واٹس ایپ کی پرائویسی پالیسی اور ہم

جمال صدیقی نے 'اِسلامی تعلیمات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 11, 2021

  1. جمال صدیقی

    جمال صدیقی محفلین

    مراسلے:
    4
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Mellow
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    واٹس ایپ کی پرائویسی پالیسی اور ہم

    الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم:اما بعد

    محترم قارئین!

    اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ جب سے یہ اسکرین ٹچ موبائل سستاہوا ہے اور بالخصوص جب سے یہ 4 جی سم وجود میں آیا ہے اسی وقت سے یہ موبائل ہماری زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکا ہے، ہم اس موبائل کے اس قدر عادی وعاشق اور رسیا و دلدادہ ہوچکے ہیں کہ اس کے بغیر ہمیں چند سیکنڈ بھی رہنا گوارہ نہیں ، اور آج ہم اس موبائل کے لئے اور یہ موبائل ہمارے لئے ویسے ہی لازم وملزوم ہوچکا ہے جیسے کہ مجنوں کی لیلی سے ، ہیر کی رانجھے سے،قیس کی فرہاد سے محبت کے افسانے مشہور ومعروف ہیں! یہی وجہ ہے کہ یہ موبائل ہروقت ہمارے ساتھ ہوتا ہے، جب ہم گھر میں ہوتے ہیں تب بھی ہم اسی موبائل میں مشغول ہوتے ہیں،اور جب بازاروں میں چل رہے ہوتے ہیں تب بھی یہ ہمارے ہاتھوں میں ہوتا ہے،جب ہم کھانے کے دستر خوان پر ہوں تب بھی ہماری نگائیں اسی پر مرکوز ہوتی ہیں،جب ہم نماز میں ہوں تب بھی یہ ہمارے سامنےموجود ہوتا ہے،جب ہم کسی جنازے میں شریک ہوں تب بھی یا پھر کوئی غم کی محفل جمی ہو تب بھی آس پاس کے ماحول سے بےخبر ہم اسی میں مگن ہوتے ہیں،اتنا ہی نہیں جب ہم بیت الخلاء میں ہوتے ہیں تب بھی اسی موبائل میں مصروف رہتے ہوئے قضائے حاجت سے فارغ ہوتے ہیں،جب ہم نیند کی آغوش میں جانے والے ہوتے ہیں تب بھی آخری دیدار اسی موبائل کا کرتے ہوئے اسے اپنے سر کے بالکل قریب رکھ کر سو جاتے ہیں اور پھر جب نیند سے بیدارہوتے ہیں تو سب سے پہلی نظر اسی موبائل پر ڈالتے ہیں، سفر وحضر میں چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے ،سوتے اور جاگتے ہرآن ہرلمحہ ہم سب اسی موبائل میں تن ومن سے مگن و مصروف رہتے ہیں! الغرض کون سی ایسی جگہ ہے اور کون سا ایسا لمحہ ہے جب ہم سب اسے استعمال نہ کرتے ہوں اور اس موبائل کو لے کر کے آج ہماری یہ حالت ہوگئی ہے کہ ہم سب بھوکے،پیاسے رہ سکتے ہیں مگر اس موبائل کے بغیر نہیں رہ سکتے، ہمارے جیب میں پھوٹی کوڑی نہ ہو چلے گا مگرموبائل کے انٹرنیٹ کا ریچارج ختم ہوجائے یہ ہمیں کسی بھی حال میں منظور نہیں!!

    برادران اسلام!

    کمبخت اسی موبائل نے ہماری ہرطرح کی نیکیوں اورتمام عبادتوں ہمارے روزے، ہماری زکاتیں،ہمارے صدقات وخیرات،ہمارے حج وعمرے،ہماری قربانیوں کا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے،اسی موبائل نے ہماری مسجدوں اورحرمین شریفین کے تقدس کو بھی پامال کردیا ہے،اسی موبائل نے ہماری نمازوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے،جو کچھ بھی ہماری نمازوں کے اندر خشوع وخضوع بچا تھا اس موبائل نے اس کو بھی چٹ کردیا کہ دوران نماز ہم اسے اپنے سامنے رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور اگر دوران نماز کسی کا رنگ آجائے تو ہماری پوری توجہ اسی موبائل پر مرکوز ہوجاتی ہے،اور اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ امام صاحب کب سلام پھیرے تاکہ ہم موبائل استعمال کریں نیزاکثروبیشتر مساجد میں یہ چیز دیکھنے کو ملتی ہے کہ سلام پھیرتے ہی لوگ ذکرواذکار کو چھوڑ کر اسی موبائل کے ساتھ چھیڑخوانی شروع کردیتے ہیں،مسجد کے اندر اور پھرنماز کے دوران موبائل کو لے کر کے جو یہ ہماری حالت ہوگئی ہےاس کی ایک جھلک اور ہماری دلوں کی کیفیت کی عکاسی علامہ اقبال کے اس شعر میں (ترمیم کے ساتھ) ملاحظہ کیجئے اور عبرت وموعظت حاصل کریں!

    جو میں سربسجدہ ہوا کبھی،تو زمیں سے آنے لگی صدا
    تیرا دل تو ہے ’’ موبائل‘‘ آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

    آج اسی موبائل نے نوجوان نسل کو تباہ برباد کرکے ہلاکت کے عمیق گڑھے میں ڈال دیا ہے،اسی موبائل نے معصوم بچوں کو وقت سے پہلے ہی جوان کردیا،اسی موبائل نے نہ جانے کتنوں کو مرتد بنا دیا،اسی موبائل نے نہ جانے کتنوں کی عزتوں کو داغدار بنادیا، اسی موبائل نے اس زمانے میں حرام وناجائز تعلقات کے پیدا کرنے میں آسانیاں پیدا کی،اسی موبائل نے صنف مخالف کو ایک دوسرے کے قریب لا کر عشق ومعاشقے کے جال میں پھنسا دیا،اسی موبائل نے نہ جانے کتنے گھروں کو اجاڑ کرکے رکھ دیا ہے،اسی موبائل نے نہ جانے کتنے خاندانوں کی عزتوں کو پامال کردیا،اسی موبائل نے نہ جانے کتنوں کو خود کشی کرنے پر مجبور کردیا،اسی موبائل نے نہ جانے کتنے ہی میاں بیوی کے درمیان میں جدائی ڈال دی ہے،اسی موبائل نے اولاد کو والدین کا باغی بنا رکھا ہے، اسی موبائل نے والدین کو اولاد سے اور اولاد کو والدین سے جدا کردیا،اسی موبائل کی وجہ سے نہ جانے کتنے ہی لوگوں نے اپنی اپنی جانیں گنوادیں الغرض اس موبائل نے بچے سے لے کر جوان تک، مرد وخواتین، نیک وبد سب کو ہی اپنے چنگل میں جکڑ رکھا ہے۔

    اسلامی بھائیو اور بہنو!

    ہرزمانے میں اہل ایمان کی آزمائش کی مختلف شکلیں اور صورتیں ہوا کرتی ہیں مثال کے طور پردورنبوت میں صحابۂ کرام کی آزمائش ایک بارصلح حدیبیہ میں قیام کے دوران حالت احرام میں شکارکو حرام کرکے اس طرح سے کی گئی کہ شکار کے جانور ان کے قریب ہوتے تھے اور یہ آزمائش صرف اور صرف اس لئے تھی کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کو بن دیکھے کون ڈرتا ہےجیسا کہ اس احوال کا بیان سورہ مائدہ آیت نمبر94 کے اندرموجود ہے فرمان باری تعالی ہے:’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‘‘ یعنی کے ایے ایمان والو!اللہ ایسے شکار سے تمہارا امتحان لے گا جن تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے تا کہ اللہ معلوم کر لے کہ کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے،اب جو شخص اس کے بعد حد سے نکلے گا اس کے لئے دردناک سزا ہے،اورآج ہمارا ایمان بالغیب انٹرنیٹ او رموبائل کے ذریعہ آزمایا جارہا ہے،کیونکہ صرف ایک کلک ہی میں ہمارا موبائل وہ کچھ دکھا سکتا ہے جس کو دیکھنے سے ہم سے پہلے کے لوگ عاجز تھے،اسی لئے اس موبائل کو استعمال کرنے میں محتاط رہیں، یاد رکھ لیں یہ ہمارا موبائل ایک ایسا بینک لاکر ہے کہ اس کے اندر ہم آج جو کچھ بھی جمع کریں گے اس کو ایک دن ضرور پائیں گے،اسی لئے موبائل کے ساتھ اپنے اپنے تنہائیوں کی حفاظت کریں،خلوت میں موبائل کے غلط استعمال سے پرہیز کریں ،کہیں ایسا نہ ہوکہ اس موبائل کی وجہ سے جس طرح ہم دنیا میں برباد ہوئے اسی طرح سے آخرت میں ہمیں ذلیل ورسوا نہ ہونا پڑے۔

    آج جب واٹس ایپ کے مالک نے اپنے ایپ کے اندر پرائویسی پالیسی کے اصول وضوابط میں کچھ تبدیلی کی تو ہم سب دنیا کے ذلت ورسوائی سے کس قدر ڈر گئے کہ بہت سارے افراد نے واٹس ایپ ہی ان اسٹال کردیا،بہت سارے افراد نے کوئی دوسرا متبادل راستہ ڈھونڈ لیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا راز کھل جائے اور سماج ومعاشرے میں ہماری امیج نہ خراب ہوجائے،افسوس صد افسوس کہ ہم اپنی پرسنل پرائویسی کے کرتوتوں کو لے کر اتنے خوف زدہ ہوگئے مگر ہمیں اپنے رب کی نگہبانی کا پاس ولحاظ نہیں سچ فرمایا ہمارے رب نے ’’ يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا ‘‘ وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپ سکتے(حالانکہ) وہ راتوں کے وقت جب کہ اللہ کو ناپسندیدہ باتوں کے خفیہ مشورے کرتے ہیں،اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے،ان کے تمام اعمال کو وہ گھیرے ہوئے ہے۔(النساء:108) آج ہم سب اپنے اپنے پرسنل کی پرائویسی اور سیکریٹ راز کو لے کر اتنے فکرمند ہوگئے ،کیا ہم نے کبھی ایسا بھی سوچا کہ ایک دن ایسا بھی ہماری زندگی میں آنے والا ہے جس دن کسی کا کوئی راز راز نہ رہے گا،آج ہم لوگوں کی نظروں سے تو بچ سکتے ہیں مگر کل نہیں بچ سکتے،آج ہم اپنے عیبوں پر پردہ ڈالنے کے لئے کوئی دوسرا راستہ تلاش تو کرسکتے ہیں مگر کل نہیں کیونکہ اگر کسی نے سمندر کے تہہ کی تاریکیوں اور رات کی گھٹاٹوپ اندھیروں میں بھی ذرہ برابر کچھ کیا ہوگا تو اس دن رب العالمین اس کو بھی حاضر کردے گا ’’ وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ‘‘ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابربھی عمل ہوگا ہم اسے لا حاضر کریں گے۔ (الانبیاء:47) اسی لئے ہم اس دن کی ذلت ورسوائی سے ڈریں،اپنے اپنے تنہائیوں کی حفاظت کریں اور خلوت کے گناہوں سے بچیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماراشمار بھی انہیں لوگوں کے اندر ہو جائے،جن کے بارے میں محبوب کبریا علیہ الصلاۃ والسلام نے دیا کہ’’ لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا ‘‘ میں اپنی امت کے ان افراد کو ضرورپہچان لوں گا جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں جیسی سفید نیکیاں لے کر حاضر ہوں گے مگر ’’ فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا ‘‘ اللہ ان کے نیکیوں کو بکھرے ہوئے گردوغباراور خس و خاشاک میں تبدیل کردے گا(ایسے لوگوں کی نیکیوں کو قبول نہیں کرے گا)،راویٔ حدیث سیدنا ثوبانؓ نے کہا کہ اے اللہ کے نبیﷺ ’’ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ ‘‘ ایسے لوگوں کی صفات کو بیان فرما دیجئے، ایسے لوگوں کی خصلتوں کو ہمارے لئے واضح کردیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان میں شامل ہوجائیں اور ہمیں احساس بھی نہ ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارے بھائی ہوں گے،وہ تمہاری ہی جنس سے ہوں گے،وہ بھی تمہاری طرح راتوں کو قیام کرنے والے ہوں گے مگر ’’ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا ‘‘ وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ جب انہیں تنہائی میں اللہ کے حرام کردہ گناہوں کو موقع ملتا ہے تو ان کا ارتکاب کرلیتے ہیں۔۔اعاذنا اللہ۔۔۔(رواہ ابن ماجۃ:4245 وصححہ الألبانیؒ)

