نویس — اردو کے لیے ایک صوتی کی‌بورڈ لےآؤٹ

یعنی ایک حرفِ صحیح (جس کا اردو میں وجود نہیں) اردو رسم الخط میں صرف اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ اگلے الف کا مضموم ہونا ظاہر کرے؟ کیا ہی اچھا ہوتا اگر ایسا کوئی انتظام دیگر حروف کے لیے بھی ہوتا تا کہ ان کی حرکات بھی معلوم ہو جاتیں۔
کیا یکُم کو یءکم لکھا جا سکتا ہے؟ ء یہاں یہ بتا رہا ہے کہ اگلا ک مضموم ہے۔

بہرحال اصل تلفظ احیاءالعلوم کا اردو میں احیاؤالعلوم ہی ہے، نیم مصوتے و کے ساتھ۔ لکھا جیسے بھی جائے۔
ریحان بھائی ، انتہائی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ گفتگو کا رخ اب بحث برائے بحث کی طرف مڑگیا ہے ۔ میں اس گفتگو کو یہیں ختم کرنا چاہتا ہوں یہ کہتے ہوئے کہ اس ساری بحث میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اردو کا رسم الخط اور املا کسی عالم ، ماہر یا کسی کمیٹی نے نہیں بنائے ۔ یہ تو خودبخود لاکھوں کروڑوں لوگوں کے برس ہا برس استعمال سے وجود میں آگیا اور اس کا رواج پڑ گیا ۔ اردو زبان نے چونکہ کئی مختلف علاقوں میں ایک طویل دورانیے میں تشکیل پائی ہے اس لئے گرامر ، تلفظ اور املا میں بہت سارے اختلافات در آئے ۔ املا کمیٹی ( اور اس سے پہلے مولوی عبدالحق ، عبد الستار صدیقی وغیرہم ) نے تو املا کے اختلافات کو ختم کرنے اور اسے ایک معیاری شکل دینے کے لئے اصلاحات تجویز کی ہیں ۔ اردو حروف تہجی انہوں نے ایجاد نہیں کئے ۔ یہ تو ایک تاریخی عمل اور لسانی ارتقا کا نتیجہ ہیں ۔ اگر آپ کوئی لفظ ہمزہ سے نہیں لکھنا چاہتے تو مت لکھئے ۔ کوئی آپ کا قلم نہیں روکے گا ۔ اگر میں اپنا نام ظہیر احمد کے بجائے زحیر اہمد لکھوں تو مجھے بھی کوئی نہیں روکے گا ۔ لیکن ان سب باتوں کا نتیجہ کیا ہے ؟!
پھر وہی بات کہوں گا کہ کاش زبان کے اصول میرے اور آپ کے بنانے سے بن سکتے یا بدل سکتے ۔ زبان کی گرامر ، املا ، لغت یہ تو سب خود بخود بن چکے ۔ اب بات صرف ان میں موجود اختلافات کو ختم کرنے اور ایک معیاری املا ، معیاری لغت اور معیاری تلفظ کو رواج دینے کی ہے ۔

ریحان بھائی ، اچھی گفتگو رہی ۔ ان شاءاللّٰہ پھر کبھی مزید بات چیت رہے گی ۔ فی الحال ایک نظم پوسٹ کرنے کا ارادہ ہورہا ہے ۔ :) اس پر آپ کی رائے کا انتظار رہے گا ۔
 

شکیب

محفلین
ظہیر بھائی ان شااللّٰہ، ماشااللّٰہ بغیر ہمزہ کے لکھے جا سکتے ہیں۔ اردو میں ہمزہ کا کوئی وجود ہی نہیں اس لیے مفرد ہمزہ لکھنے نہ لکھنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

ؤ اردو میں نیم مصوتے /w/ کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے اردو تلفظ کے مطابق علاؤالدین اور ذکاؤالرحمان لکھا جانا چاہیے۔ ؤ میں و پر ی ہے ہمزہ نہیں جو کہ اس کے نیم مصوتہ ہونے کی علامت سمجھی جا سکتی ہے۔ اؤ یہاں پر /aw/ کو ظاہر کرتا ہے جو کہ ایک (diphthong) یعنی دوہرا مصوتہ ہے ہے۔

اسی طرح کچھ اور الفاظ کی املا کی بابت بالائی ہمزہ کے تناظر میں (جو کہ میرے نزدیک بالائی ی ہے) چند باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔

ئ اور ی دونوں نیم مصوتے /j/ کو ظاہر کرتے ہیں، یہ آواز جب لفط کے شروع میں آئے تو حرفِ‌صحیح کی حیثیت رکھتی ہے ورنہ نیم مصوتہ ہوتی ہے۔ یہ غلط فہمی ہے کہ ئ کے اوپر ہمزہ ہے، دراصل ی کے اوپر ی ہی ہے جو کہ نیم مصوتے کی علامت ہے۔
آیا، آئے میں ی اور ئ اسی نیم مصوتے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں فرق کچھ نہیں ہے۔صرف اگر ماقبل حرف ساکن یا مفتوح ہو تو ئ لکھ دیا جاتا ہے مثلاً دھوئے۔ لیکن اگر اگلا حرف الف ہو تو پھر ی کر دیا جاتا ہے جیسے دھویا۔ آواز ہر دو صورت میں ایک ہی ہے۔

املا کمیٹی کا دعویٰ کے ان الفاظ میں ی کا شائبہ تک نہیں مضحکہ خیز ہے۔ آ اے اور جا ای کوئی نہیں بولتا۔
املا کمیٹی والے جسے الفاظ کے درمیان حرفِ صحیح ی سمجھ رہے ہیں وہ دراصل ژ ہے، فارسی میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آزمایش کو لگ بھگ آزماژش ہی بولا جاتا ہے، یش بولنے کے لیے آزما کے بعد وقف کرنا ضروری ہے۔ ی کی بین اللفظ حیثیت صرف نیم مصوتے کی ہو سکتی ہے، اسے ژ سے کنفیوز نہیں کرنا چاہیے۔
پس ثابت ہوا کہ ی اور ئ کا فرق مصنوعی ہے، اس کا صرف ایک فائدہ ہے کہ گئے اور لیے میں فرق واضح ہو جاتا ہے بغیر پچھلے حرف پر فتحہ ڈالے مثلاً گئے اور لیے کا فرق واضح ہو جاتا ہے لیکن اس میں فرق ماقبل حرف کی حرکت کا ہے ی اور ئ کا نہیں۔

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ماہرینِ لسانیات جدید انگریزی transcriptions میں price کے diphthong کو /ɑj/ سے ظاہر کرتے ہیں۔ اسی قبیل کے دوہرے مصوتے /a:j/، /əj/ یا پھر /ɐj/ اردو میں واقع ہوتے ہیں۔ دوہرے مصوتے کی جگہ ڈیڑھ مصوتے کی اصطلاح حقیقت کے زیادہ قریب ہے کیونکہ دوہرا مصوتہ دراصل ایک مصوتے اور ایک نیم مصوتے پر مشتمل ہوتا ہے۔

مرکباتِ اضافی میں شوخیِ تحریر کو شوخئ تحریر لکھنے کی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔ شوخیِ کی درست ٹرینسکرپشن /:ʃo:xije/ بنتی ہے اور اس لیے اسے شوخیِ لکھنا ہی درست ہے، یہاں شوخئ کا استعمال میرے نزدیک درست نہیں، اچانک ئ سے قبل حرف کو مکسور ہونے کی اجازت کیونکر مل گئی؟ ی پر کسرہ اس بات کا عندیہ دے دیتا ہے کہ یہاں ی طویل مصوتہ /:i/ نہیں بلکہ نیم مصوتہ /j/ ہے اور ساتھ ساتھ تلفظ میں طویل مصوتے ے کا اضافہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے یعنی اسے شوخیے پڑھا جانا چاہیے۔

ہائے مختفی پر ختم ہونے والے الفاظ پر اضافت ظاہر کرنے کے لیے ۂ کا استعمال کیا جاتا ہے، ہ پر بالائی ی کی مدد سےنیم مصوتے /j/ یعنی ی کی نشاندہی کی جاتی ہے مثلاً تختۂ /:təxtəje/۔

مختصر یہ کہ ؤ اردو میں /w/ کی علامت ہے جو کہ انگریزی w اور عربی کا اصل و ہے اور اردو کے وسے منفرد ہے۔ؤ پر ی اس کے نیم مصوتہ ہونے کی علامت ہے۔
ؤ ضمہ کا semivocalic equivalent یعنی نیم مصوتی معادل ہے۔ یہ جاؤ، کھاؤ، رؤف، ضیاؤالرحمان جیسے الفاظ میں واقع ہوتا ہے۔ یہی نیم مصوتہ جیؤ، پیؤ جیسے الفاظ میں واقع ہوتا ہے اور اسے راجیو جیسے الفاظ سے ممتاز کیا جانا چاہیے کہ ان میں اردو و ہے۔

ی اور ئ دونوں ہی نیم مصوتے /j/ کو ظاہر کرنے کے کام آتے ہیں، ئ تب استعمال ہوتا ہے جب ماقبل حرفِ صحیح کو مفتوح ظاہر کرنا ہو ورنہ ی لکھا جاتا ہے۔ اگر ما قبل حرف مصوتہ ہو تو عموماً ئ لکھا جاتا ہے مثلاً دھوئے، جائے وغیرہ مگر اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ ہمزہ کا اس سارے قصے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے، جسے بالائی ہمزہ کہا جاتا ہے وہ بالائی ی یعنی نیم مصوتے کی علامت ٔ ہے۔

ہمزہ عربی میں ایک باقاعدہ آواز ہے جس کا اردو میں کوئی وجود نہیں ۔ اس کے اردو میں استعمال کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
توبہ ہے ریحان بھائی اپنا تو یہ پڑھ کر ہی دماغ کا مصوتا ہو گیا۔
 

شکیب

محفلین
معذرت کہ احسن طریقے سے بیان نہیں ہو پایا۔ اردو پر گرفت بہتر کرنے کی ضرورت ہے مجھے مگر وقت اور انگیزشِ مطالعہ کی کمی مانع ہے۔
آپ کو نہیں بھیا ہمیں ضرورت ہے۔ یقین مانیں ایسی ابحاث پڑھ کر ہی احساس ہوتا ہے کہ یہی پرانی والی اردو محفل ہے۔
آپ کو یاد ہوگا راحیل فاروق بھائی نے رباعی کے متعلق ایک تحریر ڈالی تھی، اس وقت بھی یہی کیفیت ہوئی تھی۔ :D
 
Top