تشریح پر اجماع پیدا کرنے کا کام علمائے دین کو کرنا پڑے گا تو مجھے لگتا ہے کہ اس معاملے میں سائنس دان مکمل ڈیٹا میسر ہونے کے باوجود بالکل بے بس ہیں۔ سائنس دان صرف تشریح کرنے کے عمل میں مختلف مظاہر کی بہتر وضاحت کر کے کچھ حد تک مدد کر سکتے ہیں، وہ بھی اگر علماء اس سے استفادہ کرنا چاہیں۔
میری ناقص رائے میں اگر نمازوں کے اوقات سورج کی حرکت کے میسر ڈیٹا کی مدد سے پہلے سے طے کیے جا سکتے ہیں تو چاند کا بھی کوئی کٹ آف پوائنٹ طے کرنے کے بعد قمری مہینوں کو بھی پہلے سے طے کیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سحری اور افطاری کے اوقات (کٹ آف پوائنٹس) بھی ہر خطے میں پہلے سے طے شدہ ہیں، اس کے لیے ہر دفعہ سورج نہیں دیکھا جاتا۔ اسی طرح جس علاقے میں بادلوں کی وجہ سے یا گرہن کی وجہ سے سورج نہیں نکل پاتا یا دیر سے نکلتا ہے تو وہاں نماز، سحری اور افطاری کے اوقات نہیں بدلتے۔ لہذا قمری مہینہ بھی چاند کی حرکت کا پابند ہے، انسان کی حسِ بصیرت کا نہیں۔ روزے بھی فرض ہیں اور نماز بھی تو اس رو سے یہ بھی بات اہم ہے کہ دونوں کے پیمانے جانچنے کے حوالے سے تفریق کیوں ہے۔
دوسری بات یہ کہ عید ایک خطے میں ہر مسلمان نے منانی ہے تو "اجماع" کا حق بھی ہر مسلمان کا ہے۔ مجھ احقر کو یہ "علمائے کرام" کی سیلف پروکلیمڈ اتھارٹی محسوس ہوتی ہے۔ اگر سائینٹیفک ڈیٹا کی موجودگی میں عوام یعنی اس خطے کے مسلمانوں کی اکثریت کو قائل کر لیا جاتا ہے کہ قمری مہینہ ایک خاص ترتیب سے چل رہا ہے تو مجھے ظاہری طور پر اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔
 
آخری تدوین:

جان

محفلین
اپنا قیاس درست کرلیجیے۔ جامعۃ الرشید اور دیگر مدارس اپنے کورسسز میں مون سائٹنگ کی تجویز دیتے ہیں۔ دراصل مدارس کے کورسز اور طریقۂ تدریس سے ناواقفیت کی بنا پر یہ غلط فہمیاں جنم لیتی ہے۔
مجھ حقیر کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنے نظریات کو دوسری کی زندگی کا لازمی جزو بنا دیتے ہیں چاہے اس بندے کا اس سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو۔ مجھ پر یہ پابندی نہیں کہ میں آپ کے نظریات سے ہر حال میں متفق رہوں۔ بحیثیت انسان ہر انسان کو بلا تفریق مذہب و رنگ و نسل اپنے نظریات رکھنے کا حق ہے چاہے اس کے نظریات آپ سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ لہذا آپ سے محبتانہ و مخلصانہ گزارش ہے کہ مجھے میرے قیاس درست کرنے کا خود ساختہ مشورہ دینے کی بجائے آپ اپنے خیالات سے ہمیں مستفید فرمائیں اور اس کے بعد اس قاری پہ چھوڑ دیں کہ وہ آپ سے کس قدر متفق ہے۔
 

محمد سعد

محفلین
چاند کا بھی کوئی کٹ آف پوائنٹ طے کرنے کے بعد قمری مہینوں کو بھی پہلے سے طے کیا جا سکتا ہے۔
میرا بھی یہی خیال ہے، اگرچہ مسئلہ اجماع پیدا کرنے کا ہے کہ وہ کٹ آف اور شرائط ہوں کیا۔ اگر اس معاملے کو فضول کی لڑائی نہ بنایا جائے تو یہ کیا بھی جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، اس نکتے پر بھی اختلاف دیکھا ہے کہ مغرب کی جانب کسی ملک میں اگر ایسے وقت میں چاند نظر آیا کہ جب یہاں رات کافی ہو چکی تھی تو کیا ہم اس کو اپنے اوپر لاگو کریں گے یا پھر چونکہ ہمارے نئے دن کے کٹ آف، یعنی مغرب، تک چاند نظر نہیں آیا تو وہ رویت ہمارے خطے پر لاگو نہیں ہوتی؟
 

