نذرِ خسرو

سیدہ شگفتہ نے 'امیرخسرو' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 3, 2006

  1. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,392


    نذرِ خسرو

    کلام : سحر انصاری



     
  2. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,392



    خسروِ ملکِ ادب ، طوطیِ گلزارِ سخن
    زیب دیتے ہیں تجھے حسنِ معانی کے خطاب
    ایک انسان میں اور اتنے ہنر ہوں یکجا
    رشک کرتے ہیں تیری ذات پہ تاریخ کے باب

    گیت سنگیت کے سمراٹ ، سخن کے استاد
    تجھ سے تہذیب نے اک رنگ نیا پایا ہے
    تیری شیریں سخنی سے ، کہ ہے آپ اپنی مثال
    نغمہ زیست نے آہنگ نیا پایا ہے

    نغمہ و سیف و قلم تیرے نگینِ اکلیل
    جن سے رہتی ہے جبیں شام و سحر کی روشن
    دیدہ ور ، مہر نظر ، حسن نگر ، نکتہ شناس
    ہفت اقلیم کا دل ہے ترے فن کا مسکن

    کوئی ہمسر نہ ہوا تیرے کمالِ فن کا
    تیرے افکار جُدا ہیں ، تیرے آثار جُدا
    تیری ابیات دل و ذہن کا سرمایہ ہیں
    سارے عالم سے تیری کاوشِ اظہار جُدا

    ابرمی بارد و من می شوم از یار جُدا
    چُوں کنم دل بہ چنیں وقت ز دلدار جُدا
    ابرِ باران و من و یار ستادہ بہ وداع
    من جُدا گریہ کناں ، ابر جُدا ، یار جُدا



    -×--------×-


     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    خسرو بلا شبہ اپنے عہد کے نابغہ تھے بلکہ بعد میں بھی ان جیسی
    با ہنرہستیاں خال خال ہی نظر آتی ہیں
     

اس صفحے کی تشہیر