    کیا ہم میں سے کوئی انسان یہ چاہے گا کہ اس کے ساتھ ایسا ہو؟ہرگز نہیں!تو پھر کیوں نہ ہم اپنے اپنے خلوتوں کی حفاظت کریں،یاد رکھ لیں خلوت ہی ہمارے اچھے اور برے ہونے کی پہچان ہے اور ہماری اصلیت کا پتہ دیتی ہے کہ اصل میں ہم کیسے ہیں!!
    برادران اسلام!
    آج ہم اس اسکرین ٹچ موبائل کے استعمال کرنے میں بڑے ہی بیباک اور جری ہیں،رات کی تاریکیوں میں اپنے اپنے حجروں کے دروازوں کو لاک کر کےجو جی میں آیا وہ سب اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے ٹچ کرتے ہوئے اپنے پیٹ یا پھر اپنے دونوں رانوں کے درمیان رکھ کر اپنی آنکھوں اور اپنی کانوں سے خوب محظوظ ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کون دیکھ رہا ہے،ہماری پرائویسی سیف ہے،خبرداریہ مت سوچناکہ ہماری پرائویسی سیف ہے،کوئی دیکھنے والا نہیں ہے،کوئی جاننے والا نہیں ہے،ہرگز نہیں،ہماری ایک ایک حرکت کی ریکارڈنگ کوئی اور نہیں بلکہ ہماری انگلیاں کر رہی ہیں،ہماری پیٹوں اور رانوں کے گوشت بھی اس کو ریکارڈ کرنے میں لگے ہیں،ہماری ہڈیاں بھی اس کو اپنے خاص میموری میں محفوظ کررہی ہیں،اور یہ سب کل ہماری تنہائیوں کی راز اگل کرکے ہمیں ذلیل ورسوا کرسکتی ہیں جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلى أَفْواهِهِمْ وَتُكَلِّمُنا أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُمْ بِما كانُوا يَكْسِبُونَ ‘‘ ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کےہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے،ان کاموں کی جو وہ کیا کرتے تھے۔(یس:65)اسی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حبیب کائنات محمدﷺ نے فرمایا کہ کل بروزقیامت جب ایک انسان اپنی بڑائی بیان کرے گا اور یہ کہے گا کہ اے میرے رب میں ایسا تھا،میں ویسا تھا،میں نے خوب نمازیں بھی پڑھی تھیں،روزے بھی رکھے تھے،صدقات وخیرات بھی خوب کئے تھے،اللہ اس سے کہے گا کہ رک ذرا ابھی ہم تیرےجھوٹ کو باہر ڈال دیتے ہیں اور پھر’’ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ انْطِقِي ‘‘ اس کے منہہ پر مہرلگا دی جائے گی اور اس کے ران اور اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں یہاں تک کہ بدن کے چمڑوں سے کہاجائے گا کہ اس کے بارے میں ذرا بیان کردو؟آپﷺ نے فرمایا’’ فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ ‘‘ کہ ادھرحکم الہی ہوگا اور ادھریہ سب کے سب اعضاء وجوارح اس کے تمام کرتوتوں کو باہر رکھ دیں گے۔ایک دوسری روایت کے اندر اس بات کا ذکر موجود ہےکہ جب انسان یہ دیکھے گا کہ اس کے ہی اعضاء وجوارح اس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں تو وہ انسان اپنے اعضاء وجوارح سے مخاطب ہوگا اور اس سے غیظ وغضب کی حالت میں کہے گا ’’ بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ ‘‘ کہ تم سب پر اللہ کی پھٹکار ہو،تم سب ہلاک و برباد ہوجاؤ میں تو تم سب کو ہی بچانے کے لئے اتنا بحث ومباحثہ کر رہا تھا۔(مسلم:7438،7439) پھر یہ بیچارے اعضاء وجوارح اس سے کہیں گے کہ ہم کیا کریں ’’ قَالُوا أَنْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ ‘‘ ہمیں تو اس ذات نے بولنے کی طاقت دی جس نے کائنات کی ہرچیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔ (فصلت:20-21)
    میرے اسلامی بھائیواور بہنو!
    یاد رکھ لیں!قیامت کے دن آپ سے آپ کے موبائل کے بارے میں بھی سوال ہوگا،آپ کے بارے میں یہ حکم دیا جائے گا کہ ’’ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ ‘‘ (الصافات:24) اور انہیں ٹھہرا لو،کیونکہ ان سے واٹساپ (WhatsApp ) کے اکاؤنٹ، فیس بک (Facebook) کے اکاؤنٹ، ٹوئیٹر(Twitter) کے اکاؤنٹ،ٹیلی گرام (telegram) کے اکاونٹ،انسٹگرام (Instagram) کے اکاؤنٹ،اسنیپ چیٹ(Snapchat) کے اکاؤنٹ،اسکائپ(skype) کے اکاؤنٹ،یوٹوب(YouTube) کے اکاؤنٹ، ایمو(imo) کے اکاؤنٹ،وائبر(Viber) کے اکاؤنٹ، ٹک ٹاک(Tik Tok) کے اکاؤنٹ،لائک(Like) کے اکاؤنٹ،وغیرہ پر جو پوسٹ (Post) کئے،جو شئیر(Share) کئے،جو میسیجز(Message) بھیجے،جو کومینٹس (comments) لکھے،جو لائک (Like) کرے ان سب چیزوں کے بارے میں پوچھا جانے والا ہے! اتنا ہی نہیں سوشل میڈیا کے قرب کے لمحات میں انہوں نے جو بھی حرکات وسکنات کئے ان سب کے بارے میں ان کے آنکھوں،کانوں وغیرہ سے سوال کرو’’ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ‘‘ بے شک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔(الاسراء:36) اسی لئے حساب وکتاب کے اس کٹھن مرحلوں کو یاد رکھتے ہوئے اللہ کی دی ہوئی اس نعمت سے خوب فائدہ اٹھائیں اوراپنے موبائل سے نیکیاں کمائیں،اللہ اور اس کے رسولﷺ کے پیغام کو عام کریں،نیکیوں کی تلقین کریں،قرآنی آیات و احادیث پر مشتمل پوسٹ کو دیکھیں،پڑھیں،سنیں اورشیئر کریں تا کہ یہ ساری چیزیں آپ لئے توشۂ آخرت بن کر آپ کے نجات کا ذریعہ بنےاور گناہ پر مشتمل آڈیو،ویڈیو،فوٹوزالغرض ہرطرح کے پوسٹ کو دیکھنے،سننے اورپھر شیئر کرنے سے بچیں، خبردار!! آپ کا ایک کلک آپ کو تا قیامت گناہگار بناسکتا ہے،آپ منوں مٹی میں مدفون ہوجائیں گے مگرگناہوں کا کھاتا چالو رہے گا، اتنا ہی نہیں کہ صرف اکیلے شیئر کرنے والے کو گناہ ملے گا بلکہ تاقیامت اس گناہ پر مشتمل پوسٹ کو جتنے لوگ دیکھیں گے یا پھر جتنے لوگ بھی اس کو شیئر کریں گے ان سب لوگوں کا گناہ اس انسان کے سربھی ہوگا جس نے ان تک وہ پوسٹ پہنچایا تھا،جیسا کہ رسول اکرم ومکرمﷺ نے فرمایا:’’ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا ‘‘ جو شخص بھی حق بات کی طرف کسی کو دعوت دے گا تو اسے اس قدر ثواب ہے جس قدر اس حق کی اتباع کرنے والوں کو ملے گا،اس حق کی پیروی کرنے والوں میں سے کسی کے ثواب میں کوئی کمی نہی کی جائے گی یعنی سب کو برابر برابر اجروثواب ملے گا،اور اگر کسی نے کسی کو گمراہی کے طرف بلایا تو اسے اس قدر گناہ ہوگا جس قدر اس کی پیروی کرنے والوں کو ہوگا،اور کسی کے بھی گناہ میں کمی نہ کی جائے گی یعنی جتنے لوگ بھی تاقیامت اس گمراہی کے پیچھے پڑیں گے سب کا گناہ اسی انسان کے سر جائے گا جس نے اس کی طرف پہلی بار دعوت دی تھی۔(مسلم:2674،ابوداؤد:4609)
    آخیر میں رب العالمین سے دعاگو ہوں کہ الہ العالمین تو ہم سب کے دین ودنیا کی حفاظت فرما۔آمین۔


    ( تحریر: ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر