میری پہلی نظم

فاطمہ بتول

محفلین
اک متنا ہی زیست کی خاطر
لامتناہی خواب سجائے
ہم اہلِ سخن خاموش کھڑے ہیں
اُس دشت میں جو ایران بہت ہے
بے آب نہیں ہے پر بنجر ہے
یہاں خوشبو پھول کی متلاشی ہے
یہاں تارے رستہ بھول چکے ہیں
پتھر کی اسے صورت دے کر
احساس دلوں کو چھوڑ چکے ہیں
محفل ہر رنگ کھو بیٹھی ہے
غزل میں خالی خیال دھرے ہیں
اب سوچتے ہیں یہ کیا منظر ہیں
تپتی چھاؤں , پیاسی بارش
ٹھنڈی دھوپ یا کھنڈر ہیں؟
روحِ سخن کو بھینٹ چڑھا کر
ہم اہلِ نظر تو بس کھنڈر ہیں!
 
واہ واہ یہ رعنائی خیال
بہت اچھی ہے باقی نظم کو فنی حوالے سے تو اساتذہ ہی دیکھیں گے
میں تو اتنا کہوں گا کہ کوشش جاری رکھیں
 

باباجی

محفلین
ماشاءاللہ
بہت خوب سیدہ
بہت اچھی کوشش ۔۔ اور آپ کو یہاں فائدہ یہ ہوگا کہ اسے سنوارنے والے آپ کو یہ سکھادیں گے کہ اب اگلی کاوش کو کیسے سنوارا جائے
اور تخیل کی خوبصورت میں کوئی کلام نہیں
اور اس سطر کا کوئی جواب نہیں بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے

ہم اہلِ نظر تو بس کھنڈر ہیں!
شاباش ۔۔ خوش رہیں
 

اقبال خاں

محفلین
بہت خوب فاطمہ بتول
بس وہی ایک غلطی یا بھول تھی جو پِن پوائنٹ ہوچکی ہے اور آپ بھی جان چکی ہیں ۔ باقی سب الفاظوں کی گرہ مضبوط تھی
 
Top