محمد سعد

محفلین
دوسری بات یہ کہ عید ایک خطے میں ہر مسلمان نے منانی ہے تو "اجماع" کا حق بھی ہر مسلمان کا ہے۔ مجھ احقر کو یہ "علمائے کرام" کی سیلف پروکلیمڈ اتھارٹی محسوس ہوتی ہے۔ اگر سائینٹیفک ڈیٹا کی موجودگی میں عوام یعنی اس خطے کے مسلمانوں کی اکثریت کو قائل کر لیا جاتا ہے کہ قمری مہینہ ایک خاص ترتیب سے چل رہا ہے تو مجھے ظاہری طور پر اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔
سیلف پروکلیمڈ اتھارٹی کی بات نہیں ہے۔ علماء کو شامل رکھنے کی ضرورت اس لیے ہو گی کہ مذہب کے حوالے سے غلطی کا امکان کم کیا جا سکے، جبکہ فلکیات دانوں اور فلکیاتی ڈیٹا کو شامل کرنے کی ضرورت اس لیے ہو گی کہ فلکی مظاہر کو سمجھنے کے حوالے سے غلطی کا امکان کم کیا جا سکے۔ جہاں کسی کے پاس کوئی مہارت ہے تو اس سے استفادہ کر کے غلطی کے امکان سے بچنے میں کیا حرج ہے؟
 

جان

محفلین
میرا بھی یہی خیال ہے، اگرچہ مسئلہ اجماع پیدا کرنے کا ہے کہ وہ کٹ آف اور شرائط ہوں کیا۔ اگر اس معاملے کو فضول کی لڑائی نہ بنایا جائے تو یہ کیا بھی جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، اس نکتے پر بھی اختلاف دیکھا ہے کہ مغرب کی جانب کسی ملک میں اگر ایسے وقت میں چاند نظر آیا کہ جب یہاں رات کافی ہو چکی تھی تو کیا ہم اس کو اپنے اوپر لاگو کریں گے یا پھر چونکہ ہمارے نئے دن کے کٹ آف، یعنی مغرب، تک چاند نظر نہیں آیا تو وہ رویت ہمارے خطے پر لاگو نہیں ہوتی؟
یہ آپ نے بہت اچھی بات کہی ہے۔ اگر کسی ایک نقطے پر متفق ہونے کے لیے کوئی مخلصانہ کوشش کی جائے تو یہ کام نا ممکن نہیں ہے۔
 

آصف اثر

معطل
مجھ حقیر کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنے نظریات کو دوسری کی زندگی کا لازمی جزو بنا دیتے ہیں چاہے اس بندے کا اس سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو۔ مجھ پر یہ پابندی نہیں کہ میں آپ کے نظریات سے ہر حال میں متفق رہوں۔ بحیثیت انسان ہر انسان کو بلا تفریق مذہب و رنگ و نسل اپنے نظریات رکھنے کا حق ہے چاہے اس کے نظریات آپ سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ لہذا آپ سے محبتانہ و مخلصانہ گزارش ہے کہ مجھے میرے قیاس درست کرنے کا خود ساختہ مشورہ دینے کی بجائے آپ اپنے خیالات سے ہمیں مستفید فرمائیں اور اس کے بعد اس قاری پہ چھوڑ دیں کہ وہ آپ سے کس قدر متفق ہے۔
دراصل آپ کا پورے مذہبی طبقے پر غلط تاثر ڈالنے کی ارادۃ یا غیر ارادۃ کوشش:
اس ویب سائٹ کو اگر بغیر کسی کمیٹی کے ریفرنس مان لیا جاتا تو مذہبی حلقوں میں غالباً اسے کسی بہت بڑی یورپی یا صیہونی سازش کے قیاس کا جواز بنائے جانے کے قوی امکانات موجود تھے۔
پر مشورہ تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ نے سازشی تڑکا ڈالا میں نے برادرانہ تجویز دی۔ تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
 

جان

محفلین
دراصل آپ کا پورے مذہبی طبقے پر غلط تاثر ڈالنے کی ارادۃ یا غیر ارادۃ کوشش:
یہ میرے دیکھنے کا زاویہ ہے، تاثر اچھا ہے یا برا، کوشش ارداۃ ہے یا غیر ارادۃ، اس سے قطع نظر آپ اسے رد کرنے کا کلی اختیار رکھتے ہیں کیونکہ یہ محض میری رائے ہے جو قیاس پر مبنی ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں جو آپ نے قیاس یا گمان کیا ہو وہی عین میرا نظریہ ہو یا میں نے کہا ہو یا میرا مقصد ہو، اس کی حیثیت "گمان" یا "قیاس" سے زیادہ نہیں رہے گی کیونکہ حقیقی سچائی اور دلوں اور نیتوں کے احوال انسان کا خالق جانتا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ آپ نے سازشی تڑکا ڈالا میں نے برادرانہ تجویز دی۔ تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
آپ نے میری بات کو "سازشی تڑکا" گمان کیا اور اپنی بات کو "برادرانہ مشورہ"، بس اسی میں قیاس کی ساری حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ میرا مقصد آپ یا کسی بھی فردِ واحد کی توہین و تضحیک کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ اپنے خیالات کو مخلصانہ طور پر پیش کرنا ہے۔ بحیثیت انسان فرطِ جذبات میں اگر انجانے میں کبھی کمی کوتاہی ہو جاتی ہے تو اس پر خدا کے حضور اور اس بندے سے معافی کا طلبگار ہوں۔
 
آخری تدوین:
Top