میڈیا پر کنٹرول کے لیے نئے قوانین

نبیل

تکنیکی معاون
حکومت پاکستان نے پیر کو ایک صدارتی آرڈننس کے ذریعے نجی نشریاتی اداروں کے بارے میں قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے نجی نشریاتی اداروں کی عمارات، نشریاتی آلات اور ’ڈسٹربیوشن سسٹم‘ کوقبضے میں لینے کے اختیارات حاصل کر لیے ہیں۔

مکمل خبر
 

دوست

محفلین
یہ غیر متوقع نہیں تھا۔
اب صحافی بھی ایجی ٹیشن میں شامل ہوجائیں گے۔
 

ساجداقبال

محفلین
سرکار اپنے پاؤں پر کلہاڑی کے وار کیے جارہیں ہیں۔ شاید فوجی بوٹوں کیوجہ سے وار سہہ جاتے ہیں۔ لیکن کب تک؟
 

قیصرانی

لائبریرین
میرا یہی خیال ہے کہ یہ سب ٹوپی ڈرامہ چل رہا ہے۔ چیف جسٹس کی بات دیکھیئے کہ کتنی دب گئی ہے اسی طرح دیگر مسائل، بارہ مئی وغیرہ

مشرف کی یہی چال ہوتی ہے ہمیشہ :)
 

ابوشامل

محفلین
دیکھیں کئی معاملات بہت واضح ہوتے ہیں لیکن ہم طبیعت و عادت سے مجبور ہو کر ان کے پیچھے بھی سازش کا ہاتھ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہيں مثلاً اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ چینلوں پر پابندی اور جامعہ حفصہ کا معاملہ اس لیے اٹھایا گیا تاکہ چیف جسٹس کا معاملہ دبایا جائے، تو از خود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کا معاملہ کس کو دبانے کے لیے اٹھایا گیا؟ بھئی بات کہیں تو جا کر رکے گی!

ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے حوالے سے میں ایک اور پوسٹ پر اپنا یہ خیال پیش کر چکا ہوں:

پرویز کی جانب سے میڈیا کو آزادی دیے جانے کے حوالے سے چند باتیں واضح کردوں کہ پرویز کا مقصد میڈیا کو اس حوالے سے آزادی دینے کا نہیں تھا کہ وہ ملک کے سیاسی معاملات اور فوج کے کردار پر بیٹھ کر مذاکرے پیش کریں بلکہ ان کا مقصد فحاشی و عریانی کے سیلاب کو عوام پر چھوڑ دینا تھا۔ اس فریضے کو بخوبی سر انجام دینے پر چینلوں نے پرویز اور حکومت وقت سے خوب داد بھی سمیٹی۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ یہ چینل مقابلاتی رحجان کی بھینٹ چڑھ گئے، انہوں نے جب ایک سے بڑھ کر ایک سیاسی مذاکرے اور پروگرامات پیش کرنا شروع کیے تو حکومت کی چولیں ہل گئیں۔ میڈیا کو بزبان خاموش کرنے میں ناکامی پر بزور قوت چپ کرانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کا آغاز جیو نیوز اسلام پر حملے، آج ٹی وی کو شوکاز نوٹس کے اجراء اور اب براہ راست نشریات پر تازہ ترین پابندی سے ہو چکا ہے۔ 12 مئی کے واقعات نے تو حکومت اور وکلاء کی دو طرفہ جنگ میں ایک تیسرے فریق کا اضافہ کیا جو یقیناً ذرائع ابلاغ ہے جو اس وقت وکلاء کی جانب کھڑا ہے۔

تو یہ کہنا کہ پرویزی حکومت نے ذرائع ابلاغ کو اس لیے آزادی دی کہ وہ صحت مندانہ سیاسی بحث و مباحثے کو فروغ دے محض طفلانہ سوچ ہے، اس کے پیچھے ایک بڑی گہری اور منظم سوچ تھی کہ حکومت شدید عوامی ردعمل کے خطرے کے باعث جو کچھ سرکاری ٹیلی وژن سے نہیں دکھا سکتی تھی، وہ کچھ نجی ٹیلی وژن کے ذریعے دکھایا جائے۔ اگر آپ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کا اجمالی جائزہ لیں تو آج سے 8 سال قبل اور آج کے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ پہلے تہذیب و تعلیم و تربیت ہمارے ذرائع ابلاغ کا خاصہ تھا جہاں مزاحیہ خاکوں میں بھی تربیت کا عنصر شامل ہوتا تھا ففٹی ففٹی اور الف نون جیسے مزاحیہ پروگرام اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں لیکن اب آپ مجھے ایک پروگرام بتا دیں جس سے کوئی بھلائی کا کام سیکھا جائے، تلاوت قرآن مجید، حدیث مبارکہ اور اذانوں جیسی چیزیں تک پیش کرنے والے کتنے چینل پاکستان رہ گئے ہیں؟۔ شاید ایک ہی پی ٹی وی جو گذشتہ 40 سالوں سے دو احادیث بدل بدل کر نشر کرتا رہتا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا تحفہ اسلام کے جدید ایڈیشن مثلاً سب سے اہم غامدی ایڈیشن ہے جو روشن خیالی و اعتدال پسندی کا پسندیدہ ترین ہے۔ ایک کالم نگار نے کیا خوب کہا ہے کہ بھارت میں سیاسی تسلسل نے اس کے اندر یہ استعداد پیدا کردی کہ اس نے "فلم" کو بھی "قومی اتحاد" کا ذریعہ بنا لیا اور پاکستان میں یہ تماشہ ہو رہا ہے کہ ہم نے اسلام کو بھی اختلافات، تنازعات، تفریق اور تقسیم کا ذریعہ بنا لیا ہے۔

اور تقسیم کے اس پرویزی ایجنڈے کے اہم ترین مہرے ہمارے ٹی وی چینل تھے جنہوں نے اسلام کے بنیادی عقائد تک کے حوالے سے ایسے ایسے مباحثے پیش کیے (مثلاً جیو کی مہم ذرا سوچیے!) کہ با حیا آدمی کا چہرہ شرم کے مارے سرخ ہو جائے۔ آدمی گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی نہیں دیکھ سکتا۔ ان چینلوں نے تو اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا۔ 2004ء! جی ہاں آج سے تین سال پہلے جیو نیوز کے ایک پروگرام نے میرا سر شرم سے جھکا دیاتھا، یہ پروگرام آج بھی آتا ہے "جان ہے تو جہان" اور جو پروگرام میں نے دیکھا اس کا موضوع تھا "نسوانی صحت" جس میں سوائے میزبان کے سب شرکاء ‍و مہمان خواتین تھیں، آپ یقین کریں گے کہ پروگرام کا آغاز کس طرح ہوا؟ میزبان نے کہا کہ السلام وعلیکم آج کے ہمارے پروگرام کا عنوان نسوانی صحت ہے، اس سلسلے میں فلاں فلاں ماہر امراض نسواں یہاں موجود ہیں جی میرا پہلا سوال یہ ہے کہ ماہ۔۔۔۔۔۔ کیا ہوتی ہے؟" میرے تو جسم میں کرنٹ دوڑ گیا کہ یہ کیا کچھ یہاں دکھایا جا رہا ہے؟ اس کے بعد اداکارہ میرا کے بھارتی فلم میں دکھائے گئے مناظر جیو پر دن میں 50، 50 مرتبہ نشر کیے گئے، اے آر وائی پر سلیو لیس شرٹ بلکہ میں تو اسے بنیان کہوں گا اور کپڑا لپیٹ کر سلوائی جانے والی جینز (جسے آپ شاید اسکن فٹنگ کہتے ہیں) پاکستان کی عورتوں کا قومی لباس سمجھ کر دکھایا جاتا رہا، اس دوڑ میں ہم اور ٹی وی ون جیسے چینل بھی کودے جنہوں نے تمام اخلاقی حدود کو پار کیا، ٹی وی ون پر شہر کی راتیں اور انہی ذو معنی عنوانات جیسے ڈراموں کی بھرمار ہے جس میں پاکستانی اداکاروں اور اداکاراؤں کو K..s تک کرتے ہوئے دکھایا گیا، اس وقت تک مشرف حکومت خوب اچھلتی رہی کہ ہم نے میڈیا کو آزادی دی وہ جو چاہے دکھائے اور کیونکہ یہ سب کچھ اس وقت تک ان کے پروگرام کے مطابق چلتا رہا اس لیے سب شیر مادر سجمھ کر پی گئے۔ بات تب خراب ہوئی جب اپنی دُم پر پیر آیا، جب طلعت حسین، کامران خان، شاہد مسعود، انصار عباسی، حامد میر اور سجاد میر حکومت کی خراب پالیسیوں کے خلاف بولنے لگے، اس میں ان کا قصور ہر گز نہ تھا بلکہ چینلوں کے درمیان مقابلے کی فضا اس قدر تیز ہو گئی تھی کہ سچ کو سامنے لانا پڑا، بالآخر یہ کہنا پڑا کہ پرویزی حکومت آمریت کی پروردہ ہے اور الطاف حسین کی ایم کیو ایم نے اسلحے کے زور پر کراچی کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ وہ حقیقتیں سامنے لائی گئیں جو حقیقت ہوتے ہوئے بھی کوئی نہ کہتا تھا، فوج کا سیاسی و تجارتی (جی ہاں! تجارتی) کردار تک زیر بحث آ گیا۔

