وحی-از- پروین شاکر

وحی

عجیب موسم تھا وه بھی، جبکہ
عبادتیں کور چشم تھیں
اور عقیدتیں اپنی ساری بینائی کھو چکی تھیں
خود اپنے ہاتھوں سے ترشے پتھر کو دیوتا کہہ کے
خیر و پرکت کئی نعمتیں لوگ مانگتے تھے!
مگر وه اک شخص
جو ابھی اپنے آپ پر بھی نہ منکشف تھا
عجیب الجھن مین مبتلا تھا
یہ وه نہیں ہیں، وه کون ہو گا کا کربِ بے نام چکھ رہا تھا!
سو اپنے ان نارسا دکھوں کئی صلیب اٹھائے
غموں کئی نایافت شہریت کو تلاش کرتے
وه شہرِ آذر سے دور
اپنے تمام لمحے
حرا کے غاروں کے خواب آسا سکوت کو سونپنے لگا تھا
یہ سوچ کا عتکاف بھی تھا
اور ایک ان دیکھی روحِ کُل کے وجود کا اعتراف بھی تھا!
وه رات بھی ارتکاز کئی ایک رات تھی
جبکہ لمحہ بھر کو
فضا پہ سنّاٹا چھا گیا تھا
اور ہواؤں کئی سانس رُک گئی تھی
ستارہٕ شب کے دل کی دھڑکن ٹھہر گئی تھی
گریز پا ساعتیں تحیر زدہ تھیں
جیسے وجود کئی نبض تھام گئی ہو!
یکایک اک روشنی جمال و جلال کے سارے رنگ لے کر فضا مین گونجی
"پڑھو"
"میں پڑھ نہیں سکوں گا"
پڑھو!"۔"
"(مگر) مین کیا پڑھوں؟"
پڑھو تم اپنے (عظیم) پروردگار کا نام لے کر!"
جو سب کو خلق کرتا ہے
جس نے انسان کو بنایا ہے منجمد خون سے
پڑھو (کہ) تمہارا پروردگار بے حد کریم ہے
اور جس نے تم کو قلم سے تعلیم دی
اسی نے بتائیں انسان کو وه باتیں
کہ جن کو وه جانتا نہیں تھا ...... "۔

فضائے بے نطق جیسے اقراء کا ورد کرنے لگی تھی
وه سارے لفظ، جو
تیرگی کے سیلاب میں کہیں بہہ چکے تھے
پھر روشنی کئی لہروں میں
واپسی کے سفر کا آغاز کر رہے تھے
دریچہء بے خیال میں
آگہی کے سورج اتر رہے تھے!
اس ایک پل میں
وه میرا اُمیّ
مدینتُہ العلم بن چکا تھا

پروین شاکر
 
Top