میٹرو بس سروس یا کراچی سرکلر ریلوے۔

محمد خلیل الرحمٰن نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 28, 2013

  1. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    10,040
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    یہ لوگ ہمیں بیوقوف بنانے سے باز آنے والے نہیں۔ غور فرمائیے محکمۂ ریلوے کس ڈھٹائی سے عدالت میں کہہ رہا ہے کہ مقررہ مدت میں سرکلر ریلوے چل پڑے گی۔ کیا اس مدت میں یہ لوگ سات نمبر ناظم آباد کی سڑک کو پار کرکے وہاں پٹری بچھاسکتے ہیں جبکہ پرانے پل کو توڑ کر وہاں نہ صرف سڑک بنادی گئی ہے بلکہ میٹرو بس کا پل بھی بن گیا ہے؟ بھیا کی باتیں!
     
    • غمناک غمناک × 1
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    13,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ عوام ملک کے حکمرانوں سے یہ امیدیں کیوں لگاتے ہیں کہ یہ عوام کے لیے کوئی کام کریں ؟؟؟
    کیا یہ اس لیے کروڑوں اربوں روپے کی انویسٹمنٹ کرکے حکومت میں آتے ہیں۔۔۔
    یہ تو صرف لگائی گئی انویسٹمنٹ پر پرافٹ کمانے آتے ہیں!!!
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 25, 2020
    • متفق متفق × 3
  3. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    افسوس کرنے کا حق تو ہم رکھتے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  4. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,218
    وہ مصرعہ یاد آگیا
    افسوس ان غنچوں پہ ہے..
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    10,040
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  6. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بھیا مصرع اولیٰ بھی:):)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    10,040
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے
    حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے​
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ہمیں یاد ہی نہیں آرہا تھا شکریہ بھیا:):)
     
  9. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    13,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    آپ تو خود شاعر ہیں۔۔۔
    یعنی شعر بنانے کی فیکٹری۔۔۔
    آپ کو دوسرا مصرع بنانے میں کیا دیر لگے گی؟؟؟
    :nerd::nerd::nerd::nerd::nerd:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    9,670
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کیوں مذاق اُڑاتے ہیں غریبوں کا؀
    ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
     
  11. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    16,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    انتخابی اصلاحات سے ایک فلٹریشن پراسیس بنائیں جس کے تحت ایمان دار لوگوں کا الیکشن لڑنا اور منتخب ہونا ممکن ہو تا کہ عوام کے مسائل کا ادراک کرنے کے بعد مناسب طریقے سے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
     
  12. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    10,040
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    کراچی سرکلر ریلوے: ضرورت پڑی تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو بھی بلائیں گے، چیف جسٹس
    حسیب بھٹی 10 نومبر 2020
    Facebook Count
    Twitter Share
    0
    Translate
    [​IMG]
    سپریم کورٹ نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا— فائل فوٹو: بشکریہ سپریم کورٹ
    سپریم کورٹ نے کراچی سرکولر ریلوے کے معاملے پر چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹریز ریلوے کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔

    چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کراچی سرکلر ریلوے کیس کی سماعت کی۔

    مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی سرکلر ریلوے کے حقوق مانگ لیے

    عدالت نے ڈی جی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم دے دیا۔

    تحریر جاری ہے‎
    دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری ریلویز اور چیف سیکریٹری سندھ بتائیں کہ کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ کیوں فعال نہیں ہوا، ٹریک سے تجاوزات کا خاتمہ کیوں نہیں کیا گیا؟ عدالتی حکم پرعملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب بات صرف یہاں تک نہیں رکے گی، ہم سب کو بلائیں گے، ضرورت پڑی تو وزیراعظم کو بھی بلا لیں گے، ضرورت پڑی تو وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی طلب کریں گے۔

    عدالت نے کہا کہ کیوں ناں چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹری ریلویز دونوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

    عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ اور سیکریٹری ریلویز کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

    تحریر جاری ہے‎
    یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا کراچی سرکلر ریلوے 3 ماہ میں فعال کرنے کا حکم

    عدالت نے مقدمے کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

    یاد رہے رواں برس مارچ میں سپریم کورٹ نے پاکستان ریلویز کو 6 ماہ کے عرصے میں کراچی سرکلر ریلوے بحال کرنے کا حکم دیا تھا جس پر سیکریٹری ریلوے نے منصوبہ عدالت کی دی گئی مدت میں بحال کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

    تاہم تقریباً 7 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود منصوبے کی بحالی سے متعلق کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا اور گزشتہ ماہ 25 تاریخ کو ہوئی ایک سماعت میں سپریم کورٹ نے پاکستان ریلویز کو خبردار کیا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے مجوزہ مدت سے تجاوز نہ کیا جائے۔

    تحریر جاری ہے‎
    جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ایف ڈبلیو او نے 11 زیر زمین گزرگاہوں کی تعمیر کا سروے مکمل کرلیا ہے جبکہ بقیہ 13 کا بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا۔

    عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کے سی آر کی منصوبہ بندی کرلی گئی اور ڈیزائننگ کا کام جاری ہے، ایف ڈبلیو او ڈیزائن تیار اور تعمیری لاگت کا تخمینہ کرلے تو ان زیر زمین گزرگاہوں کی تعمیر کا ٹھیکا جلد دے دیا جائے گا۔

    مزید پڑھیں: ’کراچی سرکلر ریلوے جلد بحال ہوجائے گی‘

    دوسری جانب وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بتایا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی بحالی کا کام 3 مراحل میں کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں کراچی سٹی سے اورنگی اسٹیشن تک، دوسرے مرحلے میں اورنگی اسٹیشن سے گیلانی اسٹیشن تک اور آخری مرحلے میں گیلانی اسٹیشن سے ڈرگ کالونی تک ریلوے پٹریوں کو بحال کیا جائے گا۔

    منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام جاری ہے جس میں 15 کروڑ روپے، 9 اسٹیشنز، پلیٹ فارمز اور 15 لیول کراسنگ کی بحالی کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ رواں برس جولائی کے مہینے میں 5 کروڑ روپے الیکٹرکل سگنلز اور مواصلاتی ذرائع کی بحالی کے لیے جاری کیے گئے۔

    خیال رہے کہ کے سی آر بحالی منصوبے میں کراچی سرکلر ریلوے کو ایک ماس ٹرانزٹ سسٹم میں تبدیل کرنا شامل ہے، منصوبے کی مجموعی لمبائی 50 کلومیٹر تک محیط ہونے کی توقع ہے۔

    1964 میں شروع ہونے والی پرانی کے سی آر کا راستہ ڈرگ روڈ سے شروع ہوتا تھا اور صدر تک جاتا تھا، سالوں تک بے انتہا نقصان اٹھانے کے بعد اسے 1999 میں بند کردیا گیا تھا
     

اس صفحے کی تشہیر