اور اب پابندی کی بات کی جا رہی ہے "وسیع تر قومی مفاد" کے بدترین استعمال کا وقت ایک مرتبہ پھر سامنے آ رہا ہے، یعنی دیکھو وہ جو ہم دکھانا چاہیں، سنو وہ جو ہم سنانا چاہیں، کہو وہ جو ہم کہلوانا چاہیں، کرو وہ جو ہم کروانا چاہیں۔ یہ پرویزی حکومت کا ذرائع ابلاغ کے حوالے سے چار نکاتی ایجنڈہ ہے اور اس کو پوری طرح سے نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے ایک چند روز قبل آج ٹی وی کے طلعت حسین نے وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی سے بہت ہی زبردست بات کہی کہ جب (بقول اُن کے) انتہا پسند مولوی کہتے ہیں کہ ٹیلی وژن چینلوں پر فحاشی و عریانی بند کی جائے تو صدر صاحب فرماتے ہیں کہ جس نے نہیں دیکھنا وہ آنکھیں بند کرلے لیکن جب یہ سیاسی معاملات پر بات کرتے ہیں اور تو پابندیوں اور شوکاز نوٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس وقت حکومت یہ کیوں نہیں کہتی کہ جس نے دیکھنا ہے دیکھے جس نے نہیں دیکھنا وہ آنکھیں بند کرلے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
ابوشامل نے کہا:
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ چینلوں پر پابندی اور جامعہ حفصہ کا معاملہ اس لیے اٹھایا گیا تاکہ چیف جسٹس کا معاملہ دبایا جائے، تو از خود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کا معاملہ کس کو دبانے کے لیے اٹھایا گیا؟ بھئی بات کہیں تو جا کر رکے گی! [/color]
ایل ایف او اور اس سے پہلے مشرف کے اقتدار میں آنے پر بات جا رکے گی
 
حکومت کی طرف سے میڈیا کی آزادی کا پول اب پوری طرح کھل گیا ہے اور جتنی آزادی دی تھی اس سے زیادہ پابندیاں لگا کر اصل حقیقت سامنے لے آئی ہے۔

میں ابو شامل کی بات سے متفق ہوں کہ حکومت نے میڈیا کو آزادی تہذیب کے انحطاط اور فحاشی کے فروغ کے لیے دی تھی اور جب تک حکومت پر سنجیدہ تنقید اور بحث شروع نہیں ہوئی حکومت چپ چاپ رہی اور جہاں میڈیا نے اپنا حقیقی کردار ادا کرنا شروع کیا وہیں حکومت نے کھل کر اپنی حقیقت دکھا دی اور طرح طرح سے پابندیاں لگا رہی ہے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
میڈیا پہلے دن سے مشرف صاحب اور انکی حکومت پر کھل کر تنقید کرتا چلا آ رہا ہے۔ (بلکہ میڈیا میں یہ فیشن ہے کہ تمام توپوں کا رخ حکومت کی طرف کر کے خوب سنسنی خیزی پھیلاؤ کیونکہ جتنی سنسنی خیز خبریں جاری ہوں گی اتنا ہی میڈیا کا مستقبل محفوظ ہے)۔

میڈیا کے غیر جانبدار ہونے کے متعلق تو پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ "آج" ٹی وی کو صرف اور صرف ایم کیو ایم کے کارکن اسلحے کے ساتھ نظر آئے، مگر آج تک سہراب گوٹھ میں اسلحہ نظر نہیں آیا۔

اسی طرح چیف جسٹس کو ایسے کوریج دی جا رہی ہے کہ اب چ ج باہر نکلے ہیں۔۔۔ ہاتھ ہلا رہے ہیں۔۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھولا جا رہا ہے۔۔۔۔ بیٹھ رہے ہیں۔۔۔۔ گاڑی سے ہاتھ ہلا کر لوگوں کو جواب دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ ،۔۔۔۔۔۔۔

غرض بیس بیس گھنٹے کی کوریج دی جا رہی ہے، لیکن دوسری طرف ایم کیو ایم کی ریلی ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
اور اسی طرح صدر صاحب کے جلسے کی کوئی کوریج نہیں بلکہ ہر طرف سے اعتراضات کہ سڑکیں بند ہو گئیں، دکاندار مشکلات میں، شہر کی عوام کو پریشانیاں۔۔۔۔۔ مگر جب چیف جسٹس جلسے جلوس کریں اور کرتے ہیں چلے جائیں تو نہ سڑک بند ہونے کا دکھ اور نہ عوام کی مشکلات کا ذکر۔

اور کچھ چینلز کی نشریات جو وقتا فوقتا ملک کی کچھ حصوں (یعنی پورے ملک میں نہیں) جام ہو رہی ہیں ان کے متعلق جتنا میں رپورٹوں سے سمجھ پا رہی ہوں تو اس سلسلے میں حکومت نے کوئی آڈر نہیں شائع کیے ہیں بلکہ کچھ کیبل آپریٹر اپنی پرائیوٹ سطح پر میڈیا کے خلاف احتجاجا یہ قدم اٹھا رہے ہیں کیونکہ میڈیا پر "ناپاک فوج مردہ باد" کے نعرے دکھائے جا رہے ہیں۔

جہاں تک عدلیہ کی آزادی کی بات ہے تو صدر کہتا ہے کہ ریفرنس کا جو فیصلہ عدلیہ کرے وہ منظور، مگر آپ ہی کی یہ سول سیاسی جمہوری اپوزیشن "سڑک کی سیاست" کر کے فیصلہ کرنا چاہتی ہے اور جب تک وہ "سڑک کی سیاست" کر کے سنسنی پھیلانے میں کامیاب ہیں، تب تک میڈیا انکے ساتھ ہے۔


بہرحال، میڈیا سے متاثر ہو کر صاف لگ رہا تھا کہ عدلیہ کے جسٹس رمدے مسلسل حکومت کے وکلاء کے دلائل پر اعتراضات کیے جا رہے تھے۔ مگر آج کی کاروائی کے بعد مجھے لگتا ہے کہ شریف الدین پیر زادہ نے ایسے دلائل دے دیے ہیں جنکے بعد چیف جسٹس کے وکلاء اور سپریم کورٹ کے ججز کو زیادہ موقع نہیں ملے گا۔



میڈیا کے حوالے سے میں ابوشامل سے اختلاف اس صورت میں بھی کروں گی کہ مشرف صاحب نے ابتداء میں میڈیا کو آزادی دی تھی تاکہ کھل کر تنقیدی کام ہو سکیں۔ مگر ویسٹرن انداز کا سٹائل میڈیا نے خود اپنایا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام میں ہردلعزیزی حاصل کر سکیں۔

تو میڈیا کی بلا کو آپ مشرف صاحب کے گلے نہ ڈالیں اور آپکے پاس اپنے اس "قیاسی الزامات" کے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ مشرف صاحب تنقیدی میڈیا کو شروع سے آزادی دینے کے خلاف تھے۔

تو شروع کے بات تو ایک طرف، آج بھی تمام تر میڈیا کھل کر مشرف صاحب پر الزامات کی بارش کر رہا ہے اور اس آزادی کا کریڈٹ آپ لوگ اگر مشرف صاحب کو نہیں دیتے تو یہ بخل اور کم ظرفی ہے۔
 
میڈیا پہلے دن سے مشرف اور انکی حکومت پر کس طرح سے کھل کر تنقید ہو رہی ہے ذرا اس پر روشنی ڈالیں ، ایک دو پروگراموں میں تنقید ہو جانے یا کرنے سے کھل کر تنقید ثابت نہیں ہوتی اور میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ سب کی رائے کو بغور پڑھیں اور دیکھیں کہ ساری خلق کیا کہہ رہی ہے نہ کہ صرف اپنی ذاتی رائے کو ہی سب پر مقدم رکھیں اور بار بار دوسروں کی رائے کو ون سائیڈد حتی کہ تمام پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کو بھی جانبدار قرار دیں۔ میڈیا کا مستقبل اسی صورت میں محفوظ رہتا ہے جب تک وہ حقائق کے قریب رہے اور لوگوں کو حقیقت کے قریب رکھائے گو کہ بہت سی پابندیوں کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے انہیں۔
میڈیا کا مستقبل محفوظ کرنے کی بات بھی خوب کہی ، میڈیا کو سچ دکھانے پر شو کاز نوٹس اور ان کی نشریات معطل ہونے کا صلہ مل رہا ہے ، ان کے دفاتر پر کھلے عام حملے ہو رہے ہیں اور ان کا لائسنس ختم کیے جانے تک کے اقدامات ہیں ، کیا اسے اپنا مستقبل محفوظ کرنا کہتے ہیں؟

میڈیا کی غیر جانبداری کی مثال لکھتے وقت آپ کو اعتراض کس بات پر ہے ، ایم کیو ایم کے کارکنان کے اسلحہ دکھانے پر یا سہراب گوٹھ میں اسلحہ کی صرف رپورٹ دینے پر۔ حیرت ہے “آج“ ٹی وی پر چھ گھنٹے سے زائد فائرنگ نظر نہیں آئی اور اس پر حکومت کی مجرمانہ غفلت یکسر نظر انداز کر دی ہے۔ ایم کیو ایم کے حقائق دکھانے پر اگر جانبداری نظر آرہی ہے تو پھر ایسی جانبداری ضرور ہونی چاہیے جس میں کسی جماعت کی غنڈہ گردی اور تشدد سب کے سامنے لایا جا سکے۔

چیف جسٹس کو کوریج اس لیے دی جارہی ہے کہ وہ عوام میں بہت پذیرائی پا چکے ہیں اپنے مضبوط اور اصولی موقف پر ، اس پر اگر کوئی اعتراض کرے تو وہ پہلے یہ سوچ لے کہ وہ چاہتا کیا ہے مشرف اور ایم کیو ایم کی حاکمیت یا قانون اور عدلیہ کی حکمرانی۔ اس لیے عوام کا جم غفیر ان کے ساتھ ہے اور انہیں دیکھنا چاہتا ہے اس پر حکومتی حلقوں کو سخت تشویش ہے اور سمجھ بھی آتی ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم کی ریلی تمام چینلز نے دکھائی تھی اور اس کی کوریج بھی ہوئی تھی البتہ اب ١٢ مئی کے سانحات کو کم دکھا کر ان کی ریلی کو دکھانا کوئی بھی ذی شعور گوارہ نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف ڈھٹائی اور کم ظرفی کی مثال قائم کرتے ہوئے صدر صاحب نے اپنا جلسہ اس عظیم سانحہ کے بعد بھی نہ صرف جاری رکھا بلکہ جشن کا سماں بنائے رکھا اور کراچی میں ‘عوام کی طاقت‘ کا اظہار کیا۔

جیو کی نشرات پورے ٣٨ گھنٹے بند رہیں اور کسی کیبل آپریٹر کی یہ جرات نہیں کہ وہ اپنے طور پر یہ قدم اٹھا سکے برائے مہربانی صرف اپنی رپورٹوں سے سمجھنے کی کوشش نہ کریں بلکہ ملک میں رہنے والوں کی رائے کو بھی دیکھیں اور حکومتی نکتہ نظر سے معاملات کو دیکھنے کی شعوری کوشش سے ہٹ کر۔ کیبل آپریٹر جو کچھ دکھاتے ہیں اس پر کبھی انہیں کوئی پچھتاوا نہ ہوا ہے اور نہ آئیندہ ہوگا ، اپنے پرائیوٹ چینلز چلا رکھے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ فحاشی اور عریانی دکھاتے ہوئے عوام کے احتجاج کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور اب اپنی سطح پر یہ قدم چپ معنی دارد جب کہ یہ قدم اس وقت تو نہیں کیا گیا جب میڈیا پر نعرے لگ رہے تھے ، یہ قدم اٹھایا ہے تو حکومت سے ہونے والی کانفرنس اور ملنے والی ہدایات کے بعد۔

عدلیہ کی آزادی پر کیا آپ کا خیال ہے مشرف صاحب کہیں گے کہ ریفرنس کا فیصلہ جو عدلیہ کرے گی اس پر نظر ثانی کروں گا میں ؟ ظاہر ہے عدلیہ کا فیصلہ ماننا صدر پر لازم ہے ورنہ اور کیا صورت ہے ۔ یہ سب کہنے کے باوجود وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر فیصلہ باطل کے حق میں ہوا تو میرے لیے رونے کا مقام ہوگا ( اب یہ بیان ان کی امنگوں کو صاف ظاہر نہیں کر رہا )۔ اس کے ساتھ ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلی ارباب رحیم نے تو صاف کہا ہے کہ عدلیہ غیر جانبدار رہیں گی تو وہ افسران کو بھیجیں گے یعنی صاف طور پر ان کی امنگوں کے مطابق فیصلہ ہوگا تو وہ تعاون کریں گے ، اس سے بڑھ کر اور توہین عدالت کیا ہوگی۔
کس اپوزیشن پارٹی نے کہا ہے کہ سڑک پر فیصلہ ہوگا ، کیا احتجاج بھی منع ہو جائے گا اس جمہوری حکومت میں اور چپ چاپ بیٹھ کر تماشہ دیکھیں کہ کس طرح حکومت اپنے من مانے فیصلے کرواتی ہے جس طرح وہ ماضی میں کرواتی رہی ہے اور جسے چاہے منصب سے ہٹا دے اور جسے چاہے نواز دے۔

جسٹس رمدے کی شہرت ایک سخت گیر جج کی ہے اور انہوں نے ہمیشہ سخت فیصلے کیے ہیں دباؤ میں آئے بغیر اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہر شخص جو حکومتی نکتہ نظر پر تنقید کر رہا ہے وہ میڈیا سے متاثر کیوں نظر آ رہا ہے اور کیا تمام خلق کو ایک جیسی غلط فہمی لاحق ہو گئی ہے اور کیا اس سے کہیں زیادہ یہ بات محل نظر نہیں کہ غلطی آپ کو لگ رہی ہے جو اتنے واضح اور کھلے حقائق کو بھی نہیں سمجھ پا رہیں۔

ابو شامل کی بات کا ثبوت خود اب تک کا حکومتی رویہ ہے اور مشرف صاحب کے زریں خیالات بھی جس کا وہ بار بار اظہار کرتے رہیں ہیں۔ انہوں نے اب سے پہلے میڈیا پر کوئی تنقید نہ کی اور کھلے عام دکھائی جانے والی فحاشی پر ایک لفظ بھی نہ کہا بلکہ خود ایسی ہی تقریبات اور نشریات کو فروغ بھی دیا۔ انتہا پسندی اور مذہبی طبقات پر کڑی تنقید کرکے ‘روشن خیالی ‘ کو فروغ دینے کی باتیں ٹی وی اور جلسوں اور مختلف نشستوں میں بارہا کرتے رہے ہیں۔

اب میڈیا کھل کر مشرف پر تنقید کر رہا ہے اور مشرف صاحب بھی کھل کر ان پر پابندیاں ، حد میں رہنے کے ڈراوے اور اقدامات کر رہے ہیں ،
کیا اس کے بعد بھی مشرف صاحب کو آزادی کا کریڈٹ دینا بخل اور کم ظرفی نہ ہوگی
 

مہوش علی

لائبریرین
محب:
پہلے دن سے مشرف اور انکی حکومت پر کس طرح سے کھل کر تنقید ہو رہی ہے ذرا اس پر روشنی ڈالیں ، ایک دو پروگراموں میں تنقید ہو جانے یا کرنے سے کھل کر تنقید ثابت نہیں ہوتی

محب،
مجھے نہیں پتا کہ آپکے معیار میں تنقید کیا ہوتی ہے اور کتنی پھیل جائے تو تنقید کہلائی جائے گی، مگر پچھلے چھ سات سال سے اخبارات کے کالم مشرف صاحب کی مخالفت میں کھل کر لکھ رہے ہیں اور انہیں اتنی ہی آزادی حاصل رہی ہے جتنی کسی مغربی ملک میں ذرائع ابلاغ کو حاصل ہے۔ لیکن چیف جسٹس جیسا ایشو انہیں پہلے سنسنی پھیلانے کے لیے نہیں مل سکا تھا۔

تو آپکی "سول" "جمہوری" حکومتوں میں آپکو میڈیا یاد نہیں کہ جہاں تنقید تو ایک طرف، انہیں اپنا میڈیا لانچ کرنے کی اجازت ہی نہ تھی۔ تو جب آپکی یاداشت اس حد پر پہنچ جائے تو ۔۔۔۔



م
یڈیا کی غیر جانبداری کی مثال لکھتے وقت آپ کو اعتراض کس بات پر ہے ، ایم کیو ایم کے کارکنان کے اسلحہ دکھانے پر یا سہراب گوٹھ میں اسلحہ کی صرف رپورٹ دینے پر۔

سہراب گوٹھ پر میڈیا نے کون سی رپورٹ دکھائی ہے۔ بلکہ میڈیا کی جانبداری اور اندھے پن کا عالم یہ ہے کہ 12 مئی کے تمام واقعات میں انہیں ایم کیو ایم کے علاوہ ایک بھی ایسا شخص نظر نہیں آیا جو اسلحہ سے لیس ہو۔ اگر یہی آپکی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ ہے جو حقائق دکھانے کی بجائے عوام میں اپنے نمبر بنانے کے لیے ایک طرف بالکل اندھے بن جائیں تو ایسا میڈیا آپکو مبارک۔

میری رائے ابھی تک یہی ہے کہ بہتر ہوتا کہ دونوں طرف کے Evils دکھائے جائیں ورنہ ایم کیو ایم پھر سے اپنے ووٹروں میں مظلوم بن گئی ہے اور انکا آرگومنٹ یہی ہے کہ "پنجاب " کے میڈیا نے انکے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ اب ان کا یہ آرگومنٹ جتنا بھی غلط ہو، مگر انہیں اہل کراچی کی ہمدردی رہے گی۔

\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\\

میڈیا کے متعلق میں نے آپ سے اور ابوشامل برادر سے اختلاف اسی بات پر کیا تھا کہ مشرف صاحب نے میڈیا کو تنقید کی اجازت دے کر جو اچھا کام کیا تھا آپ لوگ اپنے قیاسی تھیوری کی بنیاد پر یہ الزام دے کر ختم کر رہے ہیں کہ انکی نیت تنقید کی آزادی نہیں بلکہ "صرف" مغربی اقدار کو رواج دینا تھا۔

جبکہ میرا ماننا یہ ہے کہ میڈیا نے مغربی انداز "خود سے" اپنایا ہے اور اس معاملے میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عوام میں مقبول ہو سکیں۔ اور اس کی ایک بہت اہم وجہ انکا انڈیا کے چینلز سے مقابلہ بھی ہے۔ تو اس مسابقت کی دوڑ میں خوش آمدید۔ دیکھتے ہیں کہ اگر مستقبل میں آپکی کوئی سول جمہوری حکومت آتی ہے تو وہ کیا گل کھلاتی ہے۔

(ویسے کچھ اور ہونا دشوار ہے کیونکہ زکریا نے گوگل ٹرینڈ کے حوالے سے فحش ویب سائیٹ ڈھونڈنے والے ملکوں کا جو ذکر کیا تھا، ان میں پہلے دس میں چھ اسلامی ممالک تھے، اور یہ اسلامی ممالک وہ تھے جو کہ اسلام کا ٹھیکیدار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور میڈیا کنٹرول کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ (مثلا ان چھ ممالک میں سعودیہ اور ایران بھی سر فہرست ہیں جہاں میڈیا پر سخت کنٹرول ہے)۔



جسٹس رمدے کی شہرت ایک سخت گیر جج کی ہے اور انہوں نے ہمیشہ سخت فیصلے کیے ہیں دباؤ میں آئے بغیر اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہر شخص جو حکومتی نکتہ نظر پر تنقید کر رہا ہے وہ میڈیا سے متاثر کیوں نظر آ رہا ہے

جسٹس رمدے کی بات تو کچھ واضح ہوتی جا رہی ہے اور اب تو وہ خود سے حکومت کو مشورہ دینے لگے ہیں کہ ڈیل کر لی جائے۔ آگے دیکھتے ہیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ باقی میڈیا سے لوگ کیوں متاثر ہیں یہ تو لاجک میں آنے والی بات ہے۔ اصل حقیقت تو اُس وقت کھلے گی جب آپکی پسندیدہ سول جمہوری حکومت پھر سے قائم ہو گی اور پھر یہی سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے ہوں گے اور میڈیا رپورٹنگ سنسنی پھیلانے کے لیے ان سب کی ٹانگ کھینچ رہا ہو گا اور ان سب کا نتیجہ پاکستان کی معیشت کو ہو گا جو کہ ملک میں فی الحال اگلے چار پانچ سال کے لیے بہت Stable حالات چاہتا ہے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
غیر ذمہ دار میڈیا اور عدالتی احکام کی خلاف ورزیاں
[align=left:44498e7f4a]

http://www.thenews.com.pk/top_story_detail.asp?Id=7731

SC clarifies The News, Geo and Jang reports

ISLAMABAD: The Supreme Court clarified various news items, carried by the print and electronic media, regarding some judges of the Supreme Court terming these stories false and baseless.

Following is the text of the press release issued by the Supreme Court here on Wednesday: "Ever since the filing of Presidential Reference against Mr Justice Iftikhar Muhammad Chaudhry, Chief Justice of Pakistan and the Constitution Petitions on the subject, a mala fide campaign of making the Honourable Judges of the Supreme Court/Members of Supreme Judicial Council controversial is going on, both in electronic as well as print media.

It is reported that the lady wife of Honourable Mr Justice Raja Fayyaz Ahmed, Judge Supreme Court of Pakistan is related to the lady wife of Honourable Mr Justice Iftikhar Muhammad Chaudhry, Chief Justice of Pakistan, which is false, frivolous, baseless and mischievous. There is absolutely no relationship of whatever kind between them. The report is completely denied.

Recently a news item titled "A Lunch that caused eyebrows to raise", published in the daily News dated 5th May 2007 and a similar report that appeared in the daily Jang dated 6th May 2007 and repeated on 7th May 2007 were given unnecessary prominence, as part of mala fide vilification scheme launched by the vested interests. It is stated that at the relevant time, the Hon. Judges were having lunch in the Islamabad Club and Syed Sharif-ud-Din Pirzada, Senior ASC and Mr Makhdoom Ali Khan, learned Attorney General for Pakistan happened to be around and joined the Honourable Judges on lunch. It was a mere co-incidence and insinuation by the media is unfounded.

Exploiting the situation, some elements also tried to caste aspersions on the person of Hon. Mr Justice M Javed Buttar with reference to his sister's participation in the protests. Every person is responsible for his own conduct and behaviour and it is abhorable to make an attempt at scandalizing the Hon. Judge of the Supreme Court on account of others' behaviour/conduct.

Likewise Kamran Khan Show telecast by GEO TV on 5th May 2007 and repeated later on and other similar programmes telecast by other channels were an instance of sensational reporting aimed at scandalizing and maligning the Hon. Judges of the Supreme Court within the ambit of the provisions of the law relating to the contempt of court.

The Honourable Judges of the Supreme Court/Members of the Supreme Judicial Council are committed to upholding and maintenance of independence of judiciary and their personal links or relations are never a consideration that has any bearing on the performance of their constitutional functions. They have always acted independently and will continue to do so.

It has already been notified, and it is reiterated that discussions, comments or write ups which may interfere with the legal process, or ridicule, scandalize or malign the Court or any of its Judges/Members of the Supreme Judicial Council or touching the merits of cases pending both before the Supreme Judicial Council/Supreme Court are strictly prohibited, and violation in this regard shall be dealt with under the law relating to Contempt of Court." -APP
[/align:44498e7f4a]
 

ابوشامل

محفلین
میڈیا پہلے دن سے مشرف صاحب اور انکی حکومت پر کھل کر تنقید کرتا چلا آ رہا ہے۔ (بلکہ میڈیا میں یہ فیشن ہے کہ تمام توپوں کا رخ حکومت کی طرف کر کے خوب سنسنی خیزی پھیلاؤ کیونکہ جتنی سنسنی خیز خبریں جاری ہوں گی اتنا ہی میڈیا کا مستقبل محفوظ ہے)۔

میڈیا کے غیر جانبدار ہونے کے متعلق تو پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ "آج" ٹی وی کو صرف اور صرف ایم کیو ایم کے کارکن اسلحے کے ساتھ نظر آئے، مگر آج تک سہراب گوٹھ میں اسلحہ نظر نہیں آیا۔

اسی طرح چیف جسٹس کو ایسے کوریج دی جا رہی ہے کہ اب چ ج باہر نکلے ہیں۔۔۔ ہاتھ ہلا رہے ہیں۔۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھولا جا رہا ہے۔۔۔۔ بیٹھ رہے ہیں۔۔۔۔ گاڑی سے ہاتھ ہلا کر لوگوں کو جواب دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ ،۔۔۔۔۔۔۔

غرض بیس بیس گھنٹے کی کوریج دی جا رہی ہے، لیکن دوسری طرف ایم کیو ایم کی ریلی ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
اور اسی طرح صدر صاحب کے جلسے کی کوئی کوریج نہیں بلکہ ہر طرف سے اعتراضات کہ سڑکیں بند ہو گئیں، دکاندار مشکلات میں، شہر کی عوام کو پریشانیاں۔۔۔۔۔ مگر جب چیف جسٹس جلسے جلوس کریں اور کرتے ہیں چلے جائیں تو نہ سڑک بند ہونے کا دکھ اور نہ عوام کی مشکلات کا ذکر۔

اور کچھ چینلز کی نشریات جو وقتا فوقتا ملک کی کچھ حصوں (یعنی پورے ملک میں نہیں) جام ہو رہی ہیں ان کے متعلق جتنا میں رپورٹوں سے سمجھ پا رہی ہوں تو اس سلسلے میں حکومت نے کوئی آڈر نہیں شائع کیے ہیں بلکہ کچھ کیبل آپریٹر اپنی پرائیوٹ سطح پر میڈیا کے خلاف احتجاجا یہ قدم اٹھا رہے ہیں کیونکہ میڈیا پر "ناپاک فوج مردہ باد" کے نعرے دکھائے جا رہے ہیں۔

یہ تو مجھے لگ رہا ہے کہ پی ٹی وی بول رہا ہے: سب اچھا ہے، حکومت اچھی ہے، پرویز مشرف تو بہت ہی اچھے ہیں، حکومت کو برا کہنے والے خود برے ہیں، کیبل پر نجی چینل تو عوام نے خود بند کیے، حکومت نے کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا۔

جہاں تک عدلیہ کی آزادی کی بات ہے تو صدر کہتا ہے کہ ریفرنس کا جو فیصلہ عدلیہ کرے وہ منظور، مگر آپ ہی کی یہ سول سیاسی جمہوری اپوزیشن "سڑک کی سیاست" کر کے فیصلہ کرنا چاہتی ہے اور جب تک وہ "سڑک کی سیاست" کر کے سنسنی پھیلانے میں کامیاب ہیں، تب تک میڈیا انکے ساتھ ہے۔

محترمہ آپ کیا سمجھتی ہیں فیصلہ پرویز مشرف کے خلاف ہوگا؟ اور اگر (ویسے ممکن تو نہیں) مشرف کے خلاف ہو بھی گیا تو وہ اسے کھلے دل سے قبول کریں گے؟
آپ جیسے بھولے بادشاہوں کی وجہ سے تو یہ حکومت اب تک بچی ہوئی ہے اور ملک کا خانہ خراب کر رہی ہے۔

میڈیا کے حوالے سے میں ابوشامل سے اختلاف اس صورت میں بھی کروں گی کہ مشرف صاحب نے ابتداء میں میڈیا کو آزادی دی تھی تاکہ کھل کر تنقیدی کام ہو سکیں۔ مگر ویسٹرن انداز کا سٹائل میڈیا نے خود اپنایا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام میں ہردلعزیزی حاصل کر سکیں۔

تو میڈیا کی بلا کو آپ مشرف صاحب کے گلے نہ ڈالیں اور آپکے پاس اپنے اس "قیاسی الزامات" کے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ مشرف صاحب تنقیدی میڈیا کو شروع سے آزادی دینے کے خلاف تھے۔

تو شروع کے بات تو ایک طرف، آج بھی تمام تر میڈیا کھل کر مشرف صاحب پر الزامات کی بارش کر رہا ہے اور اس آزادی کا کریڈٹ آپ لوگ اگر مشرف صاحب کو نہیں دیتے تو یہ بخل اور کم ظرفی ہے۔

یہی بات تو میں نے پہلے کہی ہے کہ جب ذرائع ابلاغ کے یہی چینل فحاشی و عریانی میں بھارت کے چینلوں سے بھی دو دو ہاتھ آگے جا رہے تھے تو مشرف نے یہ کیوں کہا کہ جس نے نہیں دیکھنا وہ آنکھیں بند کرلے۔ اور یہی بیان وہ اب کیوں نہیں دیتے؟
ویسے اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ چینلوں نے مغربی اقدار خود سے اپنائی ہیں، چلیں مان بھی لیں تو جب انہیں غیروں کی اقدار اپنانے کی آزادی ہے تو حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے پر پابندیوں کا سامنا کیوں ؟ اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
 
Top