میری ماں!!!

ماں میرے کالج کے اوقات کار سے واقف تھی۔تھوڑی سی دیر سویر اُس کو پریشانی میں مبتلا کردیتی تھی۔ ایسی صورت حال میں فوراً گھر کا ٹیلی فون حرکت میں آجاتا اور رابطہ تسلی کا ذریعہ ٹھہرتا۔ باوجود اس کے وہ بار بار اپنا خیال رکھنے کا کہتی اور گھر جلد لوٹنے کی تاکید فرماتی۔ میری عمر گرچہ بچپن ، لڑکپن اوربلوغت سے نکل چکی تھی لیکن ہمیشہ ماں کو تاخیر تشویش میں مبتلا کر دیتی تھی۔ جب میں یہ تذکرہ اپنے دوستوں سے کرتا ہوں تو سب کا یہی نقطہ نظر ہوتا ہے کہ مائیں ہمارا بھی اسی طرح خیال رکھتی ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ میں یہ سُن کر چپ سادھ لیتا ہوں اور دل اپنی ماں سمیت تمام کو دعائیں دینے لگتا ہوں۔

میرے سکول اور کالج کے اوقات کار کا بھی میری ماں کو پتہ ہوتا تھا لہٰذا وہ میری چھوٹی موٹی تاخیر سے پریشان ہو جایا کرتی تھی۔ یہ اسّی کے اور نوے کی دہائیوں کی باتیں ہیں۔ اُس وقت موبائل فون کی وباء ہمارے معاشرے میں وارد نہیں ہوئی تھی۔ پس میری ماں اپنی فکر و پریشانی کم کرنے کے لئے محلے کے کچھ دردمند لوگوں میں سے کسی کو میری خبر گیری کے لئے دوڑا دیتی اور بعض اوقات وہ خود ہمت کرکے مدرسے آجاتی ۔ یوں اُس کی تسلی و تشفی ہوجاتی۔ جب میں یہ تذکرہ اپنے دوستوں سے کرتا ہوں تو وہ بھی تقریباً یہی صورت حال بیان کرتے ہیں۔ بچے عمر کے جس حصے میں بھی ہوں وہ والدین کے لئے چھوٹے یعنی بچے ہی ہوتے ہیں اور اُن کی اس حوالے سے پریشانی بجا ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات ضروری سمجھتا ہوں کہ مدرسوں کی نشست و برخاست کے اوقات متعین ہوتے ہیں اور بچوں کا روزانہ کا معمول والدین کے ذہنوں میں نقش ہوتا ہے۔ البتہ تاخیر کی وجہ اُن کے لئے باعث تشویش ہوتی ہے۔ پس ایسے بچے خود کو خوش قسمت تصور کریں جنہیں اﷲ تعالیٰ نے ایسے والدین عطا کئے۔ میں بھی انہی خوش قسمت بندوں میں سے ہوں۔

میری ماں ایک ناخواندہ دیہاتی خاتون تھیں۔ اُس نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر خود کو شہری ماحول میں ایڈجسٹ کرلیا تھا اور اپنی اسی ذہانت اور اچھی منصوبہ بندی سے مجھ سمیت اپنی تمام اولاد کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کیا۔ اُس کو احساس تھا کہ وہ اگرچہ غربت ، مہنگائی اور دیگر وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کر سکیں لیکن اُس نے جرأت و بہادری ، ذہانت و منصوبہ بندی اور دانائی و عقل مندی سے کام لیتے ہوئے مہنگائی کے طوفانوں اور غربت کی لہروں کو شکست دی اور اپنے بچوں کو نہ صرف پالا پوسا بلکہ اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ یہاں میں اپنی ماں کی بہترین منصوبہ بندی کا ایک واقعہ گوش گزار کرنا چاہتا ہوں جو اکثر مجھے رُلاتا ہے اور مجھے عزم و استحکام کا درس دیتا ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھورنی چاہیے۔

یہ 1994 ء کی بات ہے جب میں بارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میرے کالج کی پروموشن فیس مبلغ 110 روپے واجب الادا تھی اور اُس کی آخری تاریخ سر پر آن پہنچی تھی۔ یاد رہے کہ میرے والد بزرگوار 1993 ء میں رحلت فرما چکے تھے اور اُن کی پنشن کی رقم ہمارے گھریلو اخراجات کے لئے ناکافی تھی۔ مجھے گھر کے مالی حالات کا پتہ تھا اور مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ میری ماں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے ، پھر بھی میں نے صبح کے ناشتے پر ماں سے پروموشن فیس کی بات کی۔ انہوں نے بڑے حوصلے سے میری بات سنی اور کہا ۔ ’’ بیٹا ! کالج جاتے وقت پھوپھی کے گھر آجانا۔ میں وہیں پر موجود ہوں گی ‘‘۔ میرا کالج اور پھوپھی کا گھر ایک ہی رستے میں تھے پس میں اپنی ماں کی ہدایت کے مطابق وہاں جا پہنچا اور کالج فیس کی بات کی۔ تو ماں نے بڑے اعتماد کے ساتھ اپنی تھیلی کھولی جس میں سے محض بیس روپے نکلے۔ ماں نے میرا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ۔ ’’ بیٹا ! یہ پیسے تو کم ہیں، گھر جاتے ہیں اور تم کو فیس کے پیسے پورے کر کے دیتی ہوں ، پھر کالج جا کر جمع کروا لینا ‘‘۔ میری پھوپھی ایک سمجھ دار اور سخی خاتون تھیں۔ انہوں نے میری ماں سے کہا ۔ ’’ اتنی دور گھر جانے کی ضرورت نہیں ہے ، خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ فیس جمع کرنے کی آخری تاریخ گزر جائے ۔ بقیہ رقم میں دے دیتی ہوں ‘‘۔ صبح ناشتے پر ماں کے حوصلے کو یقین میں بدلتے دیکھا۔ ماں نے پھوپھی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ۔ ’’ آپ کے پیسے جلد لوٹا دوں گی ‘‘۔

ماں باپ انسان کے محسنین ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں طرح طرح کی مشقتیں برداشت کرتے ہیں۔ پس اُن کا اولاد پر یہ حق بنتا ہے کہ اُن کی فرمان برداری کی جائے اور ہمیشہ ادب و احترام کے ساتھ پیش آیا جائے۔ فرمان ایزدی ہے ۔ ’’اور تمہارے پروردگار نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُنہیں اُف تک نہ کہو اور نہ جھڑکو اور اُن سے ادب سے بات کرو اور عجز و نیاز سے ان کے سامنے سر تسلیم خم کئے رہو اور اُن کے حق میں دعا کیا کرو ، اے پروردگار ! ان دونوں پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پالا ہے ‘‘۔
 

شمشاد

لائبریرین
بہت خوبصورت، بہت عمدہ تحریر۔ دل کو چھو لینے والی اور آنکھوں کو نمناک کرنے والی تحریر۔

ایسے ہی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جنت ماں کے قدموں تلے نہیں رکھ دی۔
 
بہت خوبصورت، بہت عمدہ تحریر۔ دل کو چھو لینے والی اور آنکھوں کو نمناک کرنے والی تحریر۔

ایسے ہی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جنت ماں کے قدموں تلے نہیں رکھ دی۔
والد صاحب 1993 میں وفات ہوئے. اس کے بعد والدہ 23 برس تک والد کی کمی کو پورا کرتی رہی.
اس کے علاوہ والد صاحب 1980 میں ایک ٹانگ سے معذور ہوئے... یوں پوسٹ مین کی نوکری کو خیر آباد کہا. اس وقت بڑا بھائی پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا. نہایت کٹھن دور...
مزید لکھنے کی سکت نہیں...
 

شمشاد

لائبریرین
پروفیسر صاحب لائق تحسین ہیں آپ کی والدہ محترمہ اور آپ خود بھی کہ اتنے دور کے باوجود آپ ماشاء اتنی تعلیم حاصل کر سکے اور اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہے۔
 
پروفیسر صاحب لائق تحسین ہیں آپ کی والدہ محترمہ اور آپ خود بھی کہ اتنے دور کے باوجود آپ ماشاء اتنی تعلیم حاصل کر سکے اور اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہے۔
ایک بات یہاں شیئر کرنا چاہتا ہوں. جب والد صاحب معذور ہوئے تو رشتہ دار یہ کہتے تھے کہ یہ چھوٹے بچے کیسے بڑے ہوں گے.
 

سیما علی

لائبریرین
پروفیسر صاحب
بہت عمدہ تحریر ماں پر دنیا کی ہر زبان میں لکھا گیا لیکن لگتا ہے پھر بھی کم ہے اور قلم نے انصاف نہ کیا ۔بے حد قابل احترام ہیں آپکی والدہ اور آپ اُنکا قیمتی اثاثہ ہیں ۔دل بہت اُداس ہوجاتا ہے آنکھیں بھر آتیں ہیں اور اپنی معصوم سی والدہ یاد آگئیں آج ہم سب جو کچھ بھی ہیں اُن ہی کی بدولت ہیں ۔اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے پرودگار نے جنت اُنکے قدموں تلے ڈال دی آپ نے سچ لکھا اُن پر لکھتے ہی دل بھاری ہوتا ہے اور آنسو لکھنے میں آڑے آجاتے ہیں ۔۔
سلامت رہیے صالح اور نیک اولاد سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں اور۔ نیک اور صالح اولاد ہیں ۔۔۔بہت ساری دعائیں ۔۔۔۔
 
Top