نیا انداز برائے اصلاح

جینے کے بدل دیئے ہیں انداز میں نے
اب کیا ہے نئی روش کا آغاز میں نے

تُو میری مدد کو آیا ہر مشکل میں
جیون میں جب بھی دی آواز یں نے

میں تو خوش ہوں اپنی خوش بختی پہ
دل میں جب سُنی تیری آواز میں نے

اب قرب کا ہونے ہی لگا ہے احساس
خلوصِ دل سے جب پڑھی نماز میں نے

ارشد کو میرے مالک ثابت قدم رکھنا اب تو
پھیلائے ہیں تیرے سامنے ہاتھ بندہ نواز میں نے
 

الف عین

لائبریرین
@ کے بعد سپیس نہ دیا کریں، اس سے ٹیگ درست نہیں ہوتا
اس کی بحر کچھ ہے تو میں سمجھ نہیں سکا
 
نئی ترتیب کے ساتھ دوبارا حاضرِ خدمت
-------------------
افاعیل--- فعولن فعولن فعولن فعولن
----------------
چلن بدلا بدلے ہیں انداز میں نے
نئی سوچوں کا کیا ہے آغاز میں نے

پکارا تو آیا تُو میری مدد کو
دی جب بھی کبھی مالک آواز میں نے

میں نازاں ہوں اپنی ہی قسمت پہ یا رب
سُنی دل میں جب تیری آواز میں نے
مجھے قُرب تیرے کا احساس ہے اب
ہاں پایا ہے اب ہی یہ اعزاز میں نے

اب ارشد کو ثابت قدم رکھنا یا رب
پکارا ہے تجھ کو با آواز میں نے
 

الف عین

لائبریرین
چلن بدلا بدلے ہیں انداز میں نے
نئی سوچوں کا کیا ہے آغاز میں نے
۔۔۔دوسرا مصرع بحر سے خارج۔ کیا، بطور فعل (done) دو حرفی نہیں۔ بر وزن دعا، فعو ہو گا۔
پکارا تو آیا تُو میری مدد کو
دی جب بھی کبھی مالک آواز میں نے
۔۔۔درست اگرچہ 'مالک' اضافی ہے

میں نازاں ہوں اپنی ہی قسمت پہ یا رب
سُنی دل میں جب تیری آواز میں نے
۔۔۔ مفہوم؟

مجھے قُرب تیرے کا احساس ہے اب
ہاں پایا ہے اب ہی یہ اعزاز میں نے
۔۔۔ قرب تیرے' ؟ 'تیری قربت' زیادہ رواں نہیں لگتا؟ شعر کا بیانیہ پسند نہین آیا۔
اب کیا خاص بات ہوئی ہے جو یہ اعزاز ملا ہے؟

اب ارشد کو ثابت قدم رکھنا یا رب
پکارا ہے تجھ کو با آواز میں نے
۔۔۔'اب' مراد کس عمل کے بعد؟ اس کا کچھ ذکر نہیں
آواز سے ہو یا دل میں پکارو، اللہ تو ہر طرح سنتا ہے کہ وہ رگ جان سے بھی قریب تر ہے!
 
Top