بشیر بدر میرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کے ہوا نہ دے

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 5, 2019

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    19,071
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    میرے دل کی راکھ کرید مت اسے مسکرا کے ہوا نہ دے
    یہ چراغ پھر بھی چراغ ہے کہیں تیرا ہاتھ جلا نہ دے

    نئے دور کے نئے خواب ہیں نئے موسموں کے گلاب ہیں
    یہ محبتوں کے چراغ ہیں انہیں نفرتوں کی ہوا نہ دے

    ذرا دیکھ چاند کی پتیوں نے بکھر بکھر کے تمام شب
    ترا نام لکھا ہے ریت پر کوئی لہر آ کے مٹا نہ دے

    میں اداسیاں نہ سجا سکوں کبھی جسم و جاں کے مزار پر
    نہ دیئے جلیں مری آنکھ میں، مجھے اتنی سخت سزا نہ دے

    مرے ساتھ چلنے کے شوق میں بڑی دھوپ سر پہ اٹھائے گا
    ترا ناک نقشہ ہے موم کا کہیں غم کی آگ گھلا نہ دے

    میں غزل کی شبنمی آنکھ سے یہ دکھوں کے پھول چنا کروں
    مری سلطنت مرا فن رہے مجھے تاج و تخت خدا نہ دے
     
    • زبردست زبردست × 2

اس صفحے کی تشہیر