م-حنیف شاہجہاں پوری: غزل۔۔۔ تھام لو ہاتھ کہ اب بوجھ ہے خود مجھ پر بار


تھام لو ہاتھ، کہ اب بوجھ ہے خود مجھ پر بار
سرنگوں بیل کو ہے ڈور کی انگلی درکار!

خودبخود برسیں گے بادل، نکل آئے گی شفق
موسم و وقت کے محتاج نہیں ہیں مے خوار

اب بھی عارض پہ ہے ٹوٹے ہوئے تاروں کی لکیر
رات بھر تم نے کیا ہوگا ستاروں کا شمار!

جیسے رُک سے گئے جاتے ہوئے جاڑوں کے دن
نہ سکوں دھوپ میں آتا ہے، نہ سائے میں قرار

غم کی سرسوں ہے، کہیں پھول ہیں پیلے پیلے
میری تقدیر میں لکھّی ہے یہی زرد بہار!

سسکیاں شام سے لیتی رہی رہ رہ کے حنیفؔ
رات پھر پچھلے پہر روئی بہت زار و قطار!​
 
Top