نظم جوگی از خوشی محمد ناظر درکار ہے

فرخ منظور

لائبریرین
مجھے ایک نظم 'جوگی' از خوشی محمد ناظر درکار ہے - جو کچھ یوں شروع ہوتی ہے -


کل صبح کے مطلع تاباں سے جب عالم بقعۂ نور ہوا
سب چاند ستارے ماند ہوئے خورشیدکا نور ظہور ہوا
ایسے میں اک پہاڑی پر جا نکلا ناظر دیوانہ
 

امر شہزاد

محفلین
جوگی

کل صبح کے مطلع تاباں سے جب عالم بقعۂ نور ہوا
سب چاند ستارے ماند ہوئے خورشیدکا نور ظہور ہوا

مستانہ ہوائے گلشن تھی جانانہ ادائے گلبن تھی
ہر وادی، وادیء ایمن تھی ہر کوہ پہ جلوہء طور ہوا

جب بادِ صبا مضراب بنی، ہر شاخِ نہال رباب بنی
شمشاد و چنار ستار ہوا، سرو و سمن طنبور ہوا

سب طائر مل کر گانے لگے، عرفان کی تانیں اڑانے لگے
اشجار بھی وجد میں آنے لگے، گلزار بھی بزم سرور ہوا

سبزے نے بساط بچھائی تھی اور بزم نشاط سجائی تھی
بن میں گلشن میں آنگن میں ہر فرش سنجاب و سمور ہوا

تھا دلکش منظر باغِ جہاں، اور چال صبا کی مستانہ
اس حال میں اک پہاڑی پر جا نکلا ناظر دیوانہ


ابھی اتنی ہی۔ باقی میں کچھ دیر تک پوسٹ کر دیتا ہوں۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت بہت شکریہ امر شہزاد صاحب - :) امید ہے بقیہ نظم بھی جلد ہی پوسٹ کردیں گے - مزید شکریہ بقیہ نظم پوسٹ کرنے پر :)
 

امر شہزاد

محفلین
چیڑوں نے جھنڈے گاڑے تھے پربت پر چھاؤنی چھائ تھی
تھے خیمے ڈیرے بادل کے، کہرے نے قنات لگائی تھی

یہاں برف کے تودے گلتے تھے، چاندی کے فوارے چلتے تھے
چشمے سیماب اگلتےتھے نالوں نے دھوم مچائی تھی

اک مست قلندر جوگی نےپربت پر ڈیرے ڈالے تھے
تھی راکھ جٹا میں جوگی کی اور انگ بھبھوت رمائی تھی

تھا راکھ کاجوگی کا بستر، اور راکھ کا پیراہن تن پر
تھی ایک لنگوٹی زیب کمر، جو گھٹنوں تک لٹکائی تھی

سب خلقِ خدا سے بیگانہ، وہ مست قلندر دیوانہ
بیٹھا تھا جوگی مستانہ، آنکھوں میں مستی چھائی تھی

جوگی سے آنکھیں چار ہوئیں اور جھک کر ہم نے سلام کیا
تیکھی چتون سے جوگی نے تب ناظر سے یہ کلام کیا

کیوں بابا ناحق جوگی کو تم کس لیے آ کے ستاتے ہو
ہیں پنکھ پکھیرو بن باسی تم جال میں ان کو پھنساتے ہو

کوئی جھگڑا دال چپاتی کا، کوئی دعوٰی گھوڑے ہاتھی
کوئی شکوہ سنگی ساتھی کا،تم ہم کو سنانے آتے ہو

ہم حرص و ہوا کو چھوڑ چکے، اس نگری سے منہ موڑ چکے
ہم جو زنجیریں توڑ چکے تم لا کے وہی پہناتے ہو
 

محمد وارث

لائبریرین
یہ ایک طویل نظم ہے اور دو حصوں پر مشتمل ہے، ہمارے نصاب میں اس کے چند اشعار ہی پڑھائے گئے تھے۔

فرخ صاحب، مزے کی بات یہ ہے کہ پرسوں رات میں اس نطم کو ٹائپ کر رہا تھا اپنے بلاگ اور محفل کیلیئے اور کل آپ نے پیغام ڈال دیا۔ :)

میرے پاس خوشی محمد ناظر کا دیوان "نغمۂ فردوس" ہے بلکہ میری نایاب کتب میں سے ہے :) میں ایک حصہ لکھ چکا ہوں انشاءاللہ جیسے ہی نظم مکمل ہوتی ہے پوسٹ کرونگا۔
 
Top