مصحفی نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر

سردار محمد نعیم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 30, 2018

  1. سردار محمد نعیم

    سردار محمد نعیم محفلین

    مراسلے:
    1,917
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر
    یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر

    کیا خطا مجھ سے ہوئ رات کہ اس کافر کا
    میں نے خود چھوڑ دیا ہاتھ میں داماں لے کر

    باغ وہ دست جنوں تھا کبھی جس میں سے
    لالہ و گل گئے ثابت نہ گریباں لے کر

    طرفہ سوجھی یہ جنوں کو تیرے دیوانے کی
    راہ میں پھینک دیے خار مغیلاں لے کر

    پھر گئ سوئے اسیران قفس باد صبا
    خبر آمد ایام بہاراں لے کر

    رنج پہ رنج جو دینے کی ہے خو قاتل کو
    ساتھ آیا ہے بہم تیغ و نمکداں لے کر

    مصحفی گوشہ عزلت کو سمجھ تخت شہی
    کیا کرے گا تو عبث ملک سلیماں لے کر۔
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏جنوری 2, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  2. انصاری زہرہ محمد فیضان

    انصاری زہرہ محمد فیضان محفلین

    مراسلے:
    1
    اس شعر کی تشریح کریں :

    باغ وہ دشت جنوں تھا کبھی جس میں سے
    لالہ و گل گئے ثابت نہ گریباں لے کر
     
  3. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    5,183
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت خوب شراکت ہے.
    خارِ مغیلاں اور گوشۂ عزلت کے معانی درکار ہیں.
     
  4. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,860
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    مغیلاں: کیکر ، ببول

    عزلت: خلوت، تنہائی
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر