نواز شریف کی حالت تشویش ناک، جیل سے سروسز اسپتال منتقل

جاسم محمد نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 21, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    معلوم نہیں اب جاتی امرا میں کس جج کو خریدنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔

    نواز شریف سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا پہنچ گئے
    ویب ڈیسک | عدنان شیخ | کنزہ ملکاپ ڈیٹ 06 نومبر 2019

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا میں واقع اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

    قبل ازیں لاہور کی احتساب عدالت سے رہائی کے روبکار جاری ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

    جس کے بعد نواز شریف کو مریم نواز کے ہمراہ شریف سٹی ہسپتال منتقل کیا جانے کی اطلاعات سامنے آئیں تھیں۔

    شریف سٹی میڈیکل ہسپتال کی ایمبولینس میں نواز شریف کے ہمراہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر بھی موجود تھے۔

    تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے نواز شریف کی صحت سے متعلق بیان میں کہا کہ 'نواز شریف کے علاج کے لیے ان کی رہائش گاہ پر انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) قائم کیا گیا ہے'۔

    مریم اورنگزیب نے بتایا کہ نواز شریف کی صحت کی نازک صورتحال کی وجہ سے ڈاکٹروں نے ان کی ملاقاتوں پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے مریم نواز کو والد کی صحت سے متعلق سخت حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ آئی سی یو میں وینٹی لیٹر (مصنوعی تنفس) اور کارڈیک کی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہونے کے باعث نواز شریف کو انفیکشن ہونے کا شدید خطرہ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے طبی خطرات کے پیش نظر نوازشریف کے لیے گھر پر خصوصی میڈیکل یونٹ بنانے کی تجویز دی تھی۔

    ترجمان مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ڈاکٹر عدنان کی زیر نگرانی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال نے نوازشریف کی رہائش گاہ پر انتہائی نگہداشت یونٹ قائم کیا، آئی سی یو یونٹ میں ڈاکٹرز 24 گھنٹے موجود رہیں گے۔

    گزشتہ روز نواز شریف کو ان کی رضامندی سے ڈسچارج کیا گیا تھا اور انہیں شریف میڈیکل سٹی منتقل کیا جانا تھا تاہم ان کی صاحبزادی کے روبکار جاری نہ ہونے کی وجہ سے سابق وزیراعظم نے اپنی روانگی میں تاخیر کا فیصلہ کیا تھا تاکہ دونوں ایک ساتھ ہسپتال سے جاسکیں۔

    نواز شریف کی خرابی صحت
    خیال رہے کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کی حراست سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

    مسلم لیگ (ن) کے قائد کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک کم ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی گئی تھیں۔

    سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز کر رہے ہیں جبکہ اس بورڈ میں سینئر میڈیکل اسپیشلسٹ گیسٹروم انٹرولوجسٹ، انیستھیزیا اور فزیشن بھی شامل ہیں۔

    بعد ازاں اس میڈیکل بورڈ میں نواز شریف کے ذاتی معالج سمیت مزید دیگر ڈاکٹرز کو بھی شامل کرلیا گیا تھا۔

    طبیعت کی ناسازی کو دیکھتے ہوئے نواز شریف کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی ضمانت کے لیے 2 درخواستیں دائر کی تھیں۔

    لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی نیب حراست سے رہائی سے متعلق تھی، جس پر 25 اکتوبر کو سماعت کی تھی اور اس کیس میں ایک کروڑ روپے کے 2 مچلکوں کے عوض نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔

    بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کردی تھی۔

    بیرون ملک علاج سے متعلق قیاس آرائیاں
    قبل ازیں ماہرین پر مشتمل ٹیم اب تک کوششوں میں مصروف ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے پلیٹلیٹس میں اچانک کمی کی وجہ جان سکیں۔

    تاہم ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں جارہی ہیں کہ نواز شریف کو علاج کے لیے بیرونِ ملک لے جایا جاسکتا ہے جہاں ان کا مزید بہتر علاج ہوسکے۔

    دوسری جانب لیگی رہنماؤں نے یہ کہتے ہوئے اس امکان کو مسترد کردیا تھا کہ ان کی صحت کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے یہ ممکن نہیں۔

    26 اکتوبر کو وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا تھا کہ سابق وزاعظم نواز شریف کو انجائنا کی تکلیف ہوئی اور معمولی ہارٹ اٹیک آیا لیکن بروقت طبی سہولت کی وجہ سے دل کا کوئی حصہ متاثرہ نہیں ہوا۔

    یہ بات بھی مدنظر رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو انہیں علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی تھی۔

    وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو خصوصی طور پر ہدایات جاری کی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائی
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    ڈیل ہو گئی ہے۔۔۔


    نواز شریف کی طبیعت بہت خراب ہے، علاج کے لیے فوراً باہر بھیجنا چاہیے، مریم نواز
    ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے
    احتساب عدالت کا نواز شریف اور مریم نواز کو 22 نومبر کو پیش ہونے کا حکم۔ فوٹو : فائل


    لاہور: مریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے، انہیں علاج کے لیے فوراً باہر بھیجنا چاہیے۔

    عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھے نواز شریف کی صحت کی بہت فکر رہتی ہے، نواز شریف کی طبیعت تشویشناک ہے، انہیں علاج کے لیے فوراً باہر بھیجنا چاہیے اور جہاں علاج ممکن ہو وہاں جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں ابھی فوری سفر نہیں کرسکتی کیوں کہ میرا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے، اگر نواز شریف علاج کےلیے بیرون ملک جاتے ہیں تو ان کے ساتھ جانا مجبوری ہے تاہم بڑا مشکل ہوگا کہ نواز شریف علاج کے لیے باہر چلے جائیں اور میں نہ جا سکوں۔

    مریم نواز نے کہا کہ سیاست پوری زندگی چلتی رہے گی لیکن والدین دوبارہ نہیں ملتے، ایک سال پہلے اپنی ماں کھوچکی ہوں اور اب میری تمام تر توجہ نواز شریف کی طبیعت پر ہے، میں 24 گھنٹے نواز شریف کے پاس رہتی ہوں، انہیں ملازموں اور نرسوں پر نہیں چھوڑ سکتی، نواز شریف کے معاملات خود دیکھتی ہوں، آج بھی بڑی مشکل سے عدالت آئی ہوں، مجھے اس وقت صرف نواز شریف کی زندگی اور صحت کی فکر ہے۔

    اس سے قبل لاہور کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر مریم نواز عدالت میں پیش ہوئیں تاہم نواز شریف کے وکلاء کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست جمع کرائی گئی جس کو عدالت نے منظور کرلیا جب کہ یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈ میں 22 نومبر تک توسیع کردی۔ احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف، صاحب زادی مریم نواز اور یوسف عباس کو 22 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا۔
     
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ میں درخواست جمع
    ویب ڈیسک ایک گھنٹہ پہلے
    [​IMG]
    درخواست بیماری اور ملک سے باہرعلاج کرانے کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ فوٹو: فائل


    اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ میں درخواست جمع کرادی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ میں درخواست جمع کرادی گئی ہے، درخواست بیماری اور ملک سے باہرعلاج کرانے کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواست شہبازشریف کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف علاج کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں۔

    دوسری جانب ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست سیکرٹری داخلہ کو موصول ہوگئی ہے جس کے بعد وزارت داخلہ حکام درخواست کا قانونی پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں برس اگست میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی روشنی میں وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحب زادی مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تھا۔
     
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ حکومت خود کرے، نیب
    ویب ڈیسک پير 11 نومبر 2019
    [​IMG]
    وزیرقانون درخواست کا جائزہ لینے کے بعد ای سی ایل سے نام نکالنے کا فیصلہ کریں گے، ذرائع


    اسلام آباد : نیب نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق وزارت داخلہ کو جواب بھیج دیا۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق وزارت داخلہ کو جواب بھیج دیا جس میں کہا گیا کہ میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لے لیا ہے، وفاقی حکومت کو سفارش کرتے ہیں کہ فیصلہ خود کرے۔

    نیب کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت صوابدیدی اختیار کے تحت نوازشریف کی درخواست پر فیصلہ کرے، مختلف کیسز میں وفاقی حکومت پہلے بھی صوابدیدی اختیار استعمال کرچکی ہے۔

    اس خبر کو بھی پڑھیں؛ متعدد وزراء کی نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت

    اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے وزارت داخلہ میں درخواست دی گئی تھی اور وزارت داخلہ نے معاملہ ایک خط کے ذریعے نیب کے پاس بھیج دیا تھا تاہم اب نیب کے جواب کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر وزارت داخلہ کے پاس آگیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق وزارت داخلہ نے اپنے کندھوں سے ذمہ داری ہٹاتے ہوئے یہ معاملہ ذیلی کمیٹی کے سپرد کردیا، ذیلی کمیٹی کے سربراہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ہیں، فروغ نسیم وزارت داخلہ کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کریں گے۔

    دوسری جانب شیڈول کے مطابق بدھ کو ہونے والا کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس اب کل وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی زیر صدارت ہوگا، اجلاس میں وزارت داخلہ حکام بھی شرکت کریں گے اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی اپنی سفارش وفاقی کابینہ کے سامنے رکھے گی۔
     

اس صفحے کی تشہیر