نثری نظمیں : ’’ بلاعنوان ‘‘ ۔۔۔ م۔م۔مغل ؔ

کوئی ایسی جامع تعریف بتا دیں ہمیں جس سے اقوال زریں/جملوں اور نثری نظم میں تفریق ممکن ہو سکے

محفل میں کچھ دوستوں نے نثری نظمیں پیش کی تھیں،
جس کے متعلق میری رائے یہ تھی کہ یہ بہرحال نثری نظم نہیں ہو سکتی کیوں کہ نثری نظم کی جوتعریف میرے ذہن میں ہے یہ اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔

پھر سوچا دیکھتے ہیں اور لوگ نثری نظم کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ اسی غرض سے محفل میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں تک آگیا۔ یہاں فاتح بھائی، کا یہی سوال دیکھ کر احساس ہوا کہ شاید اب مجھے کچھ مزید معلومات ہو سکیں ۔

اس لیے اس سلسلے کو دوبارہ تازہ کر رہا ہوں
 
بھائی، حق تو یہ ہے کہ محمد خلیل الرحمٰن صاحب کا یہ فقرہ ان سے زیادہ مجھ پہ صادق آتا ہے کہ
گو خود شاعری اور اِس کی نازک مزاجی ہم نو واردانِ بساطِ ہوائے دِل کے لیے ادرک اور زعفران کے مترادف ہی ہے ، چہ جائیکہ اردو نظم کے نئے رجحانات۔
میں ٹھہرا من چاہی روایات کا پابند۔ غزل مجھے بھاتی ہے۔ سو اس کی رمزیں پہچاننے کی سعی رہی۔ نظم میں چاہے انیسؔ کے پردرد مرثیے ہی کیوں نہ ہوں، جن کی تاثیر کا قائل نہ ہونا گویا ایک قسم کا ذوقی کفر ہے، الا ماشاءاللہ مجھے کچھ پسند نہیں آتا۔ اس لیے سمجھنے کا تردد بھی کچھ خاص نہیں کیا۔
ایک تاثر البتہ ہے۔ معلوم نہیں اسے نثری نظم کی تعریف کہنا چاہیے یا آدرش۔ لیکن ہے یوں کہ نثری نظم درحقیقت دو پہلو رکھتی ہے۔ ایک تو یہ کہ اسے نظم ہونا چاہیے۔ یعنی نظم کے تمام لوازمات بشمول شعریت، غنائیت، معنویت، کلیت وغیرہ اس میں ہوں۔ دوسرا پہلو استثنا کا ہے کہ نظم میں جو وزن کی قید ہے اس سے مبرا ہو۔
اب دیکھا جائے تو نثری نظم کے مصاریع یا سطور کو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ انھیں اگر انھیں قطع کیے بغیر لگاتار لکھا یا پڑھا جائے تو نثرپارہ معلوم ہو۔ بلکہ ہر مصرع کی، جیسا کہ نظم کا کلاسیکی دستور رہا ہے، ایک جداگانہ حیثیت بھی ضروری ہے۔ یہ جداگانہ حیثیت معنوی اور لفظی دونوں پہلوؤں سے ہونی چاہیے۔ لفظی حیثیت میں شعریت اور غنائیت کا بڑا تعلق لفظوں کی ترتیب سے ہے۔ یہ غنائیت بسا اوقات نثر نگاروں کے ہاں بھی غیرشعوری طور پر پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن فرق پھر وہی ہے کہ نثر نگار کے جملے اپنی الگ لفظی اور معنوی حیثیت میں مصرعوں کے مقابل نہیں رکھے جا سکتے۔
آزاد نظم چونکہ ہمارے ہاں انگریزی ادبیات کے تتبع میں شروع ہوئی اس لیے اس میں الفاظ کے اس الٹ پھیر سے کام کم لیا گیا جو عروضی ضروریات کے باعث اردو فارسی شاعری میں کم و بیش لازم تھا۔ نثری نظم آزاد نظم ہی کے نقوشِ قدم پہ رواں ہوئی۔ لہٰذا جنھیں مصرعے ہونا چاہیے تھا وہ واقعی محض جملے بن کر رہ گئے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ یورپی شاعری میں ترتیبِ نحوی سے انحراف ہماری روایت کے مقابلے میں کالمعدوم ہے۔ شعریت کے فقدان نے اسی طرح "اقوالِ زریں" کا التباس پیدا کیا۔
منٹو نے اپنے مضامین میں کہیں "ادبِ لطیف" کی بھد اڑاتے ہوئے کچھ شذرات پیش کیے ہیں۔ یاد ہوتے تو یہاں لکھتا۔ ان سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ غنائیت اور شعریت بہرحال نثر میں ہو سکتی ہے۔ معنویت تو ہے سو ہے۔ باقی رہ گئی نظم کی جداگانہ حیثیت سو اس کے لیے وہی قاعدہ شاید ہو جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔
نثری نظم کی علامتی حیثیت کے پیشِ نظر اس کی قلبِ ماہیئت کا بھر پور اندیشہ ہے۔
علامتیت نثری نظم کے عناصرِ ترکیبی میں شامل نہیں۔ نثری نظم سے اس کا تعلق فی نفسہ اتنا ہی ہے جتنا افسانے سے۔ فن کار کی افتادِ طبع اور رجحانات موافق ہوں تو علامتیت ظہور کر سکتی ہے ورنہ کوئی ایسا لزوم میں نہیں دیکھتا۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین

بہت سے دوست "نثری نظم" کو شاعری سمجھتے ہیں اور بہت سے ثقہ اور سکہ بند شاعر بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ خاکسار ایسا نہیں سمجھتا، نثری نظم اور منثور عبارت میں صرف "انٹر" اور "لائن بریک" کا فرق ہے۔ نثری نظم ہی کہنی ہے تو بہتر ہے مسجع و مقفع عبارت لکھ لی جائے۔ جس چیز کے ساتھ لفظِ "نظم" جڑ جائے گا پھر اُس کو کسی نظم میں رکھنا ہوگا۔ لیکن نثری نظم میں ایسا نہیں ہے سو نظم بھی نہیں ہے، منظوم بھی نہیں ہے بلکہ منثور ہے۔
 
میری گو کوئی اوقات نہیں کہ کچھ کہوں سو یہی کہوں گا کہ میری رائے بھی حضرتِ فاتح اور حضرتِ وارث سے اتفاق میں ہے۔ یعنی کہ ہم "نثری نظم" کے قائلین میں سے نہیں ہیں۔
تاہم اس معاملے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ بات چل نکلی ہے تو کہہ چلوں۔ اردو میں یہ مسئلہ بہت سنگین اختلاف کی صورت میں ابھرا ہے۔ اور اس کی جڑ اس ناقص و مجہول کے نزدیک وہ لفظی محال ہے جو نثر اور نظم کے تفاوت سے پیدا ہو رہا ہے۔ عام حالات میں ہم یہ کہہ کر جان چھڑا سکتے ہیں کہ جو نظم ہے وہ نثر نہیں۔ اور جو نثر ہے وہ نظم نہیں۔ چنانچہ نثری نظم سی کوئی صنف ممکن نہیں ہے۔ درحقیقت یہ اختلاف شاعری کو "نظم" کہنے سے وارد ہو رہا ہے۔ اگر اسے نظم کہنے کی بجائے صرف "شاعری کہنے پر اکتفا کر لیا جائے تو شاید کوئی حل نکل سکے۔ کیونکہ نظم اپنے لفظی اور اصطلاحی مفہوم ہی میں "نظم" کی طالب ہے۔ جبکہ لفظ شاعری میں یہ تفاوت جاتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے "غیر منظوم" شاعری انگریزی اور جرمن لٹریچر میں وہ طوفان برپا نہ کرسکی جو یہاں ہوا ہے۔
تو ایک تو یہ لفظی نزاع کا مسئلہ ہے۔ دوسری اور غیر جانب دارانہ بات یہ ہے کہ شعر اپنی ہیئت میں وزن یا بحر کے ساتھ لازم چیز نہیں ہے۔ شعر ان سے الگ ایک جمالیاتی شئے ہے۔ اور بحر و وزن جمالیات کے دوسرے پہلو سے خاص ہے۔ یہ موسیقیت کا پہلو ہے۔ یعنی جمالیات کے اعتبار سے شعر اور موسیقیت دو مختلف النوع اشیاء ہیں جو آج تک اردو نظم میں مجموعی اور متحد حیثیت رکھتی ہیں۔
اب اس سے آگے آئیے تو معلوم ہوتا ہے کہ نثر اور شعر میں جو فرق ہے وہ بھی جمالیات سے علاقہ رکھتا ہے۔ یعنی آپ ہر بول چال یا لکھائی میں آنے والی عبارت کو نثر کہہ سکتے ہیں۔ لیکن شعر کے لیے تخیل کی ندرت، معنوی بلندی، بلاغت و فصاحت، شعلہ آشامی و شعلہ افروزی بمع ہزار نیرنگ سازی و لفظی تراش خراد وعلی ہذا القیاس ضروری ہے۔
اب یہاں ایک اور مسئلہ بھی ابھرتا ہے۔ یعنی جو کچھ آپ شعر کی تعریف کے لیے شعری لازمے گِنواتے ہیں وہ یہاں کے مضمون اور خطوط نگاروں نے نثر کی صورت میں پیش کر ڈالے ہیں۔ جسے نثرِ مسجع کہیے گا۔ آزادؔ وغیرھم کی مثال سامنے ہے۔ انہوں نے شاعری کے تمام لازمے نثر میں ڈال دیے۔ لیکن وہ پھر بھی نثر اسی لیے رہی کہ ہم شعر کو بغیر وزن و بحر کے شعر ہی تسلیم نہیں کرسکے تھے۔ جبکہ دوسری زبانوں میں جہاں بحر کا التزام شعر پر نہیں رکھا گیا، وہاں ایسی شاعری بھی ممکن نہیں تھی جیسی یہاں نثر لکھی گئی اور "نثر" کہہ کر ٹھکرا بھی دی گئی۔ کُل ملا کر وہاں اور یہاں میں فرق یہ ہوا ہے کہ وہاں شاعری کی دو اور نثر کی ایک سکہ بند اقسام وجود میں آئیں۔ جب کہ یہاں نثر کی تو دو اقسام ہو گئی ہیں۔ لیکن شاعری پر ابھی تک لے دے جاری ہے۔
آخری مرحلہ جو فیصلہ کُن ہے وہ یہ کہ اردو کو اردو رہنے دیا جائے۔ اور وہ حدِ فاصل بتائی جائے جو اردو کی نثری شاعری کو ہماری نثرِ مسجع سے الگ کر سکے۔ اس صورت میں تیسری اور دوسری دنیا کی تمام بحثوں کو غیر متعلقہ قرار دے کر اپنی حدود میں رہ کر اپنے ادبی مزاج کی پیروی کرتے ہوئے مکالمہ کیا جائے۔ یوں افہام و تفہیم کے بہت سے راستے میسر آتے ہیں۔

گستاخی معاف۔
بہت آداب۔
 
میری گو کوئی اوقات نہیں کہ کچھ کہوں سو یہی کہوں گا کہ میری رائے بھی حضرتِ فاتح اور حضرتِ وارث سے اتفاق میں ہے۔ یعنی کہ ہم "نثری نظم" کے قائلین میں سے نہیں ہیں۔
تاہم اس معاملے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ بات چل نکلی ہے تو کہہ چلوں۔ اردو میں یہ مسئلہ بہت سنگین اختلاف کی صورت میں ابھرا ہے۔ اور اس کی جڑ اس ناقص و مجہول کے نزدیک وہ لفظی محال ہے جو نثر اور نظم کے تفاوت سے پیدا ہو رہا ہے۔ عام حالات میں ہم یہ کہہ کر جان چھڑا سکتے ہیں کہ جو نظم ہے وہ نثر نہیں۔ اور جو نثر ہے وہ نظم نہیں۔ چنانچہ نثری نظم سی کوئی صنف ممکن نہیں ہے۔ درحقیقت یہ اختلاف شاعری کو "نظم" کہنے سے وارد ہو رہا ہے۔ اگر اسے نظم کہنے کی بجائے صرف "شاعری کہنے پر اکتفا کر لیا جائے تو شاید کوئی حل نکل سکے۔ کیونکہ نظم اپنے لفظی اور اصطلاحی مفہوم ہی میں "نظم" کی طالب ہے۔ جبکہ لفظ شاعری میں یہ تفاوت جاتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے "غیر منظوم" شاعری انگریزی اور جرمن لٹریچر میں وہ طوفان برپا نہ کرسکی جو یہاں ہوا ہے۔
تو ایک تو یہ لفظی نزاع کا مسئلہ ہے۔ دوسری اور غیر جانب دارانہ بات یہ ہے کہ شعر اپنی ہیئت میں وزن یا بحر کے ساتھ لازم چیز نہیں ہے۔ شعر ان سے الگ ایک جمالیاتی شئے ہے۔ اور بحر و وزن جمالیات کے دوسرے پہلو سے خاص ہے۔ یہ موسیقیت کا پہلو ہے۔ یعنی جمالیات کے اعتبار سے شعر اور موسیقیت دو مختلف النوع اشیاء ہیں جو آج تک اردو نظم میں مجموعی اور متحد حیثیت رکھتی ہیں۔
اب اس سے آگے آئیے تو معلوم ہوتا ہے کہ نثر اور شعر میں جو فرق ہے وہ بھی جمالیات سے علاقہ رکھتا ہے۔ یعنی آپ ہر بول چال یا لکھائی میں آنے والی عبارت کو نثر کہہ سکتے ہیں۔ لیکن شعر کے لیے تخیل کی ندرت، معنوی بلندی، بلاغت و فصاحت، شعلہ آشامی و شعلہ افروزی بمع ہزار نیرنگ سازی و لفظی تراش خراد وعلی ہذا القیاس ضروری ہے۔
اب یہاں ایک اور مسئلہ بھی ابھرتا ہے۔ یعنی جو کچھ آپ شعر کی تعریف کے لیے شعری لازمے گِنواتے ہیں وہ یہاں کے مضمون اور خطوط نگاروں نے نثر کی صورت میں پیش کر ڈالے ہیں۔ جسے نثرِ مسجع کہیے گا۔ آزادؔ وغیرھم کی مثال سامنے ہے۔ انہوں نے شاعری کے تمام لازمے نثر میں ڈال دیے۔ لیکن وہ پھر بھی نثر اسی لیے رہی کہ ہم شعر کو بغیر وزن و بحر کے شعر ہی تسلیم نہیں کرسکے تھے۔ جبکہ دوسری زبانوں میں جہاں بحر کا التزام شعر پر نہیں رکھا گیا، وہاں ایسی شاعری بھی ممکن نہیں تھی جیسی یہاں نثر لکھی گئی اور "نثر" کہہ کر ٹھکرا بھی دی گئی۔ کُل ملا کر وہاں اور یہاں میں فرق یہ ہوا ہے کہ وہاں شاعری کی دو اور نثر کی ایک سکہ بند اقسام وجود میں آئیں۔ جب کہ یہاں نثر کی تو دو اقسام ہو گئی ہیں۔ لیکن شاعری پر ابھی تک لے دے جاری ہے۔
آخری مرحلہ جو فیصلہ کُن ہے وہ یہ کہ اردو کو اردو رہنے دیا جائے۔ اور وہ حدِ فاصل بتائی جائے جو اردو کی نثری شاعری کو ہماری نثرِ مسجع سے الگ کر سکے۔ اس صورت میں تیسری اور دوسری دنیا کی تمام بحثوں کو غیر متعلقہ قرار دے کر اپنی حدود میں رہ کر اپنے ادبی مزاج کی پیروی کرتے ہوئے مکالمہ کیا جائے۔ یوں افہام و تفہیم کے بہت سے راستے میسر آتے ہیں۔

گستاخی معاف۔
بہت آداب۔
میری گو کوئی اوقات نہیں کہ کچھ کہوں سو یہی کہوں گا کہ میری رائے بھی حضرتِ فاتح اور حضرتِ وارث سے اتفاق میں ہے۔ یعنی کہ ہم "نثری نظم" کے قائلین میں سے نہیں ہیں۔
تاہم اس معاملے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ بات چل نکلی ہے تو کہہ چلوں۔ اردو میں یہ مسئلہ بہت سنگین اختلاف کی صورت میں ابھرا ہے۔ اور اس کی جڑ اس ناقص و مجہول کے نزدیک وہ لفظی محال ہے جو نثر اور نظم کے تفاوت سے پیدا ہو رہا ہے۔ عام حالات میں ہم یہ کہہ کر جان چھڑا سکتے ہیں کہ جو نظم ہے وہ نثر نہیں۔ اور جو نثر ہے وہ نظم نہیں۔ چنانچہ نثری نظم سی کوئی صنف ممکن نہیں ہے۔ درحقیقت یہ اختلاف شاعری کو "نظم" کہنے سے وارد ہو رہا ہے۔ اگر اسے نظم کہنے کی بجائے صرف "شاعری کہنے پر اکتفا کر لیا جائے تو شاید کوئی حل نکل سکے۔ کیونکہ نظم اپنے لفظی اور اصطلاحی مفہوم ہی میں "نظم" کی طالب ہے۔ جبکہ لفظ شاعری میں یہ تفاوت جاتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے "غیر منظوم" شاعری انگریزی اور جرمن لٹریچر میں وہ طوفان برپا نہ کرسکی جو یہاں ہوا ہے۔
تو ایک تو یہ لفظی نزاع کا مسئلہ ہے۔ دوسری اور غیر جانب دارانہ بات یہ ہے کہ شعر اپنی ہیئت میں وزن یا بحر کے ساتھ لازم چیز نہیں ہے۔ شعر ان سے الگ ایک جمالیاتی شئے ہے۔ اور بحر و وزن جمالیات کے دوسرے پہلو سے خاص ہے۔ یہ موسیقیت کا پہلو ہے۔ یعنی جمالیات کے اعتبار سے شعر اور موسیقیت دو مختلف النوع اشیاء ہیں جو آج تک اردو نظم میں مجموعی اور متحد حیثیت رکھتی ہیں۔
اب اس سے آگے آئیے تو معلوم ہوتا ہے کہ نثر اور شعر میں جو فرق ہے وہ بھی جمالیات سے علاقہ رکھتا ہے۔ یعنی آپ ہر بول چال یا لکھائی میں آنے والی عبارت کو نثر کہہ سکتے ہیں۔ لیکن شعر کے لیے تخیل کی ندرت، معنوی بلندی، بلاغت و فصاحت، شعلہ آشامی و شعلہ افروزی بمع ہزار نیرنگ سازی و لفظی تراش خراد وعلی ہذا القیاس ضروری ہے۔
اب یہاں ایک اور مسئلہ بھی ابھرتا ہے۔ یعنی جو کچھ آپ شعر کی تعریف کے لیے شعری لازمے گِنواتے ہیں وہ یہاں کے مضمون اور خطوط نگاروں نے نثر کی صورت میں پیش کر ڈالے ہیں۔ جسے نثرِ مسجع کہیے گا۔ آزادؔ وغیرھم کی مثال سامنے ہے۔ انہوں نے شاعری کے تمام لازمے نثر میں ڈال دیے۔ لیکن وہ پھر بھی نثر اسی لیے رہی کہ ہم شعر کو بغیر وزن و بحر کے شعر ہی تسلیم نہیں کرسکے تھے۔ جبکہ دوسری زبانوں میں جہاں بحر کا التزام شعر پر نہیں رکھا گیا، وہاں ایسی شاعری بھی ممکن نہیں تھی جیسی یہاں نثر لکھی گئی اور "نثر" کہہ کر ٹھکرا بھی دی گئی۔ کُل ملا کر وہاں اور یہاں میں فرق یہ ہوا ہے کہ وہاں شاعری کی دو اور نثر کی ایک سکہ بند اقسام وجود میں آئیں۔ جب کہ یہاں نثر کی تو دو اقسام ہو گئی ہیں۔ لیکن شاعری پر ابھی تک لے دے جاری ہے۔
آخری مرحلہ جو فیصلہ کُن ہے وہ یہ کہ اردو کو اردو رہنے دیا جائے۔ اور وہ حدِ فاصل بتائی جائے جو اردو کی نثری شاعری کو ہماری نثرِ مسجع سے الگ کر سکے۔ اس صورت میں تیسری اور دوسری دنیا کی تمام بحثوں کو غیر متعلقہ قرار دے کر اپنی حدود میں رہ کر اپنے ادبی مزاج کی پیروی کرتے ہوئے مکالمہ کیا جائے۔ یوں افہام و تفہیم کے بہت سے راستے میسر آتے ہیں۔

گستاخی معاف۔
بہت آداب۔


جناب، پہلی بات تو یہ کہ نثری نظم بھی نظم ہی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں، اس موضوع پر بہت سارے مباحث کے بعد یہ بات تسلیم کی جاچکی ہے۔ دوسرا یہ کہ غزل کی نسبت نا صرف یہ کہ یہ با آسانی کسی بھی زبان میں ترجمہ ہوسکتی ہے بلکہ اپنے کینوس میں غزل سے بہت بلند ہے۔ آپ اردو، عربی فارسی سے نکل کر دیکھیے آپ کو کہیں پر غزل نہیں ملے گی۔ نثری نظم اردو کو بچانے اور جلا بخشنے کی ایک کوشش ہے۔ اور آپ دیکھیں گے کہ مستقبل بعید میں یہی سلامت رہ پائے گی۔
 
حضور! ہم نے تو محض سوال کیا تھا کہ
نثری نظم کیا چیز ہے؟
اس کی پہچان کیسے ممکن ہے؟
اگر میں یہ کہوں کہ میرا یہ مراسلہ ایک نثری نظم ہے تو کیا یہ کافی ہے؟
کوئی ایسی جامع تعریف بتا دیں ہمیں جس سے اقوال زریں/جملوں اور نثری نظم میں تفریق ممکن ہو سکے۔
ممنون رہوں گا۔

جناب، جامع تعریف کے مطابق تو نا غزل، غزل ہے اور نا ہی نظم ، نظم ہے۔ نثری نظم، نثر اور نظم کے درمیان کی چیز ہے جو اردو کو بچانے اور اظہار و ابلاغ کے لیے آسان ترین ذرائع مہیا کرنے ایک کوشش ہے۔ پوری دنیا میں اگر نظم کی کوئی قسم ترجمہ ہوسکتی ہے تو وہ نثری نظم ہے۔ اس اعتبار سے نثری نظم اردو غزل سے بہت بڑے کینوس کی چیز ہے۔ رہی بات اقوالِ زریں کی تو وہ غزل میں بھی میسر ہیں اور نثری نظم میں بھی۔ کوئی بھی اردو دان اس چیز کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ غزل میں یہ موجود نہیں۔
 
ڈاکٹر طارق ہاشمی کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’اردو نظم کی تیسری جہت‘‘ پڑھ کر یقینا احباب کے نثری نظم کے حوالے سے خدشات و تحفظات دور ہو جائیں گے۔
 
Top