نومبر پھر اداس ہے

محمد بلال اعظم

لائبریرین
یونہی بےسبب نہ پھرا کرو
کوئی شام گھر بھی رہا کرو
یہ کتاب میری کتاب ہے
یہ کتاب تم نہ پڑھا کرو۔۔۔ :laugh:

جو یہ کتاب میں نہ پڑھا کروں
تو پھر کون یہ کتاب پڑھا کرے
میرے محبوب تو یہ ظلم نہ کر
کتاب کو مجھ سے جدا نہ کر
 

نیلم

محفلین
بہت خوب یعنی اب دسمبر کے ساتھ نومبر بھی اداس مہینوں میں شامل کر لیا جائے۔

ویسے نئی تحقیق کے مطابق سرد اور اندھیرے مہینوں میں اداسی روشنی کی کمی کے باعث ایک ڈپریشن بن کر عود آتی ہے اور یوں نومبر سے جنوری تک اداس شاعری جنم لیتی ہے۔
جی بلکل :)اچھا پھر تو یورپ سارا ہمیشہ ہی اُداس رہتاہوگا:)
سردیوں کی شامیں کافی اُداسی لیےآتی ہیں،،،سردیوں کی رات بھی ایسی ہی ہوتی ہے،،،ہاں البتہ دن جلدی گزرجاتاہےاُداس ہونےکاٹائم ہی نہیں ملتا:)
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
یہ کتاب کتابِ عشق ہے
جو پڑھے وہ خود کو فنا کرے
تجھے عشق کبھی کسی سے ہو
ایسا کبھی نہ خدا کرے۔۔۔ :laugh:
یہ جو زندگی کی کتاب ہے، یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں اک حسیں سا خواب ہے، کہیں جاں لیوا عذاب ہے

کہیں چھاؤں ہے کہیں دھوپ ہے، کہیں اور ہی کوئی روپ ہے
کئی چہرے اس میں چھپے ہوئے، اک حجاب سی یہ نقاب ہے

کہیں کھو دیا کہیں پا لیا کہیں رو لیا کہیں گا لیا
کہیں چھین لیتی لے ہر خوشی کہیں مہرباں بے حساب ہے

کہیں آنسووں کی ہے داستاں کہیں مسکراہٹوں کا ہے بیاں
کہیں برکتوں کی ہے بارشیں کہیں تشنگی بے حساب ہے
 
جی بلکل :)اچھا پھر تو یورپ سارا ہمیشہ ہی اُداس رہتاہوگا:)
سردیوں کی شامیں کافی اُداسی لیےآتی ہیں،،،سردیوں کی رات بھی ایسی ہی ہوتی ہے،،،ہاں البتہ دن جلدی گزرجاتاہےاُداس ہونےکاٹائم ہی نہیں ملتا:)

یورپ میں سردیوں میں کافی اداسی ہوتی ہے ، یہ سچ ہے۔ :)
 

الف عین

لائبریرین
محفل کے سبھی نا شاعروں کو دعوت سخن ہے کہ جنوری تا دسمبر ہر ماہ کی اداسی پر روشنی یا تاریکی ڈالتے ہوئے اسی قسم کی بے بحری نظمیں کہیں، اور یہاں شئر کریں، لیکن پسندیدہ کلام کی جگہ گپ شپ کی فورم میں!!!
 

افلاطون

محفلین
محفل کے سبھی نا شاعروں کو دعوت سخن ہے کہ جنوری تا دسمبر ہر ماہ کی اداسی پر روشنی یا تاریکی ڈالتے ہوئے اسی قسم کی بے بحری نظمیں کہیں، اور یہاں شئر کریں، لیکن پسندیدہ کلام کی جگہ گپ شپ کی فورم میں!!!
نہ کرو جی! ہم پہلے ہی بہت اداس ہیں اور آپ ہماری اداسی پہ مزید برف چھڑک رہے ہیں:):)
 

گل لالہ

محفلین
یہ جو زندگی کی کتاب ہے، یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں اک حسیں سا خواب ہے، کہیں جاں لیوا عذاب ہے

کہیں چھاؤں ہے کہیں دھوپ ہے، کہیں اور ہی کوئی روپ ہے
کئی چہرے اس میں چھپے ہوئے، اک حجاب سی یہ نقاب ہے

کہیں کھو دیا کہیں پا لیا کہیں رو لیا کہیں گا لیا
کہیں چھین لیتی لے ہر خوشی کہیں مہرباں بے حساب ہے

کہیں آنسووں کی ہے داستاں کہیں مسکراہٹوں کا ہے بیاں
کہیں برکتوں کی ہے بارشیں کہیں تشنگی بے حساب ہے
زندگی کی کتاب تو ۔۔۔۔
 

جاسمن

لائبریرین
محفل کے سبھی نا شاعروں کو دعوت سخن ہے کہ جنوری تا دسمبر ہر ماہ کی اداسی پر روشنی یا تاریکی ڈالتے ہوئے اسی قسم کی بے بحری نظمیں کہیں، اور یہاں شئر کریں، لیکن پسندیدہ کلام کی جگہ گپ شپ کی فورم میں!!!

درست کہا۔
تعمیل جناب!:)
 

Pervez Baqi

محفلین
خنک ہوا کا برہنہ ہاتھوں سے زرد ماتھے سے
پہلا پہلا مکالمہ ہے
ابھی یہ دن رات سرد مہری کے اتنے خوگر نہیں ہوئے ہیں
تو پھر یہ بے وزن صبح کیوں بوجھ بن رہی ہے
سواد آغاز‌‌ خشک سالی میں کیوں ورق بھیگنے لگا ہے
دھواں دھواں شام کے الاؤ میں کوئی جنگل جلے
کہ روٹھی ہوئی تمنا
خزاں کا پانی کوئی اشارہ نہیں سمجھتا
یہ نہر اب تک پرانے پہرے میں چل رہی ہے
عجیب تاثیر آخر شب کے آسماں کی
ہوا چلے یا زمین گھومے
فصیل کہرے کی کوئی سورج نہیں گراتا
زمین سے ملبہ گئے دنوں کا کوئی ستارہ نہیں اٹھاتا
طویل راتیں کہ مختصر دن
کثیر وعدے قلیل عمریں
عبث حساب و شمار اس کا جو گوشت اس سال ناخنوں سے جدا ہوا ہے
سکڑتے لمحے کی ایک سرحد سے تا بہ حد‌ دگر وہی کار ستر پوشی
وہ موئے تن ہو کہ تار پنبہ کہ بال و پر عکس آئینہ کے
ہر ایک کترن پہ زردیاں بانٹنے درختوں کے فیصلے ہیں
اداس پتا
خزاں کا پانی نئے معانی نہیں سمجھتا
سو نہر اب تک پرانے پہرے میں چل رہی ہے

اختر حسین جعفری
 
Top