نعتِ رسولﷺ برائے اصلاح

الف عین
@خلیل الر حمن،یاسر شاہ،فلسفی،عظیم اور دیگر
--------------
افاعیلمفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
---------------
کبھی وہ دن بھی آئے گا درِ آقا پہ جاؤں گا
غموں کی داستاں اپنی کبھی میں بھی سناؤں گا
--------------------
جھکا ہو گا مرا سر بھی گناہوں کی ندامت سے
جھکی ہوں گی مری نظریں اُنہیں کیسے اُٹھاؤں گا
---------------
وہاں پر جو بھی جاتا ہے بنا پائے نہیں آیا
درِ آقا سے کیسے ہاتھ خالی لے کے آؤں گا
---------------
وہاں سے بھیک ملتی ہے سبھی مجھ سے گداؤں کو
مری جھولی جو خالی ہے وہاں سے بھر کے لاؤں گا
-------------------
ندامت ہے خطاؤں کی مگر اُن سے محبّت ہے
یہی میرا تو ساماں ہے جسے محشر میں لاؤں گا
-----------------
زمانے سے چھپایا ہے سبھی اپنے گناہوں کو
نبی کے سامنے جا کر انہیں کیسے چھپاؤں گا
----------
شفاعت کی ملے گی بھیک جو میری ضرورت ہے
جھکے سر سے وہاں جا کر میں جب آنسو بہاؤں گا
-------------
جو آئے موت ارشد کو کبھی جا کر مدینے میں
خدا کر دے اگر ایسا مرادیں دل کی پاؤں گا
-------------
 

الف عین

لائبریرین
ماشاء اللہ اس نعت میں بہت کم اغلاط ہیں
کبھی وہ دن بھی آئے گا درِ آقا پہ جاؤں گا
غموں کی داستاں اپنی کبھی میں بھی سناؤں گا
-------------------- کبھی میں بھی؟ اور کون کون سنائے گا؟ الفاظ بدلو مثلاً
کہانی اپنے درد و غم کی میں ان کو......

جھکا ہو گا مرا سر بھی گناہوں کی ندامت سے
جھکی ہوں گی مری نظریں اُنہیں کیسے اُٹھاؤں گا
--------------- شاید
مرا سر تو جھکا ہو گا.....
بہتر ہو گا، اس میں 'تو' کی طوالت بری نہیں

وہاں پر جو بھی جاتا ہے بنا پائے نہیں آیا
درِ آقا سے کیسے ہاتھ خالی لے کے آؤں گا
--------------- درست

وہاں سے بھیک ملتی ہے سبھی مجھ سے گداؤں کو
مری جھولی جو خالی ہے وہاں سے بھر کے لاؤں گا
------------------- دوسرا مصرع یوں ہو تو؟
وہیں سے میں بھی اپنی خالی جھولی بھر.....

ندامت ہے خطاؤں کی مگر اُن سے محبّت ہے
یہی میرا تو ساماں ہے جسے محشر میں لاؤں گا
----------------- پہلے مصرع میں دو باتیں کہی گئی ہیں اس لیے مگر کا استعمال درست نہیں لگتا۔ یوں کہا جائے
مجھے ان سے ہے الفت بھی، گناہوں کی ندامت بھی
یہی بس میرا......

زمانے سے چھپایا ہے سبھی اپنے گناہوں کو
نبی کے سامنے جا کر انہیں کیسے چھپاؤں گا
---------- نبی عالم الغیب تو نہیں جو آپ کے گناہوں سے واقف ہوں؟

شفاعت کی ملے گی بھیک جو میری ضرورت ہے
جھکے سر سے وہاں جا کر میں جب آنسو بہاؤں گا
------------- شفاعت کی ملے گی بھیک یہ امید ہے مجھ کو
بہتر رہے گا

جو آئے موت ارشد کو کبھی جا کر مدینے میں
خدا کر دے اگر ایسا مرادیں دل کی پاؤں گا
------------ درست
 
الف عین
درستگی کے بعد دوبارا پیشِ خدمت
------------------
کبھی وہ دن بھی آئے گا درِ آقا پہ جاؤں گا
کہانی اپنے درد و غم کی میں ان کو سناؤں گا
--------------
مرا سر تو جھکا ہو گا گناہوں کی ندامت سے
جھکی ہوں گی مری نظریں اُنہیں کیسے اُٹھاؤں گا
----------------
وہاں پر جو بھی جاتا ہے بنا پائے نہیں آیا
درِ آقا سے کیسے ہاتھ خالی لے کے آؤں گا
---------------
وہاں سے بھیک ملتی ہے سبھی مجھ سے گداؤں کو
وہیں سے میں بھی اپنی خالی جھولی بھر کے لاؤں گا
-------------------
مجھے ان سے ہے الفت بھی، گناہوں کی ندامت بھی
یہی بس میرا ساماں ہے جسے محشر میں لاؤں گا
----------------
زمانے سے چھپایا ہے سبھی اپنے گناہوں کو
نبی کے در پہ جا کر میں اُنہیں سب کچھ بتاؤں گا
----------------
شفاعت کی ملے گی بھیک یہ امید ہے مجھ کو
جھکے سر سے وہاں جا کر میں جب آنسو بہاؤں گا
---------------
جو آئے موت ارشد کو کبھی جا کر مدینے میں
خدا کر دے اگر ایسا مرادیں دل کی پاؤں گا
------------
 
Top