ناسا نے چاند پر اترنے والی انسان بردار گاڑیوں کی تفصیل جاری کردی

جاسم محمد نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 8, 2019

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,322
    ناسا نے چاند پر اترنے والی انسان بردار گاڑیوں کی تفصیل جاری کردی
    ویب ڈیسک ہفتہ 8 جون 2019
    [​IMG]
    ناسا نے تین کمپنیوں کو چاند پر سازوسامان پہنچانے کا ٹھیکہ دیا ہے۔ فرضی تصویر میں ایک خلائی جہاز کو چاند کی سطح پر دیکھا جاسکتا ہے۔ فوٹو: ناسا

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے تین کمرشل کمپنیوں سے کئے گئے معاہدے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کمپنیاں اس کے لیے چاند کے مشن ڈیزائن کریں گی جسے آرتیمس نامی پروگرام کے تحت انسانوں کی چاند تک رسائی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    اس کے بعد 2024 تک ناسا کی جانب سے چاند پر خلانورد بھیجے جائیں گے۔ اس سال کے اختتام تک ناسا سائنسی سامان کی تفصیل فراہم کرے گا جس کے بعد تین کمپنیاں ناسا کے ’کمرشل لونر پے لوڈ سروسز‘ (سی ایل پی ایس) کے منصوبے کے تحت سائنسی سامان اور ٹیکنالوجی سے مزین آلات چاند پر پہنچائیں گی۔

    [​IMG]

    اس سائنسی سامان میں چاند کی سطح پر اشعاع (ریڈی ایشن) کی پیمائش، نئی لینڈنگ ٹیکنالوجیز کی آزمائش اور دیگر تجربات کے جدید آلات شامل ہوں گے۔ تمام ٹھیکے دار کمپنیاں سامان کی تیاری، لانچنگ اور چاند پر اترنے تک کے تمام مراحل میں ناسا کی مدد کریں گی۔

    اس ضمن میں ایسٹروبوٹک کمپنی کو 79.5 ملین، انٹیوٹوومشین آف ہیوسٹن کو 77 ملین اور آربٹ بیونڈ آف ایڈیسن کمپنی کو 97 ملین ڈالر کی رقم دی گئی ہے۔ ان تینوں کے مشن مختلف ہوں گے اور کئی پے لوڈ تیار کئے جائیں گے۔

    [​IMG]

    منصوبے کو آرتیمس پروجیکٹ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد 2028 تک چاند پر انسان کو قدرے طویل عرصے تک رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اسی سے انسانوں کی مریخ تک رسائی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ لیکن پہلے مرحلے میں ایک مرد اور ایک خاتون کو چاند پر پہنچایا جائے گا۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,696
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کیا خلا میں جانے کا کوئی مخصوص راستہ ہے؟
    یا خلائی جہاز جہاں سے چاہیں زمین کی حد سے باہر نکل سکتے ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. احمد محمد

    احمد محمد محفلین

    مراسلے:
    176
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    مخصوص راستہ تو کوئی نہیں ہے کہیں سے بھی زمین کے مدار سے نکلا جا سکتا ہے تاہم مختلف مقامات سے ہدف کا فاصلہ کم یا زیادہ ضرور ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ خلا میں جانے کا کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے تو اس مقصد کو مد نظر رکھ کر کسی مخصوص مقام اور راستہ کا تعین کیا جاتا ہے۔

    مثال کے طور پر اگر چاند پر جانا مقصود ہو تو عرض ہے کہ:-


    چاند ایک مخصوص دوری پر ایک مخصوص مدار میں ایک مخصوص رفتار سے گردش کرتا ہے اسی طرح سائنسدانوں کے بنائے ہوئے خلائی جہاز یا راکٹ کی بھی مخصوص رفتار ہوتی ہے۔ ان تمام باتوں اور دیگر تکنیکی معاملات (جیسے زمینی مدار میں جہاز کی رفتار کیا ہوگی اور مدار سے دور ہوکر کششِ ثِقل میں کمی کے باعث رفتار کیا ہوگی, چاند کا کب اور کون سا حصہ سورج کے مقابل ہوگا وغیرہ وغیرہ) کو مد نظر رکھ کر یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ فلاں مقام یا لانچنگ پیڈ (جوکہ عمومی طور پر خطِ استوا پر واقع ہوتا ہے) سے فلاں وقت اور فلاں دن خلائی جہاز یا راکٹ زمین سے عمودی یا نوے کے زاویہ پر اپنے سفر کا آغاز کرے گا تو فلاں دن اور فلاں وقت پر چاند جہاز کے بالکل سامنے ہوگا اور یوں جہاز یا راکٹ چاند پر اتر (لینڈ)کرکے اپنے سفر کا اختتام کرے گا۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 9, 2019 1:16 شام

اس صفحے کی تشہیر