نئے کپڑے بدل کر دندناؤں اور بال بناؤں مس کے لئے - نوید ظفر کیانی

شمشاد نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 6, 2020

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ( ناصرؔ کاظمی مرحوم کی غزل کی پیروڈی )

    نئے کپڑے بدل کر دندناؤں اور بال بناؤں مس کے لئے
    جب کالج جانے کو نکلے ، کالج تک جاؤں مس کے لئے

    وہ چانس پہ تھی تو اُس کے لئے اوروں کی بھی ٹی سی کرتے تھے
    اب ایسے ویسے لوگوں کو کیوں باپ بناؤں مس کے لئے

    جس روپ کا دل پہ جادو تھا وہ دھوپ میں آ کر بہہ نکلا
    بے میک اپ چہرہ دیکھ لیا ، اب کیا للچاؤں مس کے لئے

    وعدوں کا تو میں قائل ہی نہیں ، جو آ جائے وہ کل ہی نہیں
    الو تو نہیں ہوں میں پھر بھی الو بن جاؤں مس کے لئے

    ملتان سدھاری تو پھر کیا ، آباد ہے دنیا کا میلہ
    موجود ہیں کتنے اورحسیں ، کیوں روگ لگاؤں مس کے لئے
    (نوید ظفر کیانی)​
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر