ورقِ جاں پہ کوئی نعت لکھا چاہیے ہے

سیما علی نے 'حمد، نعت، مدحت و منقبت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 12, 2021

  1. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    20,568
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ورقِ جاں پہ کوئی نعت لکھا چاہیے ہے
    ایسی حسرت کوتقرب بھی سوا چاہیے ہے

    ظرفِ بینائی کودیدارِ شہہ لوح وقلم
    وصفِ گویائی کو توفیقِ ثنا چاہیے ہے

    حرفِ مدحت ہوکچھ ایسا کہ نصیبہ کُھل جائے
    ایسے ممکن کوفقط حُسنِ عطا چاہیے ہے

    چشم آشفتہ کواک عہدِ یقیں ہے درکار
    دلِ بے راہ کونقش کفِ پاچاہیے ہے

    آنکھ نم ناک ہواور سانس میں اک اسم کی رو
    زندہ رہنے کے لیے آب وہوا چاہیے ہے

    مژدۂ غیب ہے اک بابِ حضوری مجھ کو
    اتنے امکان کے بعد اب مجھے کیا چاہیے ہے

    اس شب وروز کے آشوبِ مسافت میں نصیر
    اب مدینے کی طرف بھی تو چلا چاہیے